Go to Top

جاوید چاہدری

جاوید چودھری نے بہت تھوڑی عمر میں ماشاء اﷲبہت بلند رتبہ پا لیا ہے‘ روزنامہ جنگ میں باقاعدگی سے کالم لکھتے ہیں‘ وہ کالم صرف لکھتے ہی نہیں ہیں یہ پڑھا بھی جاتا ہے‘ پڑھنے والوں کو محسوس ہوتا ہے کہ اس پر محنت ہوئی ہے‘ ان کے کالم میں موسیقیت ہوتی ہے‘ یہی اس کا حسن ہے‘ یہی رکھ رکھاؤ ہے۔ جاویدچودھر ی اپنے کالم سے بہت پیار کرتے ہیں۔ ماہنامہ ’شوگر‘ نے قارئینِ شوگر کیلئے جاویدچودھری سے اسلام آباد میں انٹرویو کیا ہارون الرشید کے الفاظ‘ حسن نثار کی تلخی ‘ عطاء الحق قاسمی کی شگفتگی ‘ عبدالقادر حسن کی رومانویت جبکہ ارشاد احمد حقانی کا تجزیہ خوبصورت ہوتا ہے‘ میرے کالم میں کہانی ہوتی ہے

ایک نیم حکیم مجھے سٹیرائیڈز دیتا رہا ٗ ذیابیطس بھی اسی وجہ سے ہوئی : جاوید چودھری

دیہاتی ہوں‘ خاندان میں کوئی سکول نہیں گیا ‘ بڑا بچہ تھا اور جسمانی طور پر کمزور ‘والدین نے سوچا کسی کام کا نہیں لگتا‘ چلو اسے سکول ہی میں داخل کرا دو

کالم سے پیار کرتا ہوں‘ جب دنیا کے بکھیڑے نہیں ہوتے تو اس کا ایک ایک لفظ سنوارتا ہوں‘ الجھی لٹیں سلجھاتا ہوں‘ اسی سنگار میں رات بیت جاتی ہے

میں نے جرنلزم میں ٹاپ کیا اور 1992ء میں صحافت میں آگیا‘ تنخواہ 1800 لگی‘ مقصد اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ ریلو ے اور پی آئی اے کا کرایہ آدھا ہوگا

اللہ تعالیٰ نے اس لئے تو پیدا نہیں کیا کہ پچاس ٹن اناج ایک سو ستر گز کپڑا استعمال کر کے چلا جاؤں‘ مجھے دُنیا میں بھیجے جانے کا کوئی نہ کوئی مقصد تو ہوگا؟

ہم جیسے لوگ چوبیس گھنٹے پریشان رہتے ہیں‘ پریشانی کیلئے گلوبل ایشوز کی ضرورت نہیں ہوتی‘ جہاں حق نہیں ملتا وہیں اُبال آجاتا ہے

پیشاب بہت آتا تھا‘ کمزور ہورہا تھا‘ سٹریس بھی تھا‘ وزن تیزی سے کم ہورہا تھا‘اس دوران شوگر چیک کرائی تو 355 تھی ‘ جوانی میں شوگر کا بہت صدمہ ہوا

لاہور میں ڈایابیٹکس انسٹیٹیوٹ پاکستان اور ہیلپ لائن کی بہت تعریف سنی ہے۔ مجھے تو ایسا ادارہ اسلام آباد میں نہیں ملا‘ اپنا علاج خودہی کررہا ہوں

مرض کوئی بھی ہو علاج میں حوصلے اور قوت ارادی کی ضرورت ہوتی ہے ٗ دوائیاں تب اثر کرتی ہیں جب آپ اندر سے زندہ ہوں

جاوید چودھری نے بہت تھوڑی عمر میں ماشاء اﷲبہت بلند رتبہ پا لیا ہے‘ روزنامہ جنگ میں کالم لکھتے ہیں‘ کالم صرف لکھتے ہی نہیں ہیں یہ پڑھا بھی جاتا ہے‘ پڑھنے والوں کو محسوس ہوتا ہے کہ اس پر محنت ہوئی ہے ‘ان کے کالم میں موسیقیت ہوتی ہے‘ یہی اس کا حسن ہے‘ یہی رکھ رکھاؤ ہے۔ جاویدچودھر ی اپنے کالم سے بہت پیار کرتے ہیں‘رات کو اس وقت لکھتے ہیں جب دنیا کے بکھیڑے ساتھ نہیں ہوتے‘پھر اس کا ایک ایک لفظ سنوارتے ہیں‘اس کی لٹ بار بار سلجھاتے ہیں‘ اسے ہر رخ سے دیکھتے ہیں‘کالم کے اسی سنگار میں رات بیت جاتی ہے ۔

ماہنامہ ’شوگر‘ نے جاویدچودھری سے اسلام آباد میں انٹرویو کیا‘ان سے کالم لکھنے کے لیے رات کا وقت منتخب کرنے کی وجہ پوچھی گئی تو عاجزی سے کہنے لگے’’ نالائق آدمی ہوں‘ میرے لیے کالم لکھنا بہت مشکل ہے‘ الفاظ ٹھیک کرتا رہتا ہوں‘ انہیںآگے پیچھے کرتا رہتا ہوں‘ جب کالم اپنے دفتر فیکس کررہا ہوتا ہوں تو اس وقت بھی اپنے آپ پر لعنت بھیج رہا ہوتا ہوں کہ بڑی واہیات قسم کی چیز لکھی ہے ٗکسی وقت مکمل طور پر مطمئن ہو ہی جاؤں گا ‘ نہ ہوا تو یہ پروفیشن چھوڑ دو ں گا ‘‘کیا ابھی تک کوئی کالم ایسا آیا ہے جس پر آپ بھی مطمئن ہوں؟’’ایک کالم مجھے بڑا پسند ہے جو حضرت فاطمہؓ پر لکھا تھا ‘ اس کالم کا عنوان’’ عورت ‘‘ہے‘ یہ ایک ایسا کالم ہے جو میرے لیے ذریعہ نجات بھی ہوسکتا ہے‘ ایوارڈ مجھے ملا تھا حکیم سعید صاحب کے متعلق کالم ’مدینے کا شہید‘پر۔‘‘

جاوید چودھری یکم جنوری 1968ء کو لالہ موسیٰ کی گاؤں شاہ سرمست میں پیدا ہوئے‘اس طرح ان کاپس منظر دیہاتی ہے‘ان کے خاندان میں ایسا کوئی آدمی نہیں جو کبھی سکول گیا ہو۔’’ میں پورے گھر میں بڑا بچہ تھا اور شروع میں جسمانی طور پر بہت کمزور تھا ‘والدین نے سوچا اور تو کسی کام آنہیں سکتا چلو اسے سکول ہی میں داخل کرا دو‘سکول بھی کوئی خاص نہیں تھا ‘بس برگد کا ایک درخت تھاا ور وہ بھی قبرستان میں‘برگد کے اس درخت کو کسی نے ڈیکلئیر کردیا تھا کہ یہ سکول ہے ٗاس کے بعد ہم شہر آگئے ٗ تعلیم میں کوئی مقصد نہیں تھا ‘ایسا خیال کوئی نہ تھا کہ کوئی توپ چلائیں گے‘ کوئی آپشن تھا اور نہ کوئی ٹارگٹ‘بے مقصدیت کی زندگی تھی‘ میں کمزورہونے کی وجہ سے محسوس کرتا تھا کہ جو لوگ مضبوط ہوتے ہیں وہی کامیاب ہوتے ہیں‘اس خیال سے اپنے آپ کو ایک نیم حکیم کے حوالے کر دیا جو مجھے ’’طاقتور‘‘ بنانے کیلئے سٹیرائیڈز دیتا رہا ٗ شاید ذیابیطس بھی مجھے اسی وجہ سے ہوئی ٗ یہ خمیازہ بھگتنے کے بعد میں نے سوچا کہ جسمانی طور پر نہ سہی ذہنی طور پر ہی طاقتور بن جائیں ٗ یہ سوچ کرمیں نے بے انتہا پڑھنا شروع کردیا ٗاس سے یہ ہوا کہ چھوٹی ہی عمرمیں طالب علمی کی سطح سے نکل گیا‘ زیادہ تراساتذہ کی صحبت اختیا ر کی‘ ان لوگوں کے ساتھ میری زیادہ دوستی ہوگئی۔

پھر اس کے بعد نہ جانے کہاں کہاں سے گزر گیا ٗبی اے جرنلزم کے سا تھ کیا ‘ میری خوش قسمتی تھی یا بہاولپور یونیورسٹی کی بدقسمتی کہ میں نے جرنلزم میں ٹاپ کیا اور 1992ء میں عملی صحافت میں آگیا‘‘ جاوید چودھری کے جرنلزم میں آنے کا کوئی خاص مقصد نہیں تھا‘بس کالج میں ایک دوست نے بتایا کہ اخبارات میں ملازمت کرنے کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ریلو ے اور پی آئی اے کا کرایہ آدھا ہوتا ہے۔

نوا ئے وقت والوں نے انہیں حمید نظامی ایوارڈبھی دیا تھالہٰذا آغازنوائے وقت لاہور میں ٹرینی سب ایڈیٹر کے طور پرکیا‘ لوگوں نے خاصی عزت افزائی کی لیکن پیسے بہت کم ملتے تھے ٗ تنخواہ 1992ء میں1800 روپے تھی‘ ’’میں مجید نظامی صاحب کے پاس دوبارہ گیا اور کہا کہ میں لاہور کا نہیں بلکہ باہر کا رہنے والا ہوں ‘اتنے پیسوں میں تو کمرے کا کرایہ بھی نہیں دے سکتا ‘ اس لیے گزارہ مشکل ہے تو انہوں نے 6 ماہ بعد200 روپے بڑھا دیئے گئے لیکن مجھے محسوس ہوا کہ گزارہ نہیں ہوسکتا ‘ اس وجہ سے میں نے نوائے وقت چھوڑ دیا‘‘۔

جاوید چودھری صحافت میں آکر شروع میں ڈیپریس رہے مگر رفتہ رفتہ ان کے لیے ترقی کے دوازے کھلتے گئے‘1993ء میں اسلام آباد سے روزنامہ پاکستان نکلا تو وہاں سب ایڈیٹر ہو گئے‘پھر نیوز ایڈیٹر بن گئے‘ 1997 ء میں روزنامہ پاکستان سے فارغ کر دیا گیا تو خلیل ملک کے مشورے پر روزنامہ خبریں کے لئے کالم لکھنا شروع کیا۔ ان دنوں امریکہ میں ایک وکیل نے پاکستان کو گالی دی تھی ‘اس پر کالم لکھا‘ اس پر بے انتہافیڈ بیک آیا اور سینئر لوگوں نے کہاکہ تم کالمسٹ بن چکے ہوٗ درحقیقت انہوں نے اس دن کے بعد ہی کالم لکھنا شروع کیا۔

’’اس سے پہلے میں سارے کالم نگاروں کو مسلسل پڑھتا تھا‘مجھے یہ پتا چلا کہ ہارون الرشید کے الفاظ بہت خوبصورت ہوتے ہیں‘ حسن نثار کی تحریر میں بے انتہاتلخی ہے ‘ اس کی وجہ سے لوگ انہیں پسند کرتے ہیں‘عطا ء الحق قاسمی کی تحریر میں شگفتگی ہے‘ ڈائریکٹ بات نہیں کرتے ‘ایک طنز بنا کے راز سے بات کرتے ہیں ٗاسی طرح مجھے عبدالقادر حسن کا پتاچلا کہ وہ کرنٹ ایشوز پر لکھتے ہیں جس میں رومانیت بہت زیادہ ہوتی ہے جبکہ ارشاد احمد حقانی کی تحریر میں تجزیہ ہوتا ہے‘ میں نے یہ سوچا کہ ان میں سے کسی کی کاپی کرکے میں سروائیو نہیں کرسکتا ٗکوئی نئی چیز اور انوکھا پن ہونا چاہیئے ‘ میں نے کالم کو کہانی کی طرز پر لکھنا شروع کیا ٗاللہ تعالیٰ نے کرم کیا اور میرے کالموں میں وزن پیدا ہوگیا‘ تحریر میں روانی آگئی ‘ اس کے بعد سے یہ سلسلہ چل رہا ہے ‘ میرے کالم کا انداز واقعاتی ہوتا ہے ‘قارئین ا سے پڑھ لیتے ہیں‘‘۔

لوگوں کا کیا ردعمل ہوتا ہے ؟’’میرے کالموں پر کچھ لوگ خوش ہوتے ہیں کچھ ناراض ‘ ملا جلا رد عمل ہوتا ہے ‘ میں نے اندازہ لگایا ہے کہ مجموعی طورپر لوگ پسند کرتے ہیں‘بعض لوگ جب ملتے ہیں تو ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں‘‘ آپ سوسائٹی میں اٹھتے بیٹھتے ہیں ‘ایک رول کرتے ہیں تو سیاست کا کوئی تجربہ ہوا کہ یہ کس طرح کی چیز ہے؟ پاکستان میں یہ بری چیز ہے‘ اس میں منافقت ہے جو پورے پاکستان کا مسئلہ ہے‘ ‘کہیں بہتری کی کوئی گنجائش موجود ہے یا نہیں؟’’جب قوموں کو کوئی لیڈ ر مل جاتا ہے توان کے برے لوگ بھی اچھے ہوجاتے ہیں‘ ہماری سوسائٹی میں بے انتہا خرابیاں ہیں لیکن ان پر قابو پایا جاسکتا ہے اور اسے مثبت بنایا جاسکتا ہے ٗ لیکن فی الحال تو ضرورت ہے کہ کہیں سے کوئی لیڈر نکل آئے۔‘‘

جاوید چودھری زندگی بھر کسی ترتیب سے نہیں چلے‘وہ بارانی علاقے کے رہنے والے ہیں‘وہاں کے باشندوں میں اپنے طور پرپلاننگ نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی‘وہاں کا کسان بس ہل چلاتا ہے‘بیج پھینکتا ہے اور باقی سب کچھ خدا پر چھوڑ دیتا ہے‘ ’’میرے نزدیک یہ ایک سوال ہے کہ میں دنیا میں کیوں ہوں؟ مجھے اللہ تعالیٰ نے اس لئے تو پیدا نہیں کیا کہ پچاس ٹن اناج کھا کر چلا جاؤں یا ایک سو ستر گز کپڑا استعمال کر جاؤں وغیرہ ‘ ظاہر ہے کہ مجھے دنیا میں بھیجے جانے کا کوئی نہ کوئی مقصد تو ہوگا‘ یہ چیز مجھے بہت تنگ کرتی ہے‘‘ ۔دنیا کے جھمیلوں سے ہٹ کر اپنے آپ کے ساتھ باتیں کرنے کے لیے کوئی فرصت ملتی ہے تو اندر کا جاوید کیا کہتا ہے؟ ’’خداکاشکر ادا کرتا ہے‘‘ آگے کیا کرنے کا اردہ ہے؟ ’’ کتابیں لکھوں گا‘ میراخیال ہے کہ یہ اچھی چیز ہے ‘اگر آپ دنیا کو چھوڑ کرچلے جاتے ہیں تو کتابیں اثاثہ ہوتی ہیں۔‘ ‘

آپ کے مشاغل کیا ہیں‘ اور ریلیکس کیسے کرتے ہیں؟’’ریلیکس کہاں کرتا ہوں‘ مسلسل ٹینشن میں رہتا ہوں ‘ہم جیسے لوگ چوبیس گھنٹے پریشان رہتے ہیں ٗایک پریشانی ختم ہوجائے تو کوئی نئی پریشانی پیدا کر لیتے ہیں‘‘لمحات کے طور پر تو کوئی چیزسٹرائیک کرتی ہوگی کہ یہ اچھا لمحہ ہے ’’اچھی کتاب پڑھنا‘مثلاً ایک کتاب مجھے اتنی اچھی لگی کہ میں کل سے پڑھ رہا ہوں ٗ دوستوں سے گپ شپ کرلیتا ہوں‘ کوئی نیا لطیفہ مارکیٹ میں آئے تو اس سے بڑی خوشی ہوتی ہے ‘ غصے میں زیادہ پریشان ہوجاتا ہوں لیکن آہستہ آہستہ کول ڈاؤن ہوجاتا ہوں‘‘۔ کونسی بات غصہ دلا دیتی ہے؟’’انا پرست لوگوں کو غصہ دلانے کے لئے گلوبل ایشوز کی ضرورت نہیں ہوتی‘ جہاں انہیں اپنا حق نہیں ملتا وہاں انہیں ابال آجاتا ہے‘‘۔
شادی ہوگئی ؟ بیوی کے ساتھ معاملات کیسے چل رہے ہیں؟گھر چلانے کی ذمہ داری کس پر ہے؟ ’’معا ملات ٹھیک چل رہے ہیں‘ بیو ی سے مکمل طور پر اتفاق کرتا ہوں‘ گھر چلانے کی ذمہ داری انہی پر ہے‘ میرے تین بچے ہیں‘ ‘انہیں آپ کیا بنانا چاہیں گے؟’’کچھ بھی نہیں‘ اس پر یقین نہیں رکھتا‘ بہت برا والد ہوں‘ بچوں پرکو ئی توجہ نہیں دی ‘ بس یہ کیاہے کہ اچھے سکولوں میں داخل کروادیا لیکن انہیں کمپنی نہیں دے سکتا ‘ ذرا سی بھی فرصت ہو تو کوئی نہ کوئی چیز اٹھا کر پڑھنا شروع کردیتا ہوں‘‘۔

آپ کو شوگر بھی تو ہے‘کیسے پتا چلا؟’’ 1997 ء میں اس کی تشخیص ہوئی تھی‘ مجھے شوگر کے بارے میں بالکل پتا نہیں تھا ٗ اس کی علامات کیاہوتی ہیں؟مجھے پیشاب بہت زیادہ آتا تھا ‘مجھے لوگ کہتے تھے کہ تم کمزور بہت زیادہ ہورہے ہو‘ اس وقت میں سٹریس میں تھا ‘ محسوس کرتا تھا کہ یہ کیفیت ٹینشن کی وجہ سے ہے لیکن وزن تیزی سے کم ہورہا تھا‘اس دوران شوگر چیک کرائی تو 355 تھی ‘اس عمر میں شوگر ہوجانامیرے لئے بہت صدمہ تھا ‘پہلے تو مجھے یہ اندازہ ہی نہیں تھا کہ جوانی میں بھی شوگر ہوسکتی ہے‘ کچھ لوگوں نے بتایا کہ اس میں دوائی مسلسل لینا پڑتی ہے ‘میں ڈاکٹر کے پاس گیا تو انہوں نے کہا کہ آپ کو ٹائپ I شوگر ہے‘ ا س میں انسو لین لگاناپڑے گی‘ میں نے کہا کہ ٹیکا تو میں نے نہیں لگانا ‘ اس پر انہوں نے گولیاں شروع کرادیں ٗ کچھ عرصے بعد ڈسپلن میں آگیاتومیری شوگر کم ہونا شروع ہوئی ‘ میں نے محسوس کیاکہ گرمیوں میں میری شوگر ٹھیک رہتی ہے اور سردیوں میں زیادہ ٗمیں نے کئی گولیاں بدلی ہیں ٗ شوگر کبھی ٹھیک رہتی ہیکبھی ٹھیک نہیں رہتی۔ آج صبح فاسٹنگ میں 127تھی لیکن شام کو اکثر250ہوتی ہے ‘‘جب آپ کو ذیابیطس ہوئی تو آپ نے اسے ذہنی طور پر قبول کرلیا تھا؟’’آدمی مجبور ہوتاہے‘ قبول تو کرنا ہی تھا‘‘ آپ نے انسولین شروع کیوں نہیں کی؟ ’’اس کی وجہ پاکستان کا کلچر ہے‘ آپ کو پتاہے کہ کوئی بھی ٹیکا لگوانے کے لئے تیار نہیں ہوتا ‘ اس کا خوف ہوتا ہے‘‘۔

اگرتکلیفوں کی شد ت زیادہ ہو جائے تو؟ ’’مجبور ی میں تو سب کچھ کرتے ہیں ‘مجبوری میں تو لوگ اپنے اعضا ء بھی کٹوا دیتے ہیں ‘آدمی زندگی بچانے کے لیے تو سب کچھ کر سکتا ہے ‘‘ہفتے میں شوگر کتنی مرتبہ چیک کرتے ہیں؟’’ایک مرتبہ‘‘کیا ایلوپیتھک کے علاوہ دوسرے علاج بھی کروائے؟’’بہت زیادہ‘میں لٹریچر پڑھتا رہتا ہوں ‘بی ٹا سیلز کے بارے میں پتاہے‘ذیابیطس میں ہر پیشرفت کا پتا ہے لیکن خود اچھے علاج میں نہیں ہوں ٗ کافی لاپرواہی برت رہا ہوں ٗکیلیفورنیا میں ریسرچ ہوئی کہ دارچینی کاقہوہ پینے سے شوگر کا معاملہ بہتر ہو جاتا ہے ‘ یہ مجھے پتا ہے لیکن یہ نہیں پتا کہ انسولین میرے لئے ضروری ہے‘ اس کے علاوہ ہربل میڈیسن استعمال کرنے کے لئے میں ہردم تیار رہتا ہوں۔ لوگ دیسی دوائیاں لاکر دیتے رہتے ہیں اور میں کھاتا رہتا ہوں ٗاس سے میری شوگر کئی بار ٹھیک بھی ہوگئیٗ (پھر ہنستے ہوئے کہا) کیا آپ کو میرا یہ تجزیہ اچھا نہیں لگا کہ میری شوگر کئی بار ٹھیک ہوئی ہے؟ میں نے پی ایچ ڈی لوگوں کو تعویز پیتے اور بابوں سے پھونکیں مرواتے دیکھاہے ‘مریض چاہتا ہے کہ کوئی چیزایسی ہو جس سے وہ ٹھیک ہو جائے ایلوپیتھی میں کوئی دوا ایسی نہیں جو اس مرض کو جڑ سے اکھاڑ سکے۔ ‘‘

کچھ اور لوگوں کا خیال ہے وہ ایسا کرسکتے ہیں ٗآپ کیا سوچتے ہیں ؟’’یقیناًدنیا میں کوئی ایسا مرض نہیں بنا جس کا علاج نہ ہو ‘ذیابیطس کے متعلق ابھی نہیں لیکن کبھی ضرور ایسا ہو گا ‘لوگ تو اب بھی دعو ےٰ کرتے ہیں‘ سرگودھا سے ایک بندہ آیا اور اس نے کہا کہ آپ کو شوگر ہے تو مجھ سے دوائی لے لیں‘ وہ ٹرکوں کے اڈے پر دو ا ئی تقسیم کرتا ہے جس سے لوگ ٹھیک ہو جاتے ہیں‘ وہ کہتا ہے کہ ٹھیک پانچ بجے دوائی لینی ہے اور صرف ایک ہفتہ کھانی ہے ‘دوائی کے بعد کو ئی پھل نہیں کھانا ‘مرغی نہیں کھانی‘ میں نے دوائی کھائی لیکن کام نہیں بنا شاید میں نے پونے پانچ بجے کھالی تھی‘‘۔

علاج کے معاملے میں ہم سائنس کو پیچھے کیوں پھینک دیتے ہیں ‘اس کی کیا وجہ ہے؟’’ایک تو یہ کہ ہر انسان اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ دنیا میں معجزہ ہوسکتا ہے ‘آپ بھی اس چیز کے قائل ہوں گے‘ بیشتر مریض بنیادی طور پر ٹھیک ہونا چاہتے ہیں‘ اس لیے چیک کرتے رہتے ہیں ٗ جو آدمی کسی مسئلے میں پھنسا ہوتا ہے اس کی نظر میں کوئی تھراپی نہیں ہوتی‘ وہ صرف صحت یاب ہونا چاہتا ہے ٗمیرا آنکھوں دیکھا واقعہ ہے ایک لیڈی ڈاکٹر کاکوئی بچہ نہیں تھا‘ وہ میاں بیوی پانی دم کرانے کیلئے بابا ملتانی کے پاس آئے تھے ‘‘دیکھا جائے تو معجزوں کے وقوع پذیر ہونے کی شرح کیاہے ؟

ہمارے ہاں جو ہیلتھ کیئر سسٹم چل رہا ہے‘ اس کے بارے میں آپ کا عمومی تاثر کیا ہے؟’’ صحت کے متعلق آگاہی یااحساس نہیں ہے‘ اب آپ دیکھ لیں کہ کتنے لوگ پانی ابال کر پیتے ہیں ٗلوگ جب بیمار ہوتے ہیں تو علاج کیلئے کہیں بھی چلے جاتے ہیں ٗ یہ بھی نہیں دیکھتے کہ آیا وہ میٹرک پاس بھی ہے یا نہیں۔‘‘ ایسے مریض جن کی بیماری بگڑی ہوئی ہوتی ہے وہ توایلوپیتھک ڈاکٹروں کے پاس آتے ہیں خاص طور پر جب ایمرجنسی ہو‘ جیسے شوگر کا مریض جو غشی میں چلا گیاہو۔’’ایلوپیتھی ایمرجنسی کا ٹریٹمنٹ ہے اس میں کوئی شک نہیں‘ سرجری میں بھی اس کا کوئی جواب نہیں ‘ ایک پڑیا سے کینسر ختم کرنے کا دعویٰ کسی بھی طرف سے آئے وہ مریض کے ساتھ زیادتی ہے ‘یہ تو دکانداری ہے ‘ ہیپاٹائٹس سی کے لئے پڑیا ں ملتی ہیں ‘ یہ مریض کے ساتھ ظلم ہے۔ ‘‘بعض لوگ مریض کو گمراہ کردیتے ہیں ‘لالچ دیتے ہیں ‘اچھے خواب دکھاتے ہیں۔’’لیکن اس بات کا یہ پہلو بھی ہے کہ مریض ان لوگوں کے پاس جاتے کیوں ہیں‘دراصل وہ ان کے دل کی بات کرتے ہیں ۔‘‘

آپ چار سال سے ذیابیطس کے مریض ہیں تو آپ کا کیا تجربہ ہے کہ ہمارے ملک میں شوگر کا علاج کیسا ہے؟’’ظاہر ہے اچھانہیں ہے مثلاً اسلام آباد میں رہ کر مجھے تو کوئی اچھا ڈاکٹر نہیں ملا جومجھے ٹھیک طریقے سے گائیڈ کرسکے ‘میں جتنے ڈاکٹروں کے پاس گیا ہوں میرے پاس ان سے زیادہ معلومات تھیں ‘اچھے فزیشن میسرنہیں ہیں ‘ اسلام آباد جو پاکستان کا دارالحکومت ہے یہاں یہ حال ہے تو دوسرے علاقوں میں کیا ہوگا؟ اس سے ہم بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں ٗ یہی وجہ ہے کہ میری بلڈ شوگر صبح سدھری رہتی ہے اور شام کو بگڑی رہتی ہے۔‘‘

ماہنامہ ’شوگر‘ کے بارے میں آپ کے کیا تاثرات ہیں؟’’ماہنامہ شوگر کے دوشمارے پڑھے ہیں‘ لاہور میں ڈایابیٹکس انسٹیٹیوٹ پاکستان کی بھی بہت تعریف سنی ہے ۔ خاص طور پر اس کی ہیلپ لائن کی بہت افادیت سنی ہے ٗ مجھے تو ایسا ادارہ اسلام آباد میں نہیں ملا اور میں اپنا علاج خودہی کررہا ہوں‘ پاکستان کو ڈایابیٹکس انسٹیٹیوٹ جیسے اداروں کی ضرورت ہے ۔‘‘

کوئی پیغام ؟کیاآپ کے تجربے میں کوئی ایسی بات ہے جو آپ چاہتے ہیں کہ لوگ نہ دہرائیں؟ ’’مرض کوئی بھی ہو علاج میں حوصلے اور قوت ارادی کی ضرورت ہوتی ہے ٗ دوائیاں تب اثر کرتی ہیں جب آپ اندر سے زندہ ہوں ٗ جب تک مریض یہ ذمہ داری قبول نہیں کرتااس کا علاج ممکن نہیں ٗ آخری بات یہ کہ ڈاکٹر چنیں تو ذرا سوچ سمجھ کر ٗ باقی آپ خود سمجھ دار ہیں‘‘۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *