Go to Top

Dr. Shoukat Mehmood

ذیابیطس کو نہ چھپانا ہی اسکا آدھا علاج ہے‘ ڈاکٹر شوکت محمود میکسمسب کو بتا دینا چاہئیے کہ شوگر ہے تاکہ کوئی میٹھا کھانے پر مجبور نہ کرے‘ پرہیز کرتا ہوں اسی لیے صرف آدھی گولی روزانہ کی ضرورت پڑتی ہےمیری ذیابیطس بینظیر بھٹو کا دیا ہوا تحفہ ہے‘ شوگر ہوئی تو کچھ لوگ ہنس دیے، کچھ نے اظہارِ افسوس کیا لیکن میرے معمولات متاثر نہ ہوئےآرٹ پر بھی مافیا کا قبضہ ہے، ’’بوتل‘‘ ہاتھ میں لے کر قرآنی آیات لکھی جاتی ہیں، شاکر علی اور صادقین کے علاوہ دیگر نام بھی آتے ہیںہمارا ملک سفارشیوں کی جنت ہے اور شراب و شباب سِکّہ رائج الوقت، ایچیسن کالج اور این سی اے کا پرنسپل منتخب ہوا مگر سفارشی بازی لے گئے طالبان نہیں مسلمان ضرور ہوں،

کرپشن خونیں انقلاب کے ذریعے ختم ہو سکتی ہے، پچیس تیس لاکھ کرپٹ، شرابی، کبابی پھانسی پر لٹکا دیے جائیںہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے اور ہر ناکام مرد کے پیچھے ایک سے زیادہ عورتوں کا، جنگ اور محبت میں سب جائز نہیں ہوتاایم اے کی ایک کلاس فیلو بڑی خوبصورت تھی، باتیں کرتے مگر شادی کا ذکر کبھی نہ کیا، چھ سال بعد شادی ہوگئی، تفصیلی انٹرویو صفحہ2 پر پڑھئیےڈاکٹر شوکت محمود میں خوبیاں تو اور بھی بہت ہیں لیکن انہیں شہرت بطور کارٹونسٹ حاصل ہوئی‘ وہ طویل عرصے سے ’’نوائے وقت‘‘ اور ’’دی نیشن‘‘ کے لیے کارٹون بنا رہے ہیں‘ ان کارٹونوں میں وہ اتنا کچھ کہہ جاتے ہیں جتنا کہ لفظوں میں نہیں کہا جا سکتا اور جب وہ لفظوں میں کہنے پر آتے ہیں تو کارٹون کی چند لفظی ’’پنچ لائن‘‘ ہی میں بخیے ادھیڑ کر رکھ دیتے ہیں۔

وقت کے ساتھ ساتھ ان کی شہرت ملکی سرحدوں سے نکل کر عالمی افق کو چھونے لگی۔ڈاکٹر شوکت محمود 14اگست 1940ء کو پشاور میں پیدا ہوئے‘ چوتھی تک تعلیم راولپنڈی میں حاصل کی ٗاس کے بعد ان کے والد صاحب کا تباد لہ لاہور ہوگیا۔سکول ‘کالج اور یونیورسٹی کی تعلیم لاہور میں مکمل کی۔ایف اے سے ایم اے تک گورنمنٹ کالج میں پڑھے۔ ایم اے میں پنجاب یونیورسٹی میں فرسٹ آ کر گولڈ میڈل اور رول آف آنر لیا۔1956ء سے 1962ء تک کا عرصہ گورنمنٹ کالج میں گزرا ۔1962ء میں انجینئرنگ یونیورسٹی بطور لیکچرر جوائن کی۔1976ء میں ایم ایس سی اور پی ایچ ڈی کرنے ایڈن برگ (انگلینڈ) چلے گئے۔ واپسی پر انجینئرنگ یونیورسٹی میں آرکیٹکچر ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ بن گئے لیکن ایک سال بعد ہی ڈیپوٹیشن پر جدہ کی کنگ عبد العزیز یونیورسٹی چلے گئے۔ وہاں سے 1986ء میں واپس آکر انجینئر نگ یونیورسٹی میں ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ بنے ٗ بعد میں ڈین بن گئے۔ 2001ء میں اسلامک یونیورسٹی کوالالمپور(ملائیشیا )میں پروفیسر بن کر گئے اور ابھی تک وہیں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

ڈاکٹر شوکت محمود کی شادی 1968ء میں ہوئی۔ دو بچے ہیں ٗ ایک لڑکا ایک لڑکی ٗدونوں شادی شدہ ہیں۔ بہو جنرل بختیار رانا کی پوتی ہیں اور داماد یو اے جی عیسانی کے بیٹے ہیں۔ عیسانی صاحب چیف سیکریٹری سرحد بنے اور پھر محمد خان جونیجو اور بینظیر بھٹو کے پرنسپل سیکریٹری رہے۔ 2001ء میں 14اگست کو حکومت نے ڈاکٹر شوکت محمود کو کارٹون بنانے کے شعبے میں خدمات کے طور پر پرائیڈ آف پر فارمنس دیا۔ اتنے بڑے رتبے پر پہنچنے والی یہ شخصیت کئی کٹھن مراحل سے گزر کر اس مقام تک آئی ہے۔

’’ابھی میں بی اے میں تھا کہ والد صاحب ریٹائر ہوگئے۔ وہ اگرچہ انکم ٹیکس میں آفیسر تھے لیکن مال وال کوئی نہ تھا۔اس وقت رشوت کا رواج نہ تھا۔آج کل تو محکمہ انکم ٹیکس کا کلرک بھی ان سے کئی گنا امیر ہوتا ہے۔والد صاحب کی ریٹائر منٹ کے وقت نہ کوئی گھر تھا نہ کوئی ٹھکانا ۔پنشن بھی بہت کم تھی صرف 150روپے۔تب والد صاحب نے مجھے کہا کہ پڑھنا ہے تو اپنے پیروں پر کھڑے ہو کر پڑھو۔میں نے اپنے ایک استاد سے بات کی ٗ انہوں نے مجھے ایک ہفت روزہ میں کارٹونسٹ کا کام دلا دیا ٗ50روپے ماہانہ میں کوئی 50کارٹون بناتا تھا۔پھر اخبار سول اینڈ ملٹری گزٹ میں 250 روپے ماہوار پر ایک اور پارٹ ٹائم جاب مل گئی‘‘۔

زیادہ تر لوگ ڈاکٹر شوکت محمود کو ان کے اصل نام کی بجائے قلمی نام ’’میکسم‘‘ سے پہچانتے ہیں۔ شاید بہت کم لوگوں کو پتا ہو گا کہ یہ قلمی نام کیسے رکھا گیا۔ ’’منیر نیازی ان دنوں ’’ڈائریکٹر‘‘نام کا ایک فلمی رسالہ نکالتے تھے ٗ انہوں نے بھی پارٹ ٹائم جاب دے دی۔ یوں وارے نیارے ہو گئے اور کارٹون بنا بنا کر پیسے کمانے کا چسکا پڑ گیا۔ان دنوں روسی رائیٹر میکسم گورکی کی بہت سی کتابیں اردو میں ترجمہ ہوئیں ۔ایک دن منیرنیازی نے مجھے کہا کہ یار تم کارٹون پر اتنا لمبا نام لکھتے ہو، کوئی تخلص رکھ لو، تم اپنا نام میکسم شوکی رکھ لو۔ مجھے بات اچھی لگی تب میں نے کارٹون کے نیچے میکسم شوکی لکھنا شروع کر دیا‘پھر شوکی ختم ہو گیا صرف میکسم رہ گیا۔آپ مانیں گے نہیں لیکن جب میرے کارٹونوں کا کہیں وجود بھی نہ تھا تب ایک نجومی نے میرا ہاتھ دیکھ کر کہا تھا کہ تمہاری 2 شادیاں ہوں گی اور 13بچے۔ تمہیں بڑی شہرت ملے گی لیکن اس نام سے نہیں جو تمہارے ماں باپ نے رکھا ہے۔ 2 شادیاں اور 13بچے تو نہیں ہوئے(اچھا ہی ہوا)البتہ شہرت واقعی ایسے نام سے ملی جو والدین نے نہیں رکھا تھا‘‘۔

ڈاکٹر شوکت محمود کی شادی ان کی پسند سے ہوئی مگر معاملہ ہے بڑا دلچسپ ’’شادی کے لئے بڑا لمبا چکر چلانا پڑا۔ایم اے میں میرے ساتھ ایک لڑکی پڑھتی تھی‘ خوبصورت بہت تھی اور کسی کو گھاس نہیں ڈالتی تھی۔مجھے بڑی اچھی لگی لہٰذا ایک دن میں نے اس سے گپ شپ شروع کر دی ۔ہم دیر تک باتیں کرتے رہے ٗ مجھے محسوس ہوا کہ وہ ذرا بھی مغرور نہیں ۔پھر یہی گپ شپ روزانہ ہونے لگی۔ باتوں باتوں میں مجھے پتا چلا کہ وہ تو سید گھرانے کی ہے جو خاندان سے باہر شادیاں نہیں کرتا۔جب ہم ایم اے پاس کرنے کے بعد رخصت ہونے لگے تو میں نے اسے کہا کہ میرا ارادہ آپ سے شادی کرنے کا تھا لیکن آپ کے خاندان کی پابندیوں نے مایوس کیا ہے۔
یہ سن کر وہ بولی میرا ارادہ بھی تمہارے ساتھ شادی کا ہوا لیکن خاندان کی رسموں کی وجہ سے میں نے کبھی اظہار نہیں کیا۔ میں نے کہا کیوں نہ کوشش کر دیکھیں۔ یہ کہہ کر ہم ایک دوسرے سے جدا ہوگئے۔ 1962ء سے 1968ء تک ایک دوسرے سے نہیں ملے۔کبھی اتفاقاً آمنا سامنا ہو گیا یا فون پر بات بس‘ اس سے زیادہ کچھ نہیں، نہ کوئی ڈیٹنگ نہ کوئی ہوٹلنگ ۔دونوں نے ماں باپ سے ذکر کیا ٗ اللہ کی مرضی تھی ٗ تھوڑی سی مزاحمت کے بعدوہ مان گئے‘شادی ہو گئی اور اللہ کے فضل سے آج تک ٹھیک جا رہی ہے۔میری کامیابیوں میں میری بیوی کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔وہ پانچ وقت کی نمازی اور بے حد دیانت دار ہے۔زکوٰۃ دینے کی چیمپئن ہے‘ بعض دفعہ تو زکوٰۃ اتنی بن جاتی ہے کہ میرے جیساشوم سوچتا ہے کہ چلو کیا زکوٰ ۃ دینی ہے لیکن وہ مجھے کوتاہی نہیں کرنے دیتی۔شادی کے چند روز بعد ہی ایک دن اس نے مجھے کہا تھا’’دیکھونہ کبھی خود حرام کھانا ‘ نہ مجھے کھلانا اورنہ ہی میرے بچوں کو۔‘‘ اس وقت بچوں کا نام و نشان بھی نہیں تھا۔بیوی کی نصیحت مجھے آج تک یاد ہے اور اس پر برابر عمل کر رہا ہوں ۔اگر میں کامیاب مرد ہوں تو یہی کہوں گا ’’ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے۔‘‘

لوگ سمجھتے ہیں کہ ڈاکٹر شوکت محمود فن کی دنیا میں جس مرتبے پر فائز ہیں اس کے پس منظر میں ان کی بڑی لگن ہوگی مگر وہاں تو کچھ اور ہی صورتحال ہے۔ ’’فنونِ لطیفہ میں میری دلچسپی زیادہ نہیں۔ سچ پوچھیں تو کارٹون بھی مجبوری سے بنانے شروع کیے تھے تاکہ پڑھائی جاری رکھ سکوں ۔بعد میں یہ ایسے چمٹے کہ اب ان سے چولی دامن کا ساتھ ہو گیا ہے۔پرانے گانوں سے مجھے بہت دلچسپی ہے خاص کر وہ گانے جو پنکج ملک، سی.ایچ.آتما، سہگل، ہیمنت کمار، جگ موہن اور کے سی ڈے نے گائے ہیں ۔کلاسیکل بلکہ نیم کلاسیکل گانوں سے بھی دلچسپی رکھتا ہوں، بس اور کچھ نہیں۔شاعری سے کوئی لگاؤ نہیں‘‘۔
ڈاکٹر شوکت محمود بڑی پڑھی لکھی فیملی سے تعلق رکھتے ہیں‘ دادا بہت بڑے تاریخ دان تھے اور عربی فارسی کے ماہر۔انہوں نے تاریخ کی کتابیں بھی لکھیں۔ انگریزوں نے انہیں قاضی مقرر کیا تھا۔وہ بہت بڑے خوش نویس بھی تھے۔ چچا علی گڑھ کے ایم اے انگلش تھے ٗ وہ اسلامیہ کالج پشاور کے وائس پرنسپل بھی رہے۔ایک تایا بھی علی گڑھ کے پڑھے ہوئے تھے۔ ان کے پاس اس وقت بھی موٹر سائیکل تھی جب سارے ہندوستان میں درجن بھر موٹر سائیکلیں تھیں۔
ڈاکٹر شوکت محمود اپنی مخصوص سوچ رکھنے والے شخص ہیں۔

’’میری زندگی کا مقصد بڑا سیدھا سادا ہے کہ کسی طرح میرے ملک سے کرپشن ختم ہو جائے۔بطور ایک کارٹونسٹ کے میں نے اس محاذ پر بہت لمبی جنگ لڑی ہے جو اب بھی جاری ہے۔ 1994ء میں صرف اور صرف میرٹ پر نیشنل کالج آف آرٹس کا پرنسپل منتخب ہواتھا لیکن بینظیر بھٹو نے میرے ساتھ بے ایمانی کی اور ایک نا اہل اور نان کوالیفائیڈ خاتون کو یہ پوسٹ دے دی۔میں ایچی سن کالج کا پرنسپل بھی لگنے لگا تھاوہاں بھی ایک سفارشی بازی لے گیا۔ہمارا ملک سفارشیوں کی جنت ہے۔ کچھ لوگوں کے لئے شراب اور شباب سکہ رائج الوقت ہیں اور وہ انہی کے سہارے بازیاں جیتتے ہیں جبکہ میرٹ آپ کا منہ چڑاتی رہ جاتی ہے۔جب تک ملک میں یہ کچھ ہوتا رہے گامیری زندگی کا مقصد پورا نہیں ہوگا۔ موجودہ ٹارگٹ تو بڑا عظیم اور خطرناک ہے کہ کسی طرح ہم مسلمانوں کو کوئی اچھا لیڈر مل جائے۔میں صرف پاکستان کی بات نہیں کر رہابلکہ سارے عالم اسلام کی بات کر رہا ہوں۔تمام اسلامی ملکوں کے لیڈر ٹونی بلیئر بنے ہوئے ہیں اور امریکہ کے پاؤں چاٹ رہے ہیں۔امریکہ ہر جگہ مسلمانوں کی مٹی پلید کر رہا ہے اور ہماراکوئی لیڈر بیان تک دینے کی جرأت نہیں کرتا۔ عرب ملکوں کے امیر اور شیخ گدھے گھوڑے بیچ کر سو رہے ہیں۔امریکہ نے ہر جگہ مسلمانوں کو مارا ہے‘لاکھوں بے گناہ شہری اس نے قتل کیے ہیں پھر بھی وہ مہذب کہلاتا ہے۔کوئی مائی کا لال مسلمان حکمران نہیں بولتا۔اسلامی ملکوں کے حکمرانوں کو صرف اپنی اپنی کرسی پیاری ہے باقی اللہ اللہ خیر سلّہ۔ میری زندگی کا موجودہ ٹارگٹ اس ذلت سے نکلنے کا ہے لیکن یہ چھوٹا منہ اور بڑی بات والا معاملہ ہے بس ’’قہر درویش بر جان درویش‘‘۔ کوئی تو محمدبن قاسم نکلے‘کوئی تو طارق بن زیادنکلے‘کوئی تو صلاح الدین ایوبی نکلے ‘کوئی تو ٹیپو سلطان نکلے‘‘۔
ہم نے ڈاکٹر شوکت محمود سے کئی مختصر سوالات بھی کیے جن میں سے بعض کے جوابات انہوں نے بڑے دلچسپ انداز میں دیے۔

س: کیا اپنے علاوہ کسی اور کارٹونسٹ سے بھی متاثر ہیں اور کیوں؟
ج : جی بالکل نہیں ‘میں صرف اپنے سیاستدانوں سے’’ متاثر‘‘ ہوں۔

س: پاکستان میں کارٹون بنانے کا فن کیسا چل رہا ہے؟
ج : جیسے ملک چل رہا ہے اس سے بہت بہتر۔

س : ہمارے معاشرے میں آرٹ کی کیا حیثیت ہے؟
ج : دوسری چیزوں کی طرح آرٹ پر بھی مافیا کا قبضہ ہے۔ یہ شرابی ٗ کبابی اور اوباش لوگوں کا ٹولہ ہے ٗوہی آرٹ کا کرتا دھرتا ہے۔ صرف آرٹسٹ کی پذیرائی نہیں ہوتی ۔ اچھا آرٹسٹ بننے کے لئے ’’بوتل‘‘ کا ہونا بہت ضروری ہے۔ ’’بوتل‘‘ ہاتھ میں لے کر آپ قرآنی آیات بھی لکھیں تو دنیا واہ واہ کرتی ہے۔ شاکر علی اور صادقین کی مثالیں سامنے ہیں۔ زیادہ نہ پوچھیں کیونکہ ان میں مزید پردہ نشین بھی ہیں۔

س:آپ ایک ایسے کالج کے پرنسپل رہے جس کے طالب علم بے قابو رہتے تھے۔ نوجوان نسل کے موجودہ مسائل کے بارے میں آپ کیا رہنمائی دیتے ہیں؟ لاہور کی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی گڑ بڑ کا گڑھ ہے ٗ آپ وہاں استاد رہے ہیں۔ موجودہ نسل کو کوئی رہنمائی دیں۔
ج : میں ایک ناچیز شخص ہوں ٗ رہنمائی کیا دوں گا ٗ بس اتنا جانتا ہوں کہ نئی نسل بڑوں کو دیکھ کر سبق لیتی ہیں۔ جب بڑے ٹھیک ہو جائیں گے تو چھوٹے خود ہی صحیح راہ پر آ جائیں گے ورنہ کبھی نہیں ۔

س: معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کے لئے آپ کے پاس کیا تجاویز ہیں؟
ج : کم از کم پچیس تیس لاکھ کرپٹ ٗ شرابی ٗ کبابی لوگوں کو پھانسی پر لٹکا دیا جائے۔ میرا تعلق طالبان سے نہیں لیکن مسلمان ضرور ہوں۔

س: ہسٹری میںآپ کی خصوصی دلچسپی کی وجہ؟
ج : کوئی خاص وجہ تو نہیں بس اللہ کی دین ہے۔ مجھے ڈکشنریوں اور تھیزارس میں بھی بہت دلچسپی ہے۔

س: بیگم کو خوش رکھنے کے پانچ آزمودہ راز بتائیں۔
جواب : -1 کھلا پیسا دیں۔
-2 اس کے بھائی بہنوں کو خوش رکھیں۔
-3 ساس ٗ سسر کی تعریفیں کرتے رہیں۔
-4 بیگم جب بھی تھکاوٹ کی شکایت کرے تو اس کی ٹانگیں ٗ ہاتھ ٗ پیر دبائیں(گلا نہیں)
-5 باتوں باتوں میں مکھن لگاتے رہیں۔۔۔ غالب نے بھی تو کہا تھا
تنگ دستی، اگر نہ ہو غالب
’’زن مریدی ہزار نعمت ہے‘‘

س :آج کل آپ کی ذمہ داریاں کیا ہیں؟
ج : وہی پرانی چال یعنی نئی نسل کو تباہ کرنا ۔

س: اگر آپ کو نئے سرے سے زندگی گزارنے کا موقع ملے تو آپ کیا بننا پسند کریں گے؟میکسم یا کچھ اور۔
ج: میکسم ہی بننا پسند کروں گا۔

س: آپ کی پسندیدہ شخصیت جس نے آپ کے طرزِ زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیے ہوں یا آپ کیلئے رہنما کا کام کیا ہو؟
جواب: ہمارے نبی ﷺ

س: کوئی ایسی خواہش جو ابھی پوری نہ ہو سکی ہو؟
ج: پاکستان میں دیانت دار لوگوں کی حکومت۔

س: زندگی میں سب سے زیادہ پیار کس سے کیا؟
ج: بیوی سے (آپس کی بات ہے)

س: کوئی محبت جو ناکا م رہی ہو۔ ناکامی پر آپ کے جذبات اور احساسات کیا تھے؟
ج: کچھ لڑکیوں نے مجھے بہت چاہا، محبت کا اظہار بھی کیا لیکن جواب نہ دے سکا۔

س: آپ رائج الوقت طریقۂ علاج میں سے کس پر یقین رکھتے ہیں؟
ج: جو راس آ جائے۔

س: کیا آپ اپنی قربانیوں سے مطمئن ہیں یا کچھ کر گزرنے کی منشاء ابھی باقی ہے؟
ج : مطمئن ہوں۔

س: آپ کہتے ہیں کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ضرور ہوتا ہے، ایک ناکام مرد کے پیچھے کس کا ہاتھ ہوتا ہے؟
ج: ایک سے زیادہ عورتوں کا۔

س: اپنی کوئی عادت جو آپ کو پسند نہ ہو لیکن چھوڑی بھی نہ جاسکتی ہو؟
ج: کسی سے ہمدردی میں یا خوامخواہ کوئی وعدہ کر لینا حالانکہ شیڈول بہت لمبا ہوتا ہے……۔

س: آپ ’’محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز ہے‘‘ کی تائید کریں گے یا تردید؟
ج: تردید

س: اگر کوئی شخص آپ کے سامنے آپ کی تعریف کرے تو آپ کا ردِ عمل کیا ہو گا؟
ج: تعریف اچھی لگتی ہے لیکن ایسا کرنے والا اچھا نہیں لگتا۔

س: فرض کریں آپ کو کسی سے محبت ہے ‘ آپ اس جذبے کا اظہار کیسے کریں گے؟
ج: وقتِ پیری شباب کی باتیں ……. ایسے جیسے کہ خواب کی باتیں

س: آپ اپنے دن بھرکے معاملات کا آغاز کیسے کرتے ہیں؟
ج: اللہ کا نام لے کر۔

س: زندگی میں کبھی کسی چیز کی کمی محسوس ہوئی؟
ج: میرے پانچ بھائی بہن تھے‘ سب ایک ایک کر کے فوت ہوگئے‘ ماں باپ بھی چلے گئے‘ پچھلے دو برسوں میں دو بھائی ‘ ایک بہن اور والدہ فوت ہوئے۔ اب تنہا تنہا محسوس کرتا ہوں۔

س: مرض لاعلاج ہوتا ہے یا مریض؟
ج: مریض۔

س: ’’ذیابیطس طرزِزندگی میں تبدیلی کا نام ہے‘‘ کیا یہ درست ہے؟
ج: درست ہے۔

س: آپ انقلاب پسند ہیں ‘ کوئی خاص وجہ یا واقعہ؟
ج: ملک کی کرپشن صرف اور صرف خونیں انقلاب سے ختم ہو سکتی ہے وگرنہ نہیں۔

س: اگر ملک کی باگ ڈور آپ کے ہاتھ میں دے دی جائے تو آپ کی پہلی ترجیح کیا ہو گی ……. صحت ‘ تعلیم ‘جمہوریت؟
ج: تعلیم۔

س: جسم کی بیماری زیادہ خطرناک ہوتی ہے یا روح کی چوٹ؟
ج: دونوں ہی۔

س : ذیابیطس کب ہوئی ؟ آپ کی نظر میں اس کی کیا وجہ تھی؟
ج : اس مرض کی ایک وجہ ٹینشن بھی ہے۔ جب بینظیربھٹو نے میری جگہ ایک سفارشی عورت کو این سی اے کا پرنسپل مقرر کیا تو مجھے بہت بڑا شاک ہوا۔ یہ لیڈر باتیں میرٹ کی کرتے ہیں اور پھر میرٹ ہی سے زیادتی بھی کرتے ہیں۔ میری ذیابیطس بینظیر بھٹو کا دیا ہوا تحفہ ہے۔

س : جب ذیابیطس ہوئی تو کیا ردعمل تھا؟
ج:کچھ بھی نہیں ۔ زیادہ پریشانی بھی نہیں ٗ بس ڈائیٹ پر توجہ ہے ٗ زیادہ دواؤں کی ضرورت ہی نہیں پڑتی ٗ کسی نے سچ کہا ہے ’’پرہیز علاج سے بہتر ہے‘مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ ‘‘

س : زیادہ دواؤں کی ضرورت نہیں پڑتی تو کیا کم کی پڑتی ہے؟ کونسی دوا لیتے ہیں؟
ج: صرف ایک دوا سے کام چل رہا ہے‘ ڈاؤنل روزانہ آدھی گولی لیتا ہوں۔

س: ذیابیطس میں آپ کن کن مراحل سے گزرے ؟
ج: کوئی خاص نہیں‘ زندگی میں کوئی خاص تبدیلی نہیں لگی۔

س: کیا جڑی بوٹیا ں اور دیسی نسخے بھی استعمال کیے؟
ج: بالکل نہیں۔

س: عزیزوں ‘دوستوں کو پتا چلا کہ آپ کو شوگر ہو گئی ہے تووہ مشورے اور نسخے تولے کر نہیں آ گئے تھے؟
ج: کچھ ہنس دیے ‘کچھ مسکرا دیے‘ کچھ نے اظہارِ افسوس کیا مگر زیا دہ گھاس نہیں ڈالی۔

س: اب آپ ذیابیطس کے باوجود کیسا محسوس کرتے ہیں؟
ج: بالکل نارمل‘البتہ کبھی شوگر لیول بہت کم ہو جائے تو کمزوری لگتی ہے۔

س: ذیابیطس آپ کے معاملات میں کس حد تک رکاوٹ بنتی ہے؟
ج: کوئی رکاوٹ نہیں۔

س: ذیابیطس سے آپ کے طرزِزندگی میں کیا تبدیلیاں آئیں؟
ج: کوئی نہیں۔

س: آپ ذیابیطس افراد کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟
ج: سب کو بتا دیں کہ آپ کو ذیابیطس ہے تا کہ آپ کوکوئی میٹھا کھانے پر مجبور ہی نہ کرے۔اس بیماری کا آدھا علاج اسے نہ چھپانا ہے۔

س: زندگی کا سب سے اہم واقعہ؟
ج: خانہ کعبہ کے اندر جانا‘غسل دینا اور اندر چاروں طرف نوافل پڑھنا۔
اب ذرا ڈاکٹر شوکت محمود کی پسند اور ناپسند دیکھ لیجئے۔
پسندیدہ رنگ نیلا
پسندیدہ پھول گولڈی لاک
پسندیدہ ٹی وی چینل نیشنل جیوگرافک
ناپسندیدہ ٹی وی چینل سی این این اور بی بی سی
پسندیدہ کھیل کرکٹ
ناپسندیدہ کھیل گولف اور رگبی
پسندیدہ سنگر پنکج ملک
پسندیدہ گانا یہ راتیں‘یہ موسم‘ یہ ہنسنا ہنسانا
پسندیدہ شہر ایڈن برگ
پسندیدہ مسجد نیلی مسجد‘ استنبول
پسندیدہ مینار قطب مینار‘ دہلی اور لیننگ ٹاور‘ پیسا(اٹلی)
پسندیدہ میوزیم ٹوپکاپی‘استنبول
پسندیدہ چڑیا گھر ریجنٹ پارک‘لندن
پسندیدہ یونیورسٹی میری لینڈ‘ امریکہ
پسندیدہ کھانا پلاؤ
پسندیدہ سبزی آلو
پسندیدہ مٹھائی پتیسا‘جو اَب کھا نہیں سکتا
پسندیدہ پھل آم‘ وہ بھی نہیں کھا سکتا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *