Go to Top

Prof Dr. Yasmeen Rashid

س:کچھ اپنے پس منظر کے بارے میں بتائیے؟

ج: والدہ ڈاکٹر ہیں،والد پائلٹ تھے، اُنہوں نے میری اچھی تربیت کی ۔ کئی مرتبہ سوچتی ہوں کہ اِنسان جو کام دِل سے کرتا ہے اِس کے اچھے نتائج ملتے ہیں۔

س: آپ نے ایک آدھ نہیں، بے شمار اچھے کام کئے ہیں۔ آپ کو کبھی لگا کہ بطور خاتون قائد آپ کا راستہ روکا گیا؟

ج: آپ کو یاد ہوگا کہ جب ہم نے بورڈ آف گورنر کے خلاف یہ سارا احتجاج کیا تھا تو ڈاکٹروں میں سے مجھے نوکری سے نکالا گیا،7 اُستاد بھی نکالے گئے تھے۔7 میں سے 3 نے معافی مانگ لی تھی ، 4اُ ستاد اور میں ہم سب سروسز ٹریبونل میں چلے گئے جہاں پر مجھے بطور صدر پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن اِس بنیاد پر بحال کر دیا گیا کہ اُنہیں اِس حیثیت میں اجتماع اور جلسے جلوس کا حق حاصل ہے۔ باقی ٹیچرز کو تو بحال کر دیا گیا لیکن میرے بارے میں اُنہوں نے سوچا کہ شاید یہ زیادہ شرارتی ہے اِس لیے وہ سپریم کورٹ تک چلے گئے اور جب تک فیصلہ نہیں آئے گا میں نوکری سے باہر ہوں۔

س: انہیں آپ سے خوف کیا ہے؟

ج: پاکستان میں ایسے حالات پیدا کر دئیے گئے ہیں کہ نڈر ہو کر کام کرنے والے بہت کم لوگ رہ گئے ہیں ۔ میں صرف اِس وجہ سے کسی سے نہیں ڈرتی کہ میں نے اپنا سارا کام ایمانداری سے کیا ہے ورنہ آج کل کون تنقیدبرداشت کرتا ہے؟

س: یہ وقت جو آپ کے کیرئیر کا عروج ہے تو بہرحال ضائع ہوجائے گا، دو چار سال بعد فیصلہ آپ کے حق میں ہو بھی جائے تو اس سے کیا فائد ہوگا؟ جب حکومتیں بدلتی ہیں تو قواعد وضوابط بھی بدل جاتے ہیں ، اگر دو چار سال بعد آپ کو دوبارہ پروفیسرکی سیٹ پر بحال کر دیا جائے تو کیا آپ آجائیں گی؟

ج: میرے جیسے فرد کا وقت کبھی ضائع نہیں ہوتا، میرے پاس کرنے کے بہت کام ہیں۔ ابھی میں شمالی علاقہ جات میں بہت سے ترقیاتی کاموں میں مدد دے رہی ہوں، یہ تو اللہ نے مجھے موقع دیا ہے۔ مجھے پڑھانے کا بہت شوق ہے،آپ میرے طلبا سے پوچھیں تو وہ آپ کو بتائیں گے کہ میں پڑھائی اور تحقیق میں بہت زیادہ دلچسپی لیتی ہوں۔ بعض اوقات بظاہر خرابی میں خوبی کا سامان ہوتا ہے، اس حادثے کا پڑھانے کے شوق پر بُرا اثر نہیں پڑ سکتا۔ اگر آپ ایک اچھے پروفیسر ہیں جس کا مطلب ہے کہ آپ ریسرچ کرتے ہیں، پڑھانے میں مصروف ہیں اور انڈرگریجوایٹس تیار کرتے ہیں تو پھر تو اچھی بات ہے اور میں اسے کیوں نہیں جاری رکھوں گی۔ اتفاق کی بات ہے کہ 1999ء سے 2003ء تک تمام پاکستان کے دوسرے یونٹس کی نسبت سب سے زیادہ پوسٹ گریجویٹ ہمارے یونٹ سے تیار ہو کر نکلے۔

س: کیا ہمارے ہاں اِس کا باقاعدہ کوئی حساب کتاب رکھا جاتا ہے کہ کون پروفیسر کیا کام کر رہا ہے؟

ج: نہیں! تب ہی تو پروفیسروں کا دماغ خراب ہے ۔

س : آپ ڈاکٹر کیسے بنیں؟ مجبوری سے یا شوق سے؟

ج: دراصل میں ڈاکٹر کسی مجبوری کے تحت نہیں بلکہ شوق کے تحت شادی کے بعد بنی ۔ ایف ایس سی کی سٹوڈنٹ تھی تو شادی ہوگئی۔ جب تک جنون کی حد تک شوق نہ ہو آپ شادی کے بعد ڈاکٹر بنتے ہیں نہ پوسٹ گریجوایشن کرتے ہیں ۔ میرا تیسرا بیٹا 9 ماہ کا تھا جب میں اُسے چھوڑ کر لندن چلی گئی اور وہاں سپیشلائزیشن مکمل کی۔ میڈیکل لائن بہت مشکل ہے، اگر سسرال سے پوری سپورٹ نہ ملتی تو شاید میں نہ کرپاتی۔ میرے میاں کی پھوپھی کواللہ جنت نصیب کرے ،جب ڈگری ملی تو میں نے لاکر انہیں تھمائی کہ یہ آپ کا کریڈٹ ہے کیونکہُ انہوں نے میر ے بچوں کی بہت دیکھ بھال کی تھی۔ اگر انسان ارادہ کرلے تو اللہ بھی مدد کرتا ہے، شادی ہوئی تو سسر نے پڑھائی کے معاملے میں پورا پورا تعاون کیا۔ دُکھ کی بات ہے کہ اب بھی%70 لڑکیاں ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد گھر بیٹھ جاتی ہیں۔ زیادہ لڑکیوں کاڈاکٹر بننا اچھارجحان ہے۔ جب ایک عورت پروفیشنل ہوتی ہے تو وہ ہر لحاظ سے پُراعتماد ہو جاتی ہے، عورت کو تعلیم کے زیور سے سجا دیں تو پھر اسے کسی اور زیور کی ضرورت نہیں!

س: سیاست میں آپ کا 20برسوں کا تجربہ کیسا رہا؟

ج: یہ سِلسلہ20سال نہیں بلکہ اُس وقت سے جاری ہے جب سکول میں پہلا الیکشن لڑا اور ہاؤس کی وائس کیپٹن بنی۔ پہلا جلوس جس میں بھرپور حصہ لیا تھا وہ معاہدہ تاشقند کے خلاف تھا جبکہ میری عمر صرف16سال تھی، اِس کے بعد اب تک سینکڑوں جلوس نکال چکی ہوں۔ میں سمجھتی ہوں کہ احتجاج ہمارے مذہب کا حصہ ہے ، اگر آپ خود کو مسلمان کہتے ہیں اور دیکھ رہے ہیں کہ زیادتی ہو رہی ہے مگر اس کے خلاف شور نہ مچائیں تو میں سمجھتی ہوں آپ بھی اتنے ہی گناہ گار ہیں جتنا زیادتی کرنے والا۔

س: کھیل وغیرہ میں بھی کوئی دلچسپی تھی؟

ج: جب لاہور کالج جوائن کیا تو سپورٹس میں بہت دلچسپی لیتی تھی اور یہاں سپورٹس پریذیڈنٹ بن گئی۔ میرے پاس ٹیبل ٹینس میں کئی انعامات موجود ہیں 1975ء میں پاکستان کی دوسر ے نمبر کی کھلاڑی تھی، 1975ء کی بک آف سپورٹس مین آف پاکستان میں میرا نام درج ہے۔

س: اتنی بھرپور زندگی میں سٹریس کو کیسے مینج کرتی ہیں؟

ج: سٹریس کو کنٹرول کرنے کا زیادہ کریڈٹ میری فیملی کو جاتا ہے، بہت برداشت کرتے ہیں مجھے! میرے بیٹے بے چارے میری ڈانٹ کھاتے رہتے ہیں ۔

س: سٹریس کبھی آپ کومفلوج بھی کرتا ہے ؟

ج: نہیں! ایسا کبھی نہیں ہوا۔

س: نڈر ہونے کی کیا وجہ ہے؟

ج: ایک دفعہ آپ کو موت پر یقین ہو جائے تو آپ کو ڈر نہیں لگتا ۔ ایمان کی دو ہی صورتیں ہیں، آپ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں یا پھر نہیں رکھتے، مشکل میں اِدھر اُدھر دیکھتے ہیں۔ میراپختہ یقین ہے کہ مقدر میں جو کچھ لکھ دیا گیا ہے وہ مجھے مل کر رہے گا۔ بہت زیادہ سٹریس میں رات کو جائے نماز بچھا لیتی ہوں اور اللہ تعالیٰ سے ہدایت مانگتی ہوں۔دعا ایک ایسی چیز ہے جو ہمیشہ قبول ہوتی ہے۔ دُعا کا جواب کب ملے گا یہ فیصلہ کرنا اُس کاکام ہے۔ 3سال بعد مجھے میڈیکل کالج میں داخلہ ملا تو سوچا کہ یہ دعا کی قبولیت ہے، کم سے کم وقت میں پوسٹ گریجوایشن کی ہے یعنی 79ء میں ڈاکٹر بنی، 81ء میں ایم سی پی ایس اور84ء میں ایم آر سی پی ایس کرلیا۔ اپنی کلاس میں سب سے پہلے اسسٹنٹ پروفیسر بنی اور پروفیسر کی پوسٹ کے لیے منتخب ہو ئی۔

س: آپ کی جو سپیشلائزیشن ہے اِس میں خواتین آپ کے پاس آتی ہیں اُنہیں زندگی سے شکایات اور گِلے ہوتے ہیں، مسائل کے سامنے ہمت ہاری ہوئی ہوتی ہیں، تو کیاوہ آپ کی ہمت سے متاثر ہوتی ہیں؟

ج: میرا خیال ہے کہ بہت سارے مریض صرف اِسی وجہ سے میرے پاس آتے ہیں۔

س: کیا آپ اُنہیں تسلی دیتی ہیں؟

ج: بہت زیادہ! کئی تو کہتی ہیں شکر ہے ڈاکٹر صاحب ! آپ کو حقیقت میں بھی دیکھ لیا، پہلے صرف اخبار میں یا ٹیلیویژن پر دیکھتے تھے ۔ اب تک میری ڈیلنگ اس طرح کی ہے کہ جو مریض ایک دفعہ آجاتا ہے وہ عام طور پر چھوڑ کر نہیں جاتا، حالانکہ میں اتنی باقاعدگی سے کلینک پر بیٹھنے والی ڈاکٹر نہیں ہوں، کبھی ہفتے کے لیے بلوچستان، کبھی ہفتے کے لیے کہیں اور چلی جاتی ہوں لیکن میرے مریضوں نے میری اِن عادات کے ساتھ گزارہ کرنا سیکھ لیا ہے۔

س: یہ جو آپ کا مؤثر کمیونیکیشن کا ہنر ہے اور جس کی وجہ سے آپ لیڈر ہیں اورسیاست میں ہیں، اِس کا ڈاکٹری کے پروفیشن میں فائدہ ہوا ؟ کیا آپ سمجھتی ہیں کہ یہ آپ کی نمبر ون خوبی ہے؟

ج: میرے خیال میں یہی نمبر ون ہے، اگر آپ اپنی بات کو بہتر انداز میں دوسروں تک پہنچا نہ سکیں تو کوئی بڑا کام نہیں کر سکتے، کمیونیکیشن کا ہنر بہت ضروری ہے۔

س: یہ خوبی قدرتی ہے یا اپنی محنت سے حاصل کی گئی ہے؟

ج: ایک لحاظ سے قدرتی کہہ سکتے ہیں لیکن اِس پر بہت محنت بھی کی ہے، خاص طور پر میں نے ٹیچنگ کے سِلسلے میں اپنے خرچ پر انگلینڈ میں ٹیچر کورسز میں شرکت کی تا کہ اچھی ٹیچر بن سکوں۔

س: کیا آج کل نوجوان ڈاکٹرز کی یہ کمزوری نہیں ہے کہ وہ کمیونیکیٹ نہیں کر سکتے، اُن کی زبانی و تحریری کمیونیکیشن بہت کمزور ہے؟

ج: مریض کی ہسٹری لینا ایک آرٹ ہے جسے ہم بھولتے جا رہے ہیں۔ جب آپ مریضہ کی ہسٹری لے رہے ہوتے ہیں تو آپ کمیونیکیٹ کرتے ہیں اور اگر آپ ایک اچھے ہسٹری ٹیکر ہیں تو مریض کے ساتھ بہت جلد تعلق بن جائے گا حتیٰ کہ آپ سے اگر کوئی غلطی ہو جائے تو بھی مریض اِس کا گلہ نہیں کرے گا۔

س: اپنے شعبے میں زیادہ تر کن مسائل سے ڈیل کر رہی ہیں؟

ج: فیٹل نرسنگ کے علاوہ میری بڑی ہی ٹریجک سی فیلڈ ہے۔ زیادہ تر مریض مینٹل ریٹارڈیشن یا تھیلیسیمیا کے ہیں، کچھ مریض گائناکالوجسٹ کے ریفر کئے ہوئے۔ چونکہ ریسرچ کے کام چل رہے ہوتے ہیں اِس لیے ڈی این اے ٹیسٹ کی سہولت موجود ہے ۔ اس کام میں کئی مرتبہ بہت ڈپریشن ہوتا ہے، اب تک اندرون رحم ٹرانسفیوژن کے کیسز میں 23 میں سے 16 بچوں کو بچایا ہے لیکن وہی بچہ ماں کے لیے اتنا قیمتی تھا کیونکہ 7بچے فوت ہو چکے تھے آٹھواں پیدا ہوا تھا یا 2بچے فوت ہو چکے اور اس کے پاس کوئی چانس نہیں تھا لیکن میں بہت مطمئن ہوں کہ اس شعبے میں جو تھوڑی بہت کامیابی ملتی ہے وہ بھی خاصی اہمیت رکھتی ہے۔

س: آپ کی نیچرل کاؤنسلنگ سکلز تو آپ کے ساتھ ہیں لیکن کیا اپنے ڈیپارٹمنٹ میں باقاعدہ ماہرین نفسیات بھی رکھے ہوئے ہیں؟

ج: جی ہاں! سائیکالوجسٹ بھی ہیں جوکہ جینٹک کونسلرز ہیں۔ جب ہم کونسلنگ سیشنز کرتے ہیں تو ساری فیملی کی کونسلنگ کرتے ہیں، انگلینڈ والا معاملہ تو نہیں ہے نا کہ آپ نے صرف میاں بیوی سے بات کرنی ہے، یہاں تو ساس سے بھی بات کرنی ہے۔ تھیلیسیمیا میں مرد عورت کو قصور وار ٹھہراتا ہے اور عورت مرد کو ہم بڑی مشکل سے انہیں قائل کرتے ہیں کہ دونوں میں سے کسی کا قصور نہیں یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، دونوں ہی تھیلیسیمیا میں شریک ہوتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں لڑکے کی اہمیت زیادہ اور بیٹی کی کوئی قدر نہیں۔ جب پیدائش سے پہلے تشخیص کا کام شروع کیا تو بہت ساری عورتوں نے کہا ہمیں بتائیے کہ بیٹا ہے یا بیٹی اورمنہ مانگے پیسے لے لیں ، پوچھا وہ کیوں؟تو کہتیں کہ ہماری پہلے ہی4 بیٹیاں ہیں ، میں نیپوچھا اگر آپ کو پتا چل گیا کہ اب بھی بیٹی ہے تو آپ کیا کریں گی ؟ وہ کہتیں ضائع کروا دوں گی۔ اِسی لیے ہم نے حلف اُٹھا رکھا ہے کہ کبھی یہ نہیں بتائیں گے کہ بچہ ہے یا بچی۔ میں بیٹی والی بات پر بہت پریشان ہوجاتی ہوں اور خاص طور پر سوچتی ہوں کہ مسلمان ہونے کے ناطے کتنی شرم کی بات ہے ؟ کئی مرتبہ ٹی وی یا ریڈیو کے پروگراموں میں کہتی ہوں کہ اگربیٹا اتنا ہی زیادہ اہم ہے تو ہمارے پیغمبر کو اللہ تعالیٰ نے بیٹا دے کر واپس کیوں لے لیا؟ بیٹی اُن کے گھرانے کی سب سے اہم شخصیت تھی ،آپ اُس کے احترام میں کھڑے ہو جاتے تھے ۔ ہم مسلمانوں کو کس دن سمجھ آئے گی کہ بیٹی کی اہمیت کیا ہے۔ تبدیلی صرف یہ آئی ہے لوگوں کو پتا چلتا جا رہا کہ بیٹا یا بیٹی پیدا ہونے کا ذمہ دار مرد ہے ۔ بعض اوقات لوگ پوچھتے ہیں کہ آپ نے زندگی میں اتنا کچھ کیسے کیا ؟ میں کہتی ہوں اس کی وجہ یہ ہے کہ جب میں پیدا ہوئی تو میرے والدین، دادا دادی سبھی خوش تھے ، ہمیشہ اتنا زیادہ پیار اورتحفظ دیا کہ میں پُراعتماد ہوگئی، والد نے اتنا بہادر بنا دیا تھا کہ17سال کی عمر میں گاڑی چلا کر راولپنڈی سے لاہور آجاتی تھی۔

س: کچھ خاص باتیں اور ٹپس بتائیں جن سے رہنمائی حاصل کر کے گائنی کے عام مسائل سے بچا جا سکتا ہے؟

ج: ذیابیطس کے حوالے سے دیکھا جائے تو حمل کے دوران خواتین سے زیادہ کھانے کے لیے کہا جاتا ہے ، میں کہتی ہوں دل چاہے تو کھاؤ ورنہ نہ کھاؤ یعنی احتیاط سے کھاؤ۔ آرام کے بارے میں یہ ہے کہ دوپہر کو سو لینا چاہئیے لیکن یہ تصور ٹھیک نہیں کہ بالکل ہلا ہی نہ جائے۔ ایک انتہا یہ ہے کہ حاملہ خاتون صبح سے شام تک گھر کے کام کاج میں مشقت کر رہی ہے دوسری یہ کہ سارا دن بستر آرام کر رہی ہے۔ حمل کے دوران وزن نہیں بڑھنا چاہئیے، اِس سے ماں اور بچے کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اگر 90کلو سے زیادہ وزن ہوگا تو دورانِ حمل ذیابیطس کا خدشہ لازمی ہے۔ موٹاپے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ حمل کے بعد بچوں کو دودھ نہیں پلاتیں۔اللہ تعالیٰ نے ایسا خوبصورت نظام بنایا ہے کہ جب ایک عورت حاملہ ہوتی ہے تو اس میں پازیٹو نائٹروجن بیلنس بننا شروع ہو جاتا ہے جو اسی وقت ختم ہوتا ہے جب تک وہ دو یا سوا دو سال بچے کو دودھ نہ پلائے۔ جس بچے نے ماں کا دودھ زیادہ پیا ہو اُس کی ماں سے قربت بھی بہت زیادہ ہو جاتی ہے اور وہ صحت مند بھی ہوتا ہے۔

س: کیا دوران حمل ذیابیطس سکریننگ ضروری ہے؟

ج: میں پہلے وزٹ میں ہی اپنے مریض کے سارے روٹین ٹیسٹ کروا لیتی ہوں تاکہ فوری طور پر یوریا شوگر اور بلڈ شوگر کا پتا چل سکے۔ مریضہ میں دوران حمل والی ذیابیطس ہو تو ڈائیٹ کنٹرول کرواتے ہیں ۔

س: کیا دوران حمل غذا پر سخت پابندی مناسب ہے؟

ج: آپ ذیابیطس کے حوالے سے ڈائیٹ دیں، پروٹینز دیں۔ اگر کاربوہائیڈریٹس کم کر دیتے ہیں تو خودبخود اس کا حل ورزش ہے، اِنسولین کی نسبت ایکسر سائز پر زیادہ توجہ دیں، اِنسولین کی ضرورت ٹائپ 1میں ہے۔ میں تو مریضوں سے کہتی ہوں کہ صبح دو چکر لگا لیں تو انسولین کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی ۔

س: حمل آگے بڑھے گا تو انسولین کی ضرورت تو بڑھے گی؟

ج: جی ضرورت بڑھ جاتی ہے، زیادہ سے زیادہ اِنسولین 32 یا 34ہفتے کے دوران درکار ہے کیونکہ اِس وقت بننے والا لیکٹوجن اِنسولین سے مزاحمت کرتا ہے۔

س: ذیابیطس کی صورت میں ڈلیوری کے لیے خود فیصلہ کرتے ہیں کہ کس موقع پر ہوگی یا قدرت پرچھوڑتے ہیں؟

ج: اگر ذیابیطس کنٹرول ہے تو نیچرل ڈلیوری ہی ہوگی اور اگرکنٹرول نہیں تو پھر عام طور پراڑتیسویں ہفتے میں فیصلہ کرتے ہیں۔ اِس کا انحصار مریضہ کی حالت پر ہے، اگر دوسری علامات بھی ظاہر ہوں تو پھر رسک نہیں لیتی۔

س: کیا آپ سمجھتی ہیں کہ دورانِ حمل ذیابیطس والی خواتین کو بعدازاں باقاعدہ ذیابیطس بھی ہو جاتی ہے؟

ج: اگر لبلبہ پہلے سے پوری استعداد کے مطابق کام کر رہا تھا تو وہ اس سے زیادہ ضرورت پر کام کرنا بند کر دے گا۔ اِنسولین کی عام ضرورت 75انٹرنیشنل یونٹس ہے جوحمل کے دوران بڑھ کر 100 یونٹس ہو جاتی ہے اگر یہ ضرورت 100سے زیادہ ہے تو یقینی طور پر یہ جیسٹیشنل ڈایابیٹیز ہے۔ اگر ایسی خواتین کے وزن میں اضافہ ہوگا تو باقاعدہ ذیابیطس کے خدشات بھی بڑھ جائیں گے۔

س: آپ کا کئی قسم کے مریضوں سے واسطہ پڑتا ہے، بعض مریضوں کا رویہ منفی ہوتا ہے اور بعض کا مثبت، کیا علاج کے دوران اِس سے کوئی فرق پڑتا ہے؟

ج: مثبت سوچ رکھنے والے مریضوں کا علاج بہت آسان ہو جاتا ہے کیونکہ وہ آپ کو سنتے ہیں، اعتماد کرتے ہیں اور آپ بہتر طریقے سے بات کر سکتے ہیں۔ جو مریض اعتراضات کرتے رہتے ہیں اُن سے آپ بھی چڑ جاتے ہیں۔ ڈاکٹروں کو بھی توجہ درکار ہے، انہیں بھی ٹینشن والی باتوں سے چڑ ہو جاتی ہے۔

س: بعض اوقات ایسے بھی ہوتا ہے کہ بڑے بڑے افسران کی بیگمات آجاتی ہوں تو آپ کو مشکل پیش آجاتی ہے جیسے ابھی وزیرِاعظم کی بیگم جائیں یا کوئی ایسی ہی شخصیت؟

ج: میں خود ذہنی طور پر اتنی بڑی افسر ہوں کہ میں کسی کی افسری سے کبھی خوف نہیں کھا تی اور سبھی کا بطور مریض ہی علاج کرتی ہوں۔

س: دوسرے لوگوں کی طرح یا کھلاڑیوں کی طرح بھی ایک آئیڈیل پرفارمنس سٹیٹ ہوتی ہے جو کہ ہمیشہ نہیں رہتی آپ کیسے ہینڈل کرتی ہیں؟

ج: میں ہمیشہ خوش رہتی ہوں،یقین رکھتی ہوں کہ کسی بھی انسان کو وہ پروفیشن چننا چاہئیے جو وہ چاہتا ہے۔ اگر آپ پروفیشن سے لطف اندوز نہیں ہوں گے تو بوجھ لگے گا، میں ڈاکٹر ہی بننا چاہتی تھی اِس لیے آج بھی اپنے کام کو اتنا ہی انجوائے کرتی ہوں جتنا شروع میں کرتی تھی۔

س: کیا کیا چیزیں ہیں جو خاص طور پر آپ کا مورال بلند کرتی ہیں؟

ج: مجھے تو کوئی مریض آکر یہ کہہ دے کہ ڈاکٹر صاحب بہت فرق پڑا ہے، آپ نے بہت اچھی دوا لکھ کر دی حالانکہ وہ دوا اتنی خاص نہیں ہوتی تو مجھے خوشی ہوتی ہے۔جب مریض خوش ہو جاتا ہے تو ہمیں بھی اطمینانملتاہے۔ پچھلے دنوں ایک کیس کیا جو بہت پیچیدہ ہو چکا تھا اور کسی گائناکالوجسٹ نے ریفر کیا تھا۔ آنکھیں بند کر کے کھڑی ہوگئی اور کہا چلو اللہ مالک ہے شروع تو کرتے ہیں ۔آپ یقین نہیں کریں گے کہ صرف 35منٹ میں فارغ ہوگئی اور کیس بھی بہت اچھاہوگیا ۔

س: اگر کبھی کوئی کام خراب ہو جائے تو پھر کیا گھر والوں کی شامت آتی ہے؟

ج: نہیں !گھر والوں کا کیا قصور ہے؟ لیکن خود اتنی ڈ پریس ہو جاتی ہوں کہ کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔

س: جب آپ ڈپریس ہوتی ہیں تو کیا کرتی ہیں؟ خاموش ہو جاتی ہیں یا؟

ج: نہیں !بولنا شروع کر دیتی ہوں، بول بول کر ہر ایک کو سناتی ہوں کہ یہ کام خراب ہو گیا ہے۔

س: تو کسی دیر بعد آپ صحیح ہو جاتی ہیں؟

ج: کچھ وقت درکار ہوتا ہے، اگرکبھی کوئی غفلت ہو جائے تو اِس کا احساس ہمیشہ ستاتاہے۔

س: پرسنل ہیلتھ کیئر کے کیا پلان ہیں؟

ج: اِس معاملے میں بہت لاپرواہ ہوں ، پچھلے 10برسوں سے بہت بدپرہیزی کر رہی ہوں، ایک وجہ یہ ہے کہ میں کھانے پینے کی بہت شوقین ہوں،دوسری یہ ہے کہ ورزش کم ہوگئی ہے۔

س: کس قسم کے کھانے پینے کی شوقین ہیں چائنیز یا کچھ اور؟

ج: نہیں! ہر چیز دیسی، ولایتی کھانا،بس کھانا ہونا چاہئیے۔

س: کام کے دوران میں بھاگ دوڑ اور آپریشن کرنے میں بہت ورزش نہیں ہو جاتی؟
ج: نہیں! یہ کہاں ورزش ہے؟ ورزش الگ سے اور باقاعدہ کرنی چاہئیے۔ اب میں نے تقریباً 40پاؤنڈز وزن کم کیا ہے اور روز بروز بہتری آتی جارہی ہے، جب کچھ پاؤنڈز اضافی ہوں تو اُنہیں کم کرنا چاہئیے۔

س: اِس کا مطلب ہے آپ نے ورزش کے زور پر موٹاپے کو قابو میں رکھا ہو اہے؟

ج: اگرچہ میں بہت مصروف رہتی ہوں لیکن درمیان میں کہہ دیتی ہوں فلاں چیز کھانے کے لیے لے آؤ۔ مجھے چاکلیٹ، آئس کریم اور پھل پسند ہیں، مٹھائیاں بھی بہت شوق سے کھاتی ہوں، نہاری، پیزا وغیرہ سبھی کچھ پسند ہے لیکن ورزش کے ذریعے وزن کنٹرول رکھتی ہوں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *