Go to Top

Tariq Aziz

انٹرویو:ڈاکٹر طارق عزیز
شوگر : پہلے اپنے بارے میں کچھ خود بتائیں؟
ڈاکٹر طارق عزیز : میں 10جنوری 1954ء کو جہلم میں پیدا ہوا۔ ایف اے تک جہلم میں ہی تعلیم حاصل کی۔ 1973ء میں ہماری فیملی لاہور میں شفٹ ہوگئی۔ بی اے، ایم اے اور پی ایچ ڈی میں نے لاہور سے کیا۔

س : لاہور کیسے آنا ہوا؟
ج : میرے والد ریلوے پاکستان میں ملازم تھے، ملازمت کے سلسلے میں ان کی پوسٹنگ لاہور ہوگئی، اس کے علاوہ میرے بڑے بھائی اور ہمشیرہ کو بھی تعلیم کے سلسلے میں لاہور داخلہ لینا تھا، اس طرح ہمارا خاندان دو حصوں میں بٹ جاتا چنانچہ والد صاحب نے مناسب یہ ہی سمجھا کہ سبھی کو لاہور شفٹ کر لیا جائے۔ ویسے بھی کچھ عرصے بعد اپنی تعلیمی ضروریات کے پیش نظر مجھے بھی لاہور آنا ہی تھا۔ جہلم جیسے پسماندہ شہر میں ایم اے اور پی ایچ ڈی کرنا ممکن بھی نہیں تھا۔.

س : پی ایچ ڈی کا ارادہ کب کیا؟
ج : تعلیم کے ابتدائی دور میں ہی میں نے یہ ارادہ کر لیا تھا کہ پی ایچ ڈی کروں گا۔

س : کیا آپ کو ایم اے ناکافی لگا؟
ج : تعلیم صرف کیریئر کے لیے نہیں ہوتی۔ تخلیق یا تحقیق کا عمل انسان کے اندر سے کہیں سے پھوٹتا ہے، آپ یوں سمجھ لیں کہ ایک حمل کی سی کیفیت ہوتی ہے۔ ماں بچے کو جنم اس لیے نہیں دیتی کہ یہ کل کو میرا سہارا بنے گا، وہ اس کے اندر کہیں طلب ہوتی ہے، مامتا کا جذبہ اس کے اندر کہیں چھپا ہوتا ہے، اسی جذبے کے تحت عورت ماں بننا چاہتی ہے۔ قطع نظر اس کے کہ وہ سہارا بنے گا یا نہیں۔ اسی طرح تحقیق اور تخلیق انسان کے اندر سے پھوٹتی ہے اس میں کیریئر کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔

س: ڈگریوں کا علم سے کوئی تعلق ہے؟
ج : نہیں! بالکل نہیں۔ شیکسپیئر کسی بھی یونیورسٹی سے سندیافتہ نہیں تھا لیکن آج کوئی بھی ایم اے انگلش شیکسپیئر کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ ڈگری کا تعلق صرف تعلیم سے ہے، علم سے نہیں۔ تعلیم اور علم دو مختلف چیزیں ہیں۔ تعلیم صرف آپ کو معلومات مہیا کرتی ہے یہ آپ کی تربیت نہیں کرتی۔ تربیت کیلئے آپ کے اندر ایک جذبہ اور لگن ہونی چاہئیے جو ڈگری سے ہٹ کر ہو۔ یہ جذبہ اور احساس آپ کے اندر سے پھوٹنا چاہئیے کہ مجھے ایک اچھا انسان بننا ہے، یہی احساس تربیت کرتا ہے۔

س : پروفیشن کے بارے میں بھی پہلے سے ہی طے کیا ہوا تھا؟
ج : ایم اے اُردو کرنے کے بعد تین چار میدان ہی تھے جنہیں اپنایا جاسکتا تھا مثلاً شوبز، ٹیلی ویژن، ریڈیو، اخبار یا لیکچرر شپ۔ ان سب میں مجھے لیکچرر شپ ہی بہترین لگی۔

س : زندگی کے ابتدائی سفر میں کیا مشکلات پیش آئیں ؟
ج : اس ضمن میں جسمانی معذوری ہی ایک مشکل تھی، اس کے علاوہ کوئی اور ایسی مشکل نہ تھی جو میرے سفر میں روڑے اٹکا سکتی۔ گو کہ عزیز و اقارب اور دوستوں کے رویے کی وجہ سے جسمانی معذوری بھی کبھی کوئی خاص رکاوٹ نہیں بنی۔

س: کس طرح کا رویہ تھا احباب کا آپ کے ساتھ؟
ج: میرے والدین نے مجھے اس بات کا بھرپور شعور دیا کہ جسمانی معذوری کسی بھی مشن کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی،بعد میں وقت نے یہ ثابت بھی کیا۔ جب باشعور ہوا تو میرا بھی یہ پختہ ایمان ہوگیا ۔ دراصل زندگی کی مشکلات سے نبرد آزما ہونے کے لیے حقیقت پسند ہونا پڑتا ہے۔ مجھے یہ احساس ہوگیا تھا کہ وہیل چیئر پر بیٹھنے سے پہلے اپنی معذوری کو تسلیم کرنا پڑے گا اور اگر میں ایسا نہیں کروں گا تو ساری عمر بستر میں بیٹھا بیٹھا مر جاؤں گا۔کالج کے زمانے میں میرے ایک دوست ارشد محمود جو کہ میرے پڑوس میں ہی رہتے تھے وہ روزانہ مجھے سائیکل پر اپنے ساتھ کالج لے جانے لگے حتیٰ کہ کسی بیماری یا اور وجہ سے انہیں خود کالج نہ بھی جانا ہوتا تو وہ مجھے کالج چھوڑ آیا کرتے۔ یہاں تک کہ ان کے والدین بھی اس بات کا خیال رکھتے کہ چاہے ارشد بیمار ہی کیوں نہ ہو وہ مجھے کالج چھوڑ کر اور پھر لے کر آئیں۔

س : جسمانی معذوری کا سامنا کب کرنا پڑا؟
ج : مجھے ایک یا ڈیڑھ سال کی عمر میں پولیو ہوا جس کے نتیجے میں میرا نچلا دھڑ معذور ہوگیا۔اس وقت مجھے شعور بھی نہ تھا کہ بیماری یا معذوری کیا ہوتی ہے۔

س : آپ نے پروفیشنل کیریئر کس وقت شروع کیا تھا؟
ج : ایم اے کے دوران ہی، ریڈیو پاکستان پر ہماری یونیورسٹی کا پروگرام نشر ہوا کرتا تھاجس میں میں نے بھی حصہ لینا شروع کر دیا۔ اس وقت ایک پروگرام کے 25 روپے ملتے تھے، چار پانچ پروگرام مل ہی جایا کرتے تھے جس سے فیس اور کینٹین کا خرچہ پورا ہوجاتا ایم اے کے فوراً بعد ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں بطور لیکچرر تقرری ہوگئی، ساتھ ہی ریڈیوپاکستان میں بطور نیوز ٹرانسلیٹر میرا انتخاب ہوگیا جسے میں نے پارٹ ٹائم جاری رکھا۔

س : لیکچرار بننا آپ کا شوق تھا؟
ج : نہیں! ایم اے کرنے کے بعد سب سے اہم چیز ملازمت تھی۔ کوئی بھی اچھی نوکری ملتی تو قبول کرلیتا۔ویسے بھی تعلیمی کیرئیر میں نمایاں کارکردگی کی وجہ سے نوکری مجھے آسانی سے مل جایا کرتی تھی۔

س : آسانیوں کی وجہ سے کبھی خودسری کا عالم بھی آیا؟
ج : نہیں! ایسا کبھی نہیں ہوا، اس کی وجہ کچھ تو میرا خاندانی پس منظر تھا اور پھر میں طبعاً ایسا ہوں بھی نہیں۔ ا س کے علاوہ جس دور میں میں نے اپنے پروفیشنل کیرئیر کا آغاز کیا اس وقت کی قدریں کچھ اور ہوا کرتی تھیں۔

س : قدروں میں کس قسم کی تبدیلی آئی ہے ؟
ج : پہلے لوگ فرد کو بہ حیثیت انسان اہمیت دیتے تھے اور برابری کی سطح پر ملنا پسند کرتے تھے۔ ایک دوسرے کی عزت و احترام لازم ہوا کرتی اور برائی کو برائی اور اچھائی کو اچھائی سمجھا جاتا یہی نہیں بلکہ لوگ برے لوگوں کا سوشل بائیکاٹ کیا کرتے تھے اور اچھے لوگوں سے میل جول بڑھانا پسند کرتے تھے مثلاً ایک دفعہ ایسا ہوا کہ ہمارے محلے میں ایک تھانے دار نے مکان کرائے پر لیا، اس کے پاس سکوٹر بھی تھا۔ عید کے روز اس کی بچی ہمارے ہاں حسب روایت سویاں لے کر آئی تو میری والدہ نے بہانے سے اس لوٹا دیا اور سویاں قبول نہ کیں، اس پر میری بہن والدہ سے کہنے لگیں کہ آپ نے ایسا کیوں کیا؟ تو انہوں نے جواب دیا ’’تمہارے والد سرکاری محکمے میں اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں اور ان کے پاس صرف سائیکل ہے اور دوسری طرف اس تھانے دار کے پاس سکوٹر ہے، یقیناًوہ حرام کماتا ہے اور ہمیں حرام نہیں کھانا۔‘‘ تو یہ سوشل بائیکاٹ تھا۔ اب دیکھ لیں اس چیز کا احساس ہی باقی نہیں رہا۔ لوگوں نے اپنے اوپر کئی کئی پرتیں چڑھا لی ہیں۔ چودھری فضل الہٰی صاحب کے زمانہ صدارت میں ان سے ایک صحافی نے پوچھا کہ ’’آئے دن سننے کو ملتا ہے کہ فلاں سڑک پر کسی لڑکی کا پرس چھن گیایا اس کے علاوہ بھی بدتہذیبی کے واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں، آخر یہ سب کچھ کیونکر ہے؟ ‘‘ اس پر انہوں نے جواب دیادراصل یہ سب کچھ اس پیسے کی وجہ سے ہے جو حاصل تو کیا گیا لیکن کمایا نہیں گیا۔

س : بدلتی قدروں کا سامنا کیسے کیا جا سکتا ہے؟
ج: اچھی قدروں کو تو خوش دلی سے قبول کیا جاسکتا ہے لیکن بُری باتوں کو جیسے کہ ناشائستگی، بدتہذیبی یہ سب ناقابل قبول باتیں ہیں، ان پر پریشان بھی ہوتا ہوں اور کڑھتا بھی ہوں۔آج سے 40-30 برس پہلے کافی حد تک نظم و ضبط تھا لیکن اب بہت بگاڑ پیدا ہوگیا ہے۔ جن باتوں پر شرمندہ ہونا چاہیے لوگ ان پر فخر کرنے لگے ہیں۔

س: درس و تدریس کے میدان میں کیا عالم ہے؟
ج : استاد بھی اس معاشرے کا حصہ ہیں، بگڑتی ہوئی قدروں کا اثر ان پر بھی ہوا ہے، میں محسوس کرتا ہوں کہ اساتذہ میں پڑھانے اور طالب علموں میں پڑھنے کی لگن پہلے کی طرح نہیں ہے۔اساتذہ سٹاف رومز میں بیٹھ کر چائے پیتے اور گپیں لگاتے رہتے ہیں۔ کلاس نہ لینا اب فخر کی بات بن گئی ہے۔سوسائٹی کی طرف سے بھی اساتذہ کی عزت میں کمی آئی ہے، کچھ سسٹم بھی ناقص ہے مثلاً جس نے بی اے پاس کیا ہوتا ہے وہ سی ایس ایس کرکے اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ پر بطور حکمران آدھمکتا ہے، اس کا ردعمل تو سامنے آئے گا ہی۔ یہاں ہر ایک کی سوچ یہ ہوتی ہے کہ ہمیں معاشرے نے کیا دیا ہے؟ حالانکہ یہ بھی سوچنا چاہیے کہ ہم نے معاشرے کو کیا دیا ہے؟ اور ہم اب تک اپنے ملک کو کیا دے سکے ہیں؟

س : آپ اس صورت حال کو کس طرح برداشت کرتے ہیں؟
ج : بحیثیت ڈرامہ نگار ،کالم نگار میں ان چیزوں کی نشاندہی کرتا رہتا ہوں کہ فلاں جگہ خرابی ہے وغیرہ وغیرہ۔ دراصل ادیب کے پاس کوئی ایسا ہتھیار نہیں ہوتا جس سے وہ بگاڑ کو روک سکے۔

س : کیا اس طرح آپ اپنی حیثیت میں پہلے ہی اپنی ذمہ داری نہیں نبھا رہے؟
ج : نہیں! ہمارے ہاں شرح خواندگی انتہائی کم ہے، ایسے میں صرف لکھنے لکھانے سے فرض پورا نہیں ہوسکتا، کچھ اور کرنے کی ضرورت ہے۔دوسری طرف دُنیا میں بہت تیزی سے ترقی ہورہی ہے۔ ڈرامے اور کالم سکھانے کے لیے ایک سست رو عمل ہے جو کہ تیزی سے ترقی کرتی ہوئی دُنیا کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا۔

س: آپ کے خیال میں اور کیا کیا جاسکتا ہے؟
ج: 1945 میں جب ہیروشیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم گرایا گیا تو اس وقت کے معروف دانشور برٹنڈرسل نے پولیس سٹیشن میں جا کر کہا کہ اس حوالے سے میرے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔ جواباً پولیس نے کہا کہ اس میں آپ کیسے ملوث ہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ میں جو دانشور کہلاتا ہوں، میرا فرض نہیں بنتا کہ میں بم گرائے جانے کے خلاف احتجاجاً سڑک پر آتا لہٰذا میں بھی سمجھتا ہوں کہ جب بات قلم کی حد سے آگے بڑھ جائے تو سڑک پر آجانا چاہیے۔ ہمیں ایمانداری اور دیانت داری سے اپنے فرائض نبھانے ہوں گے۔

س: لوگوں کا خیال ہے کہ ایمانداری سے نہ تو ترقی کی جا سکتی ہے اور نہ دولت ہی کمائی جا سکتی، آپ کیا سمجھتے ہیں؟
ج : میں تو سمجھتا ہوں کہ آگے صرف دیانت اور ایمانداری سے ہی بڑھا جا سکتا ہے، دولت بھی صرف دیانتداری اور ایمانداری سے کمائی جا سکتی ہے، بے ایمانی سے کمائی گئی دولت تو ڈکیتی ہے۔ بات پیسہ کمانے کی ہے، ڈکیتی کی نہیں۔پیسہ حاصل کرنا اور پیسہ کمانا دو مختلف باتیں ہیں۔

س:کیا ٹریننگ پروگرامز سے استفادہ کرنا چاہیئے جس سے یورپ اور امریکہ کی عوام نے فائدہ حاصل کیا؟
ج: صلاحیتوں کو نکھارنے کیلئے کسی بھی صحیح راستے کو ضرور استعمال کرنا چاہئیے۔ یورپین اور امریکی ٹریننگ پروگرامز مکمل طور پر ہمارے ہاں قابل عمل نہیں اس لیے کہ یورپ کا معاشرہ بالکل ہی مختلف معاشرہ ہے۔ کسی بھی کام کی انجام دہی کیلئے دو باتوں کا بیک وقت ہونا بہت ضروری ہے، ایک تو اہلیت اور دوسرا نیت۔ اگر آپ میں کسی کام اہلیت ہے لیکن نیت نہیں ہے تو وہ کام نہیں ہو سکتا۔اسی طرح اگر نیت ہے لیکن اہلیت نہیں ہے تو کام تب بھی نہیں ہو سکتا۔ ہمارے ہاں بدقسمتی سے یہ دونوں چیزیں نہیں ہیں یہاں ایک چیز موجود ہے تو دوسری نہیں ہے، جس کی نیت درست ہے اس میں اہلیت نہیں ہے اور جس میں اہلیت ہے اس کی نیت ہی ٹھیک نہیں،اکثریت میں تو دونوں چیزوں کا فقدان ہے۔

س : پہلے یورپ کا معاشرہ بھی تو اسی کشمکش میں سے گزرا تھا؟
ج : یورپ کے جس زمانے کی بات آپ کر رہے ہیں، اس کے لیے انہوں نے ایک خاص لفظ ’’ڈارک ایجز‘‘ بنایا ہوا ہے، یہ وہ عرصہ ہے جب یورپین معاشرے پہ مذہب کا بہت عمل دخل تھا، اس وقت کی عیسائیت کو آپ باقاعدہ معاشرے کے اندر کی ایک دہشت گردی کہہ سکتے ہیں، کوئی کام کلیسا کی مرضی کے بغیر نہیں ہو سکتا تھا۔ پھر وہاں پر مارٹن بکھے اور گلیلیو وغیرہ نے ترقی کیلئے تحریکیں چلائیں، آپ کو معلوم ہے گلیلیو کو پھانسی کا پھندا دیا گیا تھا، پادری نے نیوٹن کیلئے بھی پھانسی کا حکم دیا۔ غرض یہ کہ جب بھی کوئی نئی چیز ایجاد ہوتی تھی تو وہ کہہ دیتے تھے، یہ خدائی قانون کے خلاف ہے۔

س :پھر وہاں تبدیلی کیسے آئی؟
ج : مارٹن لوتھر نے تحریک چلائی، اس کے خلاف احتجاج کیا گیا کہ پادری کا کوئی کام نہیں کہ وہ حکومتی ،علمی ، معاشرتی معاملات میں مداخلت کرے۔ مذہب انسان اور خدا کا ذاتی معاملہ ہے، پادری ڈنڈے کے زور پر اس پر عمل نہیں کروا سکتا اور جس مذہب کو یہ عیسائیت کہتے ہیں یہ تو عیسائیت ہے ہی نہیں، یہ اپنے بنائے ہوئے قانون کو ہمارے اوپر زبردستی نافذ نہیں کرسکتے، ہم عیسائیت کو مانتے ہیں پادری کو نہیں مانتے۔ جس کا جی چاہتا ہے وہ چرچ میں جاکر عبادت کر آئے ورنہ زبردستی کوئی نہیں، اس کے بعد پھر ترقی کا عمل شروع ہوا۔ بین السطور یہ مثال دینے کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے ہاں بھی ترقی کے لیے آپ کو کچھ اس طرح کے جرأت مند اقدامات کرنا پڑیں گے، کچھ لوگوں کو تو آگے آنا پڑے گا۔

س : پاکستان میں بھی تو خاموشی سے ایسی تحریک چل رہی ہے ؟
ج :بالکل ایسا ہی ہے، میں سمجھتا ہوں یہ سب بہت پہلے ہو جانا چاہئیے تھا۔ اب دیکھیں ہمارے جذبات اپنی جگہ پر، مذہب کے ساتھ ہماری وابستگی اپنی جگہ پر لیکن میں سمجھتا ہوں کہ مذہب کے اندر غیر منطقی اضافوں کا کوئی جواز نہ کبھی پہلے تھا اور نہ اب ہے۔ اسلام میں جو سب سے بڑی بات ہے وہ ہے اجتہاد۔ اجتہاد کو اسلام کے اندر بطور ایک سہولت رکھا گیا، علامہ اقبال کے پی ایچ ڈی تھیسز کا بنیادی موضوع بھی یہی تھا، انہوں نے اپنے تھیسز میں کہا کہ جب سے اسلام میں اجتہاد کا دروازہ بند ہوا ہے تب سے اسلام ایک ٹھہرے ہوئے پانی کی صورت اختیار کر گیا ہے اور پانی جب ٹھہر جائے تو اس میں سوائے تعفن کے اور کچھ نہیں رہتا۔ اقبال کا کہنا تھا کہ فقہ اسلامی نے گزشتہ 350سال سے اسلام کو ایک جامد اور منجمد مذہب بنا دیا ہے لہٰذا ضروری یہ ہے کہ تمام فقہ اسلامی کو تلف کر کے دنیا کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے مطابق ایک نئی فقہ تشکیل دی جائے اور اس کی گنجائش خود اسلام کے اندر موجود ہے، یہی راستہ اختیار کر کے ہم بدلتے ہوئے حالات اور بدلتی ہوئی سائنسی ترقی کے ساتھ چل سکتے ہیں، ہمارے یہاں مذہبی تعلیم کا نظام یہ ہے کہ دیہاتوں اور مدرسوں میں کم علم علماء لوگوں کو دین سکھا رہے ہوتے ہیں، جب علم ہی ادھورا پھیلے گا تو اس سے کوئی تکمیل نہیں ہو سکتی۔ ایک کم علم آدمی اپنے سے کم علم والے کو علم سکھائے گا تو وہ ادھورا علم ہی پھیلے گا اور اس نے بھی آگے جا کر یہی کام کرنا ہے۔

س: زندگی میں آنے والی تبدیلیوں کو کیسے قبول کرنا چاہئیے؟
ج: تبدیلی آنے اور تبدیلی کو قبول کرنے کا وقت اللہ کی طرف سے مقرر ہوتا ہے۔ درحقیقت یہ انقلاب کی ایک کیفیت ہے اور انقلاب ایک بہت بڑی سچائی کا نام ہے جو کہ ہمیشہ صرف سچے لوگوں میں ہی پھیلتی ہے۔ یہ تو تھی حقیقی تبدیلی کی بات اور اب ہم روزمرہ زندگی میں ترقیاتی تبدیلیوں کی بات کرتے ہیں مثلاً ایک وقت تھا کہ کنویں سے پانی بیلوں کے ذریعے نکالا جاتا تھا اور اب اس کی بہترین شکل ٹیوب ویل ہے۔ یہ ایجاد بھی ایک ترقیاتی تبدیلی ہے اور اسی طرح کچھ تبدیلیاں ایسی بھی ہوتی ہیں جو کہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہوتی ہیں مثلاً ذیابیطس تشخیص ہونے پر مان لیناچاہئیے کہ مجھے ذیابیطس تشخیص ہوگئی ہے اس کے بعد ڈاکٹر کے بتائے گئے علاج پر عمل کر کے پرہیز خوراک اور انسولین کے ذریعے ذیابیطس کنٹرول کرنی چاہئیے اور اگر کوئی اس تبدیلی کو نہیں مانے گا تو اس کا اپنا نقصان ہوگا۔ کچھ تبدیلیاں ایسی ہوتی ہیں جن میں ردوبدل کی گنجائش نہیں ہوتی اور انہیں قبول کرلینے میں ہی عافیت ہوتی ہے لیکن جن تبدیلیوں میں گنجائش موجود ہو ان کو ہم کوشش کر کے اپنی مرضی کے مطابق تبدیل کر سکتے ہیں۔

س: نئے ٹی وی چینلز کے لیے کوئی کام کر رہے ہیں ؟
ج :مجھے ان چینلز کی طرف سے آفر کیا گیا کہ آپ ہمارے لئے لکھیں تو بطور ایک پروفیشنل میں نے اسے قبول کیا اور لکھابھی کیونکہ یہ تبدیلی ناگزیر تبدیلی ہے، بلکہ اب تو پرائیویٹ چینلز کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ آج کل پاکستان ٹیلی ویژن کیلئے’’ دھند‘‘ کے نام سے ایک ڈرامہ سیریل لکھ رہا ہوں، اسی طرح ایک سیریل اے آر وائی ڈیجیٹل کیلئے بھی لکھ رہا ہوں۔

س: ٹی وی دیکھنے والوں کی پسند اور رویوں میں کوئی تبدیلی آئی؟
ج: بالکل آئی ہے، پہلے پاکستان ٹیلی ویژن کی اجارہ داری تھی، وہ جیسا چاہتے ڈراما دکھا دیتے تھے، دیکھنے والے اسے ڈراما سمجھ کر قبول کرلیتے اور اس پر خوش ہوجاتے۔ پرائیویٹ چینلز میں اضافوں کے ساتھ ساتھ پی ٹی وی کو بھی اپنے پیشکش کے انداز کو تبدیل کرنا پڑا۔ ریموٹ کنٹرول کی آمد نے بھی کافی حد تک دیکھنے والوں کی پسند یا نا پسند کو تبدیل کردیا ہے۔ پہلے یہ تھا کہ ایک چینل لگاہوا ہے، اُٹھ کر جانا، اسے تبدیل کرنا، یہ ایک مشکل کام تھا۔ ریموٹ کنٹرول سے یہ ہوا جیسے ہی کوئی ایک لوز شاٹ آیا، آپ نے بیٹھے بیٹھے سوئچ اوور کیا اور اگلے چینل پر ٹھہر گئے، وہاں نہیں تو اس سے اگلے چینل پر ٹھہر گئے ہیں۔اس سے نقصان یہ ہوا کہ دیکھنے والا سنجیدہ نہیں رہا یعنی غیر سنجیدہ ہوگیا ہے اور فائدہ یہ یہ ہوا کہ ایک مقابلے کی فضاء پیدا ہوگئی، اب ہر چینل کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ ایسے پروگرام دے جہاں ریموٹ کنٹرول ہاتھ میں ہوتے ہوئے بھی ناظر بے بس ہوجائے اور سوئچ اوور نہ کرسکے۔

س: نئے رائیٹرز کو بطور چیلنج کو کیسے قبول کرتے ہیں؟
ج: بہت خوشدلی سے قبول کررہا ہوں اور میری عمر کے باقی رائیٹرز بھی اسے قبول کررہے ہیں۔ اصل میں اب ہمارے لکھنے کی وہ ضرورت بھی نہیں رہی اور پھر ہمت بھی نہیں رہی۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ آج سے دس پندرہ سال پہلے میں جتنا زیادہ لکھ لیتا تھا اب نہیں لکھ سکتا، یہی کیفیت امجد اسلام امجد، اشفاق صاحب کے ساتھ بھی ہے کیونکہ وہ پہلے ہی لکھنا چھوڑ گئے۔ یہی کیفیت حسینہ معین کے ساتھ بھی ہے۔ لکھنے کے کام میں عمر کا بہت گہرا تعلق ہے، خصوصاً ڈرامے میں ذہنی مشقت کیساتھ ساتھ جسمانی مشقت بھی بہت کرنا پڑتی ہے۔ مختلف چیلنز پر ڈراما جس روش پر چل پڑا ہے ہم اس روش کے عادی بھی نہیں، شاید ہم اس کے ساتھ چل بھی نہ سکیں۔یہ وجہ بھی ہے اور تیسرا سب سے بڑا عنصر میں یہ سمجھتا ہوں کہ
ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں
تبدیلی کا عمل جو ہے یہی ایک مستقل عمل ہے باقی چیزیں پیچھے رہ جاتی ہیں۔ ہم نے کچھ لوگوں کی جگہ لی تھی اب یہ جگہ دوسروں کو دینی چاہیے، میں تو اس سلسلے میں نئے آنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں۔

س: مختلف شعبوں میں کام کیلئے باقاعدہ ٹریننگ حاصل کی؟
ج: میں نے کبھی کوئی باقاعدہ ٹریننگ حاصل نہیں کی۔ یہ سب اللہ کا کرم ہے، میں نے جس کام میں ہاتھ ڈالا، اس کے بارے میں اپنی ہی سطح پرتھوڑا سا پڑھنے اور جاننے کی کوشش کی اور اسے اختیار کر لیا۔ مثلاً کاپی رائٹنگ کی، دو چار بروشر دیکھے اور پانچ منٹ میں ڈیزائن تیار کرلیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ رائیٹر ایک غیر سند یافتہ ماہرنفسیات ہوتا ہے۔ اکیڈمکس نفسیات کے بارے میں رائٹر کچھ نہیں جانتالیکن رائٹر کو اپلائیڈ سائیکالوجی کے بارے میں سندیافتہ ماہرین نفسیات سے زیادہ پتاہوتا ہے اور ہونا بھی چاہئے۔ اسے یہ بھی پتا ہونا چاہئے کہ آج پیا ز کا کیا بھاؤ ہے اورانڈے کس طرح بک رہے ہیں یعنی علم کی وسیع رینج ہونی چاہئے۔ اگر اسے ان باتوں کا علم نہیں ہے تو میں نہیں سمجھتا کہ وہ بہتر طور پر کسی مسئلے کو سامنے لاسکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *