Go to Top

Umer Sharif

معاشرے کے مسائل پر گہری نظر رکھنے والے عمر شریف انٹرویو کے دوران صاف صاف کہتے ہیں کہ تعلیم یافتہ ہونا اور انگریزی بولنا دو مختلف چیزیں ہیں انگریزی بولنے والے بڑے بڑے جاہل بھی ہوتے ہیں۔ جو آدمی قابل ہو ذہین ہوتا ہے یہ خدا کا تحفہ ہے ٗ پالش اسے انسان خود کرتا ہے۔

عمر شریف بڑے کھرے انسان ہیں انہیں منافقت اچھی نہیں لگتی۔ پرخلوص محبت کے قائل ہیں۔ کہتے ہیں ’’شیر ایک درندہ ہے‘‘ آپ اس کی طاقت کا مقابلہ نہیں کرسکتے مگر پیار سے اسے سدھایا جاسکتا ہے۔ ہاتھ اور آنکھ سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی کیسا انسان ہے۔ جب انسان جانور کی آنکھ سے آنکھ ملاتا ہے اور ہاتھ پھیرتا ہے ٗ اس کے دیکھتے اور ہاتھ پھیرنے کے انداز ہی سے جانور یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ یہ میرا دشمن ہے یا دوست۔

بعض ساتھی فنکاروں کے خیال میں سٹیج شو کے دوران عمر شریف قصداً ان پر حاوی رہتے ہیں ۔ عمر شریف بڑی خوبصورتی سے اس الزا م کا جواب دیتے ہیں کہ سٹیج تو اوپن میڈیا ہے کوئی کسی کو نہیں دبا سکتا پھر جب پروفیشنل ہو جائیں تو اس میں لحاظ نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی ٗ آپ کبھی نہیں چاہیں گے کہ ساتھ والی دکان آپ سے بہتر ہو جائے۔
عمر شریف بتاے ہیں ’’ میں بحرین میں تھا ٗ سڑک کے ذریعے سفر کر رہا تھا ٗ کچھ سست سا محسوس کر رہا تھا اور پیاس بہت لگ رہی تھی اور میں کولڈ ڈرنکس پیتا جا رہا تھا۔ میرے ایک دوست مجھے ہسپتال لے گئے۔ وہاں ڈاکٹر صاحب نے مجھے بتایا کہ شوگر 300 سے اوپر ہے اور ڈائینل تجویز کر دی۔ اس سے میری شوگر نارمل سے تھوڑی کم ہو جاتی ٗ ڈاکٹر صاحب نے مشورہ دیا کہ تھوڑی ڈوز کم کر دوں اس سے صورتحال بہتر ہوگئی۔

عمر شریف نے اپنی ذیابیطس نہایت خوبصورتی سے کنٹرول کی ہوئی ہے اور ذریعہ ہے ورزش۔ عمر شریف کے بقول ’’خدا نے میرے کام میں ہی میرے لئے میڈیسن رکھ دی ہے۔ سٹیج پر بھاگ دوڑ ٗ 4 ٗ 4 گھنٹے پرفارم کرنا ٗ رات بھر فلمبندی کرنا ٗ یہ سب ذیابیطس پر قابو پانے میں مدد دیتے ہیں۔

عمر شریف کیا خوب کہتے ہیں کہ ذیابیطس کے ساتھ جتنا کام کریں گے ٗ اتنا ہی تازہ دم رہیں گے۔ کام کرنے سے شوگر استعمال ہوتی ہے۔ ذہن کو بھی شوگر چلاتی ہے۔ میں اتنا ذہنی کام کرتا ہوں مگر شوگر کبھی کام سے نہیں روکتی ٗ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ شوگر کی وجہ سے بستر پر گر جاؤں۔تمثیل کے ماہر عمر شریف کے خیال میں شوگر کی مثال ایک شیر کی سی ہے جس کا تقاضہ ہے کہ اسے چینی ٗ کیک پیسٹری نہیں کھلانا ٗ کولڈ ڈرنکس نہیں پلانا ٗ کھانا تھوڑی تھوڑی مقدار میں وقفے وقفے سے کھانا ہے۔ آپ اس شیر کی باتیں مانیں گے تو یہ آپ کی باتیں مانے گا۔

جاوید چودھری
’’میں پورے گھر میں بڑا بچہ تھا اور شروع میں جسمانی طور پر بہت کمزور تھا ٗ والدین نے سوا اور تو کسی کام آ نہیں سکتا چلو اسے سکول ہی میں داخل کرا دو ٗ سکول بھی کوئی خاص نہیں تھا بس برگد کا ایک درخت تھا اور وہ بھی قربستان میں ٗ برگد کے اس درخت کو کسی نے ڈیکلیئر کر دیا تھا کہ یہ سکول ہے۔

میں کمزور ہونے کی وجہ سے محسوس کرتا تھا کہ جو لوگ مضبوط ہوتے ہیں وہی کامیاب ہونے کی وجہ سے محسوس کرتا تھا کہ جو لوگ مضبوط ہوتے ہیں وہی کامیاب ہوتے ہیں ٗ اس خیال سے آپ کو ایک نیم حکیم کے حوالے کر دیا جو مجھے ’’طاقتور‘‘ بنانے کے لئے سٹیر ائیڈز دیتا رہا ٗ شاید ذیابیطس بھی مجھے اسی وجہ سے ہوئی ٗ یہ خمیازہ بھگتنے کے بعد میں نے سوچا کہ ذہنی طور پر ہی طاقتور بن جائیں ۔ اس سے یہ ہوا کہ چھوٹی ہی عمر میں طالب علمی کی سطح سے نکل گیا۔ زیادہ تر اساتذہ کی صحبت اختیار کی۔
جرنلزم میں ٹاپ کیا اور 1992 ء میں عملی صحافت میں آگیا۔ بس کالج میں ایک دوست نے بتایا کہ اخبارات میں ملازمت کرنے کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ریلوے اور پی آئی اے کا کرایہ آدھا ہوتا ہے۔

تنخواہ 1992ء میں 1800 روپے تھی۔ انہوں نے 6 ماہ بعد 200 روپے بڑھا دیئے لیکن مجھے محسوس ہوا کہ گزارہ نہیں ہوسکتا ٗ اس وجہ سے میں نے نوائے وقت چھوڑ دیا۔‘‘1993ء میں اسلام آباد سے روزنامہ پاکستان نکلا تو وہاں سب ایڈیٹر ہوگئے ٗ پھر نیوز ایڈیٹر بن گئے۔ ان دنوں امریکہ میں ایک وکیل نے پاکستان کو گالی دی تھی ٗ اس پر کالم لکھا ٗ اس پر بے انتہا فیڈ بیک آیا اور سینئر لوگوں نے کہا کہ تم کالمسٹ بن چکے ہو۔ ہارون الرشید کے الفاظ بہت خوبصورت ہوتے ہیں ٗ حسن نثار کی تحریر میں بے انتہا تلخی ہے۔ عطاء الحق قاسمی کی تحریر میں شگفتگی ہے۔ اسی طرح مجھے عبدالقادر حسن کا پتا چلا کر وہ کرنٹ ایشوز پر لکھتے ہیں۔ جبکہ ارشاد احمد حقانی کی تحریر میں تجزیہ ہوتا ہے ٗ میں نے سوچا کوئی نئی چیز اور انوکھا پن ہونا چاہیئے ٗ میں نے کالم کو کہانی کی طرز پر لکھنا شروع کیا۔ ’’میرے کالموں پر کچھ لوگ خوش ہوتے ہیں کچھ ناراض ۔ مجموعی طور پر لوگ پسند کرتے ہیں۔ اس میں منافقت ہے جو پورے پاکستان کا مسئلہ ہے۔ ہماری سوسائٹی میں بے انتہا خرابیاں ہیں۔ لیکن فی الحال تو ضرورت ہے کہ کہیں سے کوئی لیڈر نکل آئے۔ ‘‘
جاوید چودھری زندگی بھر کسی ترتیب سے نہیں چلے ٗ وہ بارانی علاقے ے رہنے والے ہیں ٗ وہاں کے باشندوں میں اپنے طور پر پلاننگ نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی ٗ وہاں کا کسان بس ہل چلاتا ہے ٗ بیج پھینکتا ہے اور باقی سب کچھ خدا پر چھوڑ دیتا ہے۔ ’’میرے نزدیک یہ ایک سوال ہے کہ میں دنیا میں کیوں ہوں؟ مجھے اللہ تعالیٰ نے اس لئے تو پیدا نہیں کیا کہ پچاس ٹن اناج کھلا کر چلا جاؤں یا ایک سو ستر گز کپڑا استعمال کر جاؤں وغیرہ ٗ ظاہر ہے کہ مجھے دنیا میں بھیجے جانے کا کوئی نہ کوئی مقصد تو ہوگا ٗ یہ چیز مجھے بہت تنگ کرتی ہے۔‘‘مسلسل ٹینشن میں رہتا ہوں ٗ ہم جیسے لوگ چوبیس گھنٹے پریشان رہتے ہیں ٗ ایک پریشانی ختم ہو جائے تو کوئی نئی پریشانی پیدا کر لیتے ہیں۔

بیوی سے مکمل طور پر اتفاق کرتا ہوں ٗ گھر چلانے کی ذمہ داری انہی پر ہے ٗ میرے تین بچے ہیں ٗ انہیں آپ کیا بنانا چاہیں گے؟ ’’کچھ بھی نہیں ٗ اس پر یقین نہیں رکھتا ٗ بہت برا والد ہوں ٗ بچوں پر کوئی توجہ نہیں دی ٗ بس یہ کیا ہے کہ اچھے سکولوں میں داخل کروا دیا لیکن انہیں کمپنی نہیں دے سکتا۔ 1997ء میں اس کی تشخیص ہوئی تھی ٗ مجھے لوگ کہتے تھے کہ تم کمزور بہت زیادہ ہو رہے ہو ٗ اس وقت میں سٹریس میں تھا کہ تم کمزور بہت زیادہ ہو رہے ہو ٗ اس وقت میں سٹریس میں تھا ٗ محسوس کرتا تھا کہ یہ کیفیت ٹینشن کی وجہ سے ہے لیکن وزن تیزی سے کم ہو رہا تھا ٗ اس دوران شوگر چیک کرائی تو 355 تھی۔ اس عمر میں شوگر ہوجانا میرے لئے بہت صدمہ تھا۔ ڈاکٹر نے کہا کہ آپ کو ٹائپ I شوگر ہے ٗ اس میں انسولین لگانا پڑے گی ٗ میں نے کہا کہ ٹیکا تو میں نے نہیں لگانا ٗ اس پر انہوں نے گولیاں شروع کرا دیں ٗ کچھ عرصے بعد ڈسپلن میں آگیا تو میری شوگر کم ہونا شروع ہوئی ٗ میں نے محسوس کیا کہ گرمیوں میں میری شوگر ٹھیک رہتی ہے اور سردیوں میں زیادہ ٗ میں نے کئی گولیاں بدلی ہیں ٗ شوگر کبھی ٹھیک رہتی ہے کبھی ٹھیک نہیں رہتی۔ آج صبح فاسٹنگ میں 127 تھی لیکن شام کو اکثر 250 ہوتی ہے۔ْ ؑ ؑ ؑ ؁ؑ ُؑ ُُْْؐؑ ُؑ ِؑ مجبوری میں تو سب کچھ کرتے ہیں ٗ مجبوری میں تو لوگ اپنے اعضاء بھی کٹوا دیتے ہیں ٗ آدمی زندگی بچانے کے لئے تو سب کچھ کرسکتا ہے ‘‘ ۔ ’’بہت زیادہ ٗ میں لٹریچر پڑھتا رہتا ہوں ٗ بی ٹاسیلز کے بارے میں پتا ہے ٗ ذیابیطس میں ہر پیشرفت کا پتا ہے لیکن خود اچھے علاج میں نہیں ہوں ٗ کافی لاپرواہی برت رہا ہوں ٗ کیلیفورنیا میں ریسرچ ہوئی کہ دار چینی کا قہو ہ پینے سے شوگر کا معاملہ بہتر ہو جاتا ہے ٗ یہ مجھے پتا ہے لیکن یہ نہیں پتا کہ انسولین میرے لئے ضروری ہے ۔

لوگ دیسی دوائیاں لا کر دیتے رہتے ہیں اور میں کھاتا رہتا ہوں ٗ اس سے میری شو گر کئی بار ٹھیک بھی ہوگئی (پھر ہنستے ہوئے کہا) کیا آپ کو میرا یہ تجزیہ اچھا نہیں لگا کہ میری شوگر کئی بار ٹھیک ہوئی ہے؟ میں نے پی ایچ ڈی لوگوں کو تعویز پیتے اور بابوں سے پھونکیں مرواتے دیکھا ہے ٗ مریض چاہتا ہے کہ کوئی چیز ایسی ہو جس سے وہ ٹھیک ہو جائے ایلوپیتھی میں کوئی دوا ایسی نہیں جو اس مرض کو جڑ سے اکھاڑ سکے۔سرگودھا سے ایک بندہ آیا ٗ وہ ٹرکوں کے اڈے پر دوائی تقسیم کرتا ہے ٗ وہ کہتا ہے کہ ٹھیک پانچ بجے دوائی لینی ہے اور صرف ایک ہفتہ کھانی ہے ٗ دوائی کے بعد کوئی پھل نہیں کھانا ٗ مرغی نہیں کھانی ٗ میں نے دوائی کھائی لیکن کام نہیں بنا شاید میں نے پونے پانچ بجے کھائی تھی۔‘‘ہر انسان اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ دنیا میں معجزہ ہوسکتا ہے ٗ آپ بھی اس چیز کے قائل ہوں گے ٗض بیشتر مریض بنیادی طور پر ٹھیک ہونا چاہتے ہیں ٗ اس لئے چیک کرتے رہتے ہیں ٗ جو آدمی کسی مسئلے میں پھنسا ہوتا ہے اس کی نظر میں کوئی تھراپی نہیں ہوتی ٗ وہ صرف صحت یاب ہونا چاہتا ہے ٗ میرا آنکھوں دیکھا واقعہ ہے ایک لیڈی ڈاکٹر کا کوئی بچہ نہیں تھا ٗ وہ میاں بیوی پانی دم کرانے کے لئے بابا ملتانی کے پاس آئے تھے۔‘‘

ایس مریض جن کی بیماری بگڑی ہوئی ہوتی ہے وہ تو ایلوپیتھک ڈاکٹروں کے پاس آتے ہیں خاص طور پر جب ایمرجنسی ہو ٗ جیسے شوگر کا مریض جو غشی میں چلا گیا ہو۔ ’’ایلوپیتھی ایمرجنسی کا ٹریٹمنٹ ہے اس میں کوئی شک نہیں ٗ سرجری میں بھی اس کا کوئی جواب نہیں ٗ ایک پڑیا سے کینسر ختم کرنے کا دعویٰ کسی بھی طرف سے آئے وہ مریض کے ساتھ زیادتی ہے ٗ یہ تو دکانداری ہے ٗ ہیپاٹائٹس سی کے لئے پڑیاں ملتی ہیں ٗ یہ مریض کے ساتھ ظلم ہے۔‘‘ بعض لوگ مریض کو گمراہ کر دیتے ہیں ٗ لالچ دیتے ہیں ٗ اچھے خواب دکھاتے ہیں ۔ہمارے ملک میں شوگر کا علاج کیسا ہے؟ مجھے تو کوئی اچھا ڈاکٹر نہیں ملا جو مجھے ٹھیک طریقے سے گائیڈ کرسکے ٗ میں جتنے ڈاکٹروں کے پاس گیا ہوں میرے پاس ان سے زیادہ معلومات تھیں ٗ اچھے فزیشن میسر نہیں ہیں ٗ اسلام آباد جو پاکستان کا دارالحکومت ہے یہاں یہ حال ہے تو دوسرے علاقوں میں کیا ہوگا؟ اس سے ہم بخوبی اندازہ لگاسکتے ہیں ٗ یہی وجہ ہے کہ میری بلڈ شوگر صبح سدھر رہتی ہے اور شام کو بگڑی رہتی ہے۔

مرض کوئی بھی ہو علاج میں حوصلے اور قوت ارادی کی ضرورت ہوتی ہے ٗ دوائیاں تب اثر کرتی ہیں جب آپ اندر سے زندہ ہوں ٗ جب تک مریض یہ ذمہ داری قبول نہیں کرتا اس کا علاج ممکن نہیں ٗ آخری بات یہ کہ ڈاکٹر چنیں تو ذرا سوچ سمجھ کر ٗ باقی آپ خود سمجھ دار ہیں۔‘‘

کمال احمد رضوی :

سکول گاؤں سے بہت دور تھا ٗ ایک پون گھنٹے کا سفر تھا ٗ ہم چار پانچ بجے اکٹھے جاتے تھے ۔ میری والدہ نہیں تھیں ٗ ان بچوں کی مائیں انہیں لاڈ کرتی تھیں تو میں محسوس کرتا کہ میری ماں ہوتی تو مجھے بھی پیار کرتی۔ میرا کوئی بھائی بہن نہیں تھا۔ دوسرے بچوں کے پاس بہت سے کھلونے ہوتے تھے میرے پاس ایک بھی نہیں تھا۔ سات سال کے بعد میرے والد صاحب نے دوسری شادی کرلی۔ میں ان خاتون کو نہیں جانتا تھا ٗ وہ مجھے پیار کرتی تھی لیکن میں نہیں کرسکتا تھا۔ دوسروں کی ماؤں کو پیار کرتے دیکھتا تو وہ خاتون جو کرتی تھی وہ مجھے جھوٹا جھوٹا لگتا تھا ٗ میں یہ دیکھ کر جلتا تھا کہ ابو کس طرح ان کے منہ میں لقمے ڈالتے تھے ۔ 1975ء میں انگلینڈ میں ایک بھارتی خاتون سے شادی کی ٗ وہ بھی نہ چلی ٗ وہ کہتی تھیں کہ پاکستان میں لوگ انہیں بہت غور سے دیکھتے ہیں ۔ میں نے کہا میں بھی لڑکیوں کو بہت غور سے دیکھتا ہوں ۔ میرے اردگرد لوگوں کا ہجوم ہوتا تو انہیں اس پر اعتراض ہوتا تھا۔ پھر وہ بھارت چلی گئیں۔ اس کے بعد ایک خاتون نے مجھے فون کرنا شروع کر دیا۔ اس نے کہا آپ خوبصورت نظر آتے ہیں ٗ میں آپ سے پیار کرتی ہوں۔ میں نے کہا کہ تم پاگل ہوگئی ٗ ہوا بھی میری پرسوں طلاق ہوئی ہے۔
لندن میں میری بیوی میرے ساتھ تھی ٗ مجھے لگا کہ میں کمزور ہوگیا ہوں ٗ مجھ سے چلا نہیں جا رہا تھا۔ ڈاکٹر کے پاس گیا چیک کی تو شوگر 300 تھی۔ یہ مرض مجھے حساس ہونے کی وجہ سے ہوا۔ زندگی کے اتار چڑھاؤ میں ایسے جذباتی دھچکے آئے جن کا مجھ پر بہت گہرا اثر ہوا۔ شروع میں ناواقفیت کی وجہ سے اس کا ڈرا وا بہت ہوتا ہے کہ اب آپ کھا بھی نہیں سکتے پی بھی نہیں سکتے اور آپ کی زندگی عذاب بن جائے گی۔
روزانہ چالیس منٹ کی واک گھر کے لان میں کرتا ہوں پھر لبرٹی پارک چلا جاتا ہوں ۔ کریلوں کا پانی تو میں نے بہت پیا ہے۔ جب آدمی کی مت ماری جاتی ہے اور اسے یہ کہہ دیا جائے کہ اس سے آپ کا کام ہو جائے گا تو وہ کرتا ہے۔ عقیدے کا عقل سے کوئی تعلق نہیں ۔ میں بھارت میں ایک بڑے سکالر ہندو دوست کے گھر گیا تو کمرے کی الماری میں مورتیاں بھی تھیں۔ مجھے تعجب ہوا کہ اتنا پڑھا لکھا آدمی بھی ایمان رکھتا ہے کہ بے جان مورتی اوتار اور رہنما ہے۔ میری بیوی نے میرا بہت ساتھ دیا ٗ وہ کہتی ہے کہ اس بیماری کو اس کا کام کرنے دو تم اپنا کام کرو۔
’’الف نون‘‘ میں خود کو جس طرح منفی پیش کیا اس سے بڑے منفی اثرات پیدا ہوئے ٗ لوگ میرا چہرہ دیکھ کر رائے قائم کرلیتے ہیں کہ میں کوئی دھوکے باز قسم کا آدمی ہوں ٗ یہ کردار کرنے کے بعد کسی شخص نے مجھ پر بھروسہ نہیں کیا ٗ لوگ مجھے ’’الن‘‘ کے طور پر لیتے رہے حتیٰ کہ کچھ دانشوروں تک نے کہا کہ ’’کیا تم نے ہمیں ننھا سمجھ رکھا ہے۔‘‘ ایک دفعہ میں لاہور سے ڈرافٹ لے کر کراچی گیا تو بینک مینجر کہنے لگا کہ دیکھیں یہ ڈرافٹ گڑ بڑ تو نہیں کہیں میری نوکری نہ چلی جائے۔
مجھے اس ’’رسوائی کی بھی خوشی ہے۔ معاشرے میں پچانوے فیصد ’’ ننھے‘‘ ہیں اور پانچ فیصد ’’الن‘‘پھر بھی الن قسم کے لوگوں کا معاشرے پر غلبہ ہے۔ الف نون میں ہر ہفتے کسی نئے طریقے واردات کا ذکر ہوتا تھا کیا اس سے لوگوں کو کوئی رہنمائی ملی؟نہیں! بلکہ لوگوں نے اس طرح وارداتوں کے نئے طریقے سیکھ لئے۔
جس معاشرے میں قانون نہ ہو ٗ سرکاری اداروں کا حال آپ دیکھ رہے ہیں پھر بھی پوچھ رہے ہیں کہ کیا کوئی رائلٹی ملتی ہے ٗ نہیں کوئی رائلٹی نہیں ملتی۔ مجھے ایک خاتون نے خط لکھا کہ اس کا بیٹا معذور ہے بول سکتا ہے نہ چل سکتا ہے لیکن جب ’’الف نون‘‘ چلتا ہے تو ہنسنا شروع کر دیتا ہے۔ میں اور رفیع خاور (ننھا) لاہور میں بی بی پاک دامن کے علاقے میں ان کے گھر گئے ٗ اس بچے نے ہمیں دیکھا تو بہت خوش ہوا ٗ اس سے میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔ میں نے کہا یار! دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں کتنی عزت دی ہے اور کتنا کرم ہے اس کا کہ گلیوں میں کھڑے رہنے والے لچے لفنگے تو ہمارے پروگراموں سے ہنس ہی رہے ہیں یہ معذور بچہ بھی ہنس رہا ہے۔ وہ ٹی وی ٹیسٹ میں فیل ہوگیا تھا ۔ میں اسے اپنے ساتھ ’’الف نون‘‘ میں لے آیا ٗ اس آئیڈیا میں اس کا بھی داخل تھا۔ ماڈرن تھیٹر کو میں نے ہی جنم دیا ہے ۔ وہ جس گلی میں جا پہنچا ہے اللہ تعالیٰ اس میں جانے سے شریفوں کو محفوظ رکھے۔ کراچی میں سٹیج ڈرامے کے مہمان خصوصی کے طور پر پہلی قطار کے مرکزی صوفے پر بیٹھا تھا تو سٹیج پر جو کچھ ہوا اس کی طرف میری آنکھیں اٹھیں نہیں البتہ کان سنتے رہے ٗ میں سر پیٹتا رہا حالانکہ ہاتھ نہیں اٹھ رہے تھے۔ کسی بھی ذریعے سے پیسے کمانے والا شخص کہے کہ میں بھی فلم بناسکتا ہوں اور وہ نوٹوں کی بوریاں لے کر سٹوڈیو میں چلا جائے تو اسے فلم کی الف بے کا پتا نہیں ہوتا ٗ پیسوں والے جاہل سٹوڈیو میں گھس گئے ٗ اچھا پہلوان سٹوڈیو میں گھس گیا ٗ اس نے فلم ’’ملنگی‘‘ بنائی اور کروڑوں روپے کمالئے‘‘ اس کے بعد جس جس کے پاس ناجائز پیسے تھے ٗ وہ سب ۔۔۔ اس انڈسٹری میں آگئے ہیں ۔

کھرا آدمی ہوں ٗ سیاست میرے کرنے کا کام ہے ہی نہیں۔ اس وقت چونکہ میرا سکہ چل رہا تھا اس لئے ٹی وی والے بھی برداشت کرتے تھے ٗ کام تو کسی کو آتا نہیں تھا ٗ وہ بیچارے مجبور تھے۔ ایک دفعہ نور جہاں کہنے لگیں ’’کراچی تک بذریعہ ٹرین سفر کے دوران پڑھنے کے لئے آپ کی ایک کتاب لاہور ریلوے اسٹیشن سے خریدی تھی‘‘ میں نے کہا ’’میری کتاب؟‘‘ وہ یہی تھی ’’میٹھے بول میں جادو ہے‘‘ نورجہاں نے بتایا کہ سفر کے دوران وہ یہ کتاب ساری پڑھ گئیں۔ اطہر شاہ خان (جیدی) نے بتایا کہ بی اے کا امتحان اچھے نمبروں میں پاس کرنے پر کالج والوں نے انہیں یہ کتاب انعام کے طور پر دی ۔

نکول جانسن

1993ء میں ایک دلکش مسکراہٹ والی لڑکی جنوبی فلوریڈا یونیورسٹی میں سکینڈ ایئر کی طالبہ تھی اور نام تھا اس کا نکول جانسن۔ 19 سالہ نکول جانسن کو اسی سال ذیابیطس ٹائپ I تشخیص ہوئی۔ نکول جانسن بتاتی ہیں کہ شروع میں بلڈ شوگر مانیٹرنگ اور انسولین کے ٹیکوں سے کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتی تھی۔ مجھے ڈپریشن ٗ انکار اور غصے کا سامنا کرنا پڑا۔ پھر ایک دن میں نے ایک نوجوان لڑکی کے متعلق خبر پڑھی جو پیچیدگیوں کی وجہ سے ذیابیطس کے خلاف اپنی جنگ ہار گئی تھی۔ اس کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ اب میں اپنی ذیابیطس پر کنٹرول پاؤں گی اسے خود پر قابو پانے کی اجازت نہیں دوں گی۔ نکول اپنے عزم کی پکی تھی ٗ اس نے ذیابیطس اس خوبصورتی سے کنٹرول کی کہ دن بدن ان کی سمارٹ نس میں اضافہ ہوتا گیا اور جب 1998ء میں نکول نے جرنلزم میں ماسٹرز کیا وہ مس امریکہ 1990ء کہا جاسکتا ہے ہے کہ کسی بھی اعلیٰ شخصیت نے ذبابیطس کے متعلق آگاہی بڑھانے کی غرض سے نکول جانسن سے زیادہ کام نہیں کیا۔ ستمبر 2000ء میں ملکہ حسن کے طور پر اپنا تاج چھوڑنے کے بعد سے انہوں نے لوگوں کو ذیابیطس سے آگاہی کے متعلق اپنے جہاد میں کوئی کمی نہیں آنے دی ٗ انہیں 1993ء میں اس وقت ٹائپ I ذیابیطس ہوئی جب وہ 19 سال کی عمر میں جنوبی فلوریڈا یونیورسٹی میں سکینڈ ایئر کی طالبہ تھیں۔ 1996 ء میں انگلش میں گریجویئشن کی۔ 1998ء جزنلزم میں ماسٹر کیا۔ ستمبر میں وہ مس امریکہ 1999ء منتخب ہوئیں ٗ اس حیثیت سے ایک سال کا عرصہ انہوں نے ’’خفیہ قاتل‘‘ ذیابیطس کے متعلق آگاہی بڑھانے کے مشن کی تکمیل میں گزارا۔ نکول جانسن بہت سے اداروں کی بین الاقوامی ترجمان بن گئیں۔
متعدد ٹی وی پروگراموں میں مہمان بنیں ٗ میزبان کا کردار کیا اور رپورٹنگ بھی کی ۔ انہیں کئی ایوارڈ ملے۔ ان میں وکٹری اورڈایابیٹیز میڈل پولش ڈایابیٹیز ایسوسی ایشن ٗ بل گلکسن ایوارڈ جاپان ایسوسی ایشن فار ڈایا بیٹیز اور مس ورجینا 1998 ء بھی شامل ہیں۔ اس دوران انہوں نے دو کتابیں لکھنے اور دنیا کا انتھک دورہ کرنے کے لئے بھی وقت نکالا۔ ذیابیطس سے مجھے ردعمل کی بجائے عمل کی سوچ اپنانے کا احساس ملا ٗ مجھے ایسی قوت بھی ملی جو ابتدائی برسوں میں میسر نہیں تھی اب میں اس قوت کے ساتھ اپنی زندگی کے لئے لڑتی ہوں۔ شروع میں مجھے ڈیپریشن ٗ انکار اور غصے کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک نوجوان لڑکی کے متعلق ایک خبر پڑھ کر ہوا جو پیچیدگیوں کی وجہ سے ذیابیطس کے خلاف اپنی جنگ ہار گئی تھی۔ اس کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ اب میں اپنی ذیابیطس پر کنٹرول پاؤں گی اسے خود پر قابو پانے کی اجازت نہیں دوں گی۔
ان میں سے ایک کھانوں کے متعلق ہے جس کا نام ’’ذیابیطس میں کھانا ٗ فوری اور آسان‘‘ ۔۔۔ ہے ٗ دوسری کتاب ’’ذیابیطس کے ساتھ زندگی ۔۔۔ نکول جانسن کی کہانی‘‘ ۔ ذبابیطس کی آگاہی بڑھانے کے لئے دنیا بھر میں سفر کرتی ہوں ٗ اپنی بلڈ شوگر بار بار چیک کرتی ہوں ٗ دنیا کے مختلف حصوں میں وقت کا فرق چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے تاہم اسے بہتر طور پر ترتیب دیا جاسکتا ہے۔ میرے بیگ اور کار میں بلڈ شوگر ٹیسٹ کرنے کا سامان ہوتا ہے ٗ اس لئے میں ان مسائل سے بچی رہتی ہوں جو سفر کے دوران یہ آلات میسر نہ آنے سے پیش آسکتے ہیں۔ میں اپنے لئے مختصر مدت کے گول متعین کرتی ہوں مثلاً ہر روز کے لئے میرا گول ہے کہ میری چھ میں سے چار شوگر ٹیسٹ ریڈنگز نارمل رینج میں ہوں۔ انسولین پمپ میری زندگی میں لچک اور آزادی مہیا کرتا ہے۔ ہمیشہ ہی کسی مخصوص کھانے یا خوراک کے لئے تیار رہتی ہوں بشرطیکہ اس کی سطح پر چکنائی کی تہہ نہ ہو۔ ورزش ہر روز تھوڑی تھوڑی کرسکتے ہیں تو وہی کرلیں ٗ مجھے جہاں بھی موقع ملتا ہے ورزش کرلیتی ہوں ٗ کئی دفعہ تو میں ہوائی اڈے ٗ مارکیٹ یا ہوٹل کی سیڑھیوں پر پیدل چل رہی ہوتی ہوں۔
مجھے فخر ہے کہ میرا HBA1c سفر کے زور دار شیڈول کے باوجود %6.5 رہتا ہے ٗ میری اوسط بلڈ شوگر 130 ملی گرام رہتی ہے۔ ’’منی میڈ 508‘‘ پمپ اب بھی میرے پاس ہے اور میں اسے بہت عزیز رکھتی ہوں۔ میرا بلڈ شوگر کنٹرول بتدریج بہتر ہوتا جا رہا ہے یہ پمپ اور ہیومالوگ (لسپرو) انسولین کی بدولت ہی ہے۔ ذیابیطس صرف بڑے سپیشل لوگوں کو ہوتی ہے۔ بچے یاد رکھیں ان میں ذیابیطس کو شکست دینے کی طاقت موجود ہے۔ ذاتی کامیابی کی چابیاں ان کے پاس ہیں۔ ہم میں ہر ایک میں بڑی بے مثال صلاحیتیں موجود ہیں۔ یہ انسانیت کے حسن کا ایک حصہ ہے ٗ اپنے مقاصد کے حصول اور خوابوں کی تعبیر کی غرض سے ہمارے لئے ذیابیطس پر اچھا کنٹرول بہت ضروری ہے۔ کبھی نہ بھولیں کہ جب آپ صحت مند اور متحرک ہوں تو کوئی چیز ناممکن نہیں ہوتی۔ مضمون میں کہا ہے کہ ذیابیطس سے نمٹنے کے لئے کوئی ایک طریقہ نہیں ہے تاہم سب سے پہلے تو یہ بات تسلیم کرنا اہم ہے کہ ہر شخص میں ذیابیطس بہت مختلف ہوتی ہے۔ نکول جانسن نے کچھ گُر بتائے ہیں جن سے انہیں اور ان کی فیملی کو ذیابیطس سے نمٹنے میں مدد ملی۔ اپنی میڈیکل ٹیم کے ساتھ اچھا تعلقات ٗ سپورٹ گرل ٗ پُرامید رہنا ٗ انسانی وسائل کا استعمال ٗ بالاتر ہستی سے مدد کی دُعا ٗ اپنی ذیابیطس کے ساتھ مقابلہ مثلاً میں اپنے آپ سے چیلنج کرتی ہوں کہ اگلے تین دنوں میں میرا بلڈ شوگر لیول پرفیکٹ رہے گا اگر میں اس چیلنج سے نبٹنے میں سرخرو ہو جاؤں تو میں آئس کریم پارلر کا رُخ کرتی ہوں ٗ ورنہ ’’ٹھنڈی‘‘ ہو کر بیٹھ جاتی ہوں۔ میں روز روز ایسا کرتی ہوں ٗ یہ تو کبھی کبھی کی بات ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *