Go to Top

بطخیں شور مچاتی ہیں

’’ یہ سب کچھ کیسے ہوتا ہے ؟‘‘

’’ آہستہ آہستہ، لیکن اگر بہتری پیدا نہ ہو رہی ہو تو بعض اوقات ہمیں پیچھے ہٹنا پڑتا ہے اور پچھلا انداز اختیار کرنا پڑتا ہے، نظریہ یہ ہے کہ ہمارا مریض عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرے مثلاً مریض اپنا وزن گھٹانے میں کامیابی حاصل کرے تو تمام تر کریڈٹ ہم اس کو ہی دے دیتے ہیں، اگر مریض کسی ذمہ داری کو پورا نہ کر سکے تو بعض اوقات ہم خود اپنی غلطی تسلیم کر لیتے ہیں۔ ہمارے غلطی تسلیم کرنے سے مریض کو مدد ملتی ہے، ہم کہتے ہیں ’’سوری! ہم نے غلطی سے آپ کو زیادہ ذمہ داری سونپ دی تھی۔‘‘

’’ تو یہاں ذمہ داری کے تعین اور تعریف کا معاملہ آ جاتا ہے؟‘‘ جاوید نے کہا۔

’’ تعریف کرنے سے ہم آہستہ آہستہ آ گے بڑھتے ہیں لیکن یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ تنبیہہ ہم صرف تیسرے اور چوتھے درجے پر کرتے ہیں۔‘‘

’’ وہ کیوں؟‘‘ جاوید نے کہا۔

’’ یہ تو آپ کو اب تک معلوم ہو جانا چاہیئے۔‘‘

’’ میں اب سمجھا، تنبیہہ صرف ایسے مریضوں کو کی جاتی ہے جو ایک دفعہ مہارت کا مظاہرہ کر چکے ہوں اور اب غفلت کا مظاہرہ کر رہے ہوں، علاج مریض پر تھوپ دینے والی کوئی چیز نہیں ہے، یہ مریضوں کے ساتھ مل کر کیا جاتا ہے۔ جب ہم مریضوں سے مل بیٹھتے ہیں اور ذمہ داریوں کا تعین کرتے ہیں تو ہم مناسب ذمہ داریوں کا تعین کرتے ہیں۔‘‘

’’ اگر ذمہ داریوں کے مناسب ،،ہونے پر اختلاف رائے ہو؟‘‘ جاوید نے کہا۔

’’ تو پھر ہم باہمی صلاح مشورے سے اختلاف طے کر لیتے ہیں۔ کبھی مریض کے مشورے کو فوقیت دی جاتی ہے اور کبھی ہمارے۔ جب ایک دفعہ نشوونما کی سطح ہم واضح ہو جاتی ہے تو پھر علاج کا انداز اپنانے میں کوئی دشورای نہیں ہوتی، تاہم اصل چیز تسلسل ہے۔ تسلسل کا مطلب یہ ہے کہ ہم علاج کا انداز مسلسل بدلتے رہیں۔ ہم اصل میں چاہتے یہ ہیں کہ مریض اپنے قدموں پر کھڑا ہو جائے۔ مریض میں ہمیشہ صلاحیتیں ہوتی ہیں۔ بس ان صلاحیتوں کو دریافت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کا انحصار زیادہ تر ڈاکٹر کے روئیے پر ہوتا ہے۔‘‘

’’ بہت بہت شکریہ!‘‘ اب میری اگلی منزل ڈایابیٹک بننا ہے۔‘‘ جاوید نے کہا۔

وقت گزرتا رہا، جاوید بحالی اور خوشحالی کی منزلیں طے کرتا رہا، آخر وہ دن آ پہنچا۔ 14 اگست 2000 کو ڈایا بیٹکس انسٹیٹیوٹ پاکستان میں خصوصی تقریب تھی، جاوید کو ماڈل ڈایا بیٹک کا اعزاز ملا، ڈاکٹر خرم نے تالیوں کی گونج میں جاوید کو گلے لگایا، جاوید جانتا تھا کہ اس کا سفر اب شروع ہوا ہے لیکن راستہ اب پرخار نہیں، گلزار ہے۔

Next Page : 2 , 3 , 4

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *