Go to Top

بطخیں شور مچاتی ہیں

جاوید نے پہلے اچھی طرح سیکھ لینے تک انتظار کیا۔ اس نے فرصت، ملنے کا بھی انتظار نہیں کیا کیونکہ وہ یہ جانتا تھا اگر وہ انتظار کرتا رہے گا تو فرصت کبھی نہیں ملے گی۔ اگلے دن ہی اس نے یہ سب کچھ کرنا شروع کر دیا۔ جاوید نے اپنی بیوی اور بچوں کو ذیابیطس کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ جاوید نے اعلان کیا کہ اس ہفتے سب اکٹھے مل کر ذیابیطس کے علاج کے ہدف حاصل کرنے کیلئے کام کریں گے اور جب ہم اس میں کامیاب ہو جائیں گے تو رات کا کھانا باہر کھائیں گے۔

سب نے فیصلہ کیا کہ مناسب غذا پر جاوید کی خوصلہ افزائی کریں گے اور اگر وہ جاوید کو بدپرہیزی کرتے دیکھیں گے تو انہیں ان کی غلطی بتائیں گے اور اپنے احساسات سے آگاہ کریں گے۔ جاوید کے بڑے صاحبزادے جہانگیر نے ان کے ساتھ سیر پر جانے کا پروگرام بنایا، سب لوگ بہت گرم جوشی محسوس کر رہے تھے۔

ان تمام باتوں کے باوجود پہلا ہفتہ جاوید کیلئے آسان نہیں تھا۔ جاوید کو پھیکی چائے کا مزہ نہیں آ رہا تھا۔ اسی طرح وہ کھانے کی مقدار پر پابندی کی وجہ سے دِقت محسوس کرتا رہا۔ کئی دفعہ ایسا ہوتا کہ وہ دو کھانوں کے درمیان کی ہلکی غذا کھانا بھول جاتا، کئی دفعہ وہ زیادہ کھا جاتا۔

جاوید کیلئے ورزش کرنا بھی آسان ثابت نہ ہوا۔ گھر میں اپنے بیوی بچوں اور ملازموں کی موجودگی شروع میں جاوید کیلئے شرم کا باعث بنی رہی تاہم ہفتے کے آخر تک جاوید نے کامیابی سے اپنے اکثر ہدف حاصل کر لئے۔

ہمیں نئے راستوں پر چلتے رہنے کیلئے
اپنے چاہنے والوں کی مدد چاہییے

اگلے ہفتے جاوید صبح سویرے خالی پیٹ ذیابیطس کے ادارے میں پہنچا۔ ڈاکٹر خرم نے جاوید کو گلوکوز کی برداشت کا ٹیسٹ کرانے کیلئے لیبارٹری بھجوا دیا۔ رپورٹ آنے پر جاوید ماہر ذیابیطس کے سامنے بیٹھا تھا۔ انہوں نے جاوید کو بتایا ’’بلڈ شوگر نارمل سے کچھ زیادہ ہے اس لئے خوراک و ورزش اور ذہنی سکون کی ریاضت کے علاوہ تھوڑی سی دوا بھی لینی پڑے گی۔ پہلے آپ صبح و شام شوگر کم کرنے کی ایک گولی کھاتے تھے اب روزانہ صبح نہار مُنہ آدھی گولی کافی ہے۔‘‘

’’ کیا یہ دوائی مجھے ساری عمر کھانی پڑے گی؟‘‘ جاوید نے پوچھا۔

’’ ساری عمر کا تو پتا نہیں، فی الحال تو کھانی پڑے گی، چند دن بعد جب ہم وزن کم کرنے کیلئے غذا کم کریں گے تو ہو سکتا ہے دوا کی ضرورت با قی نہ رہے، تاہم ذہنی سکون اور موڈ کا خوشگوار رہنا فوری ترجیحات ہیں۔ اس کے ساتھ آپ کو روزانہ وقت بدل بدل کر اپنے خون اور پیشاب میں شوگر بھی چیک کرنا ہے اور اس کا اندراج اس فارم پر کرنا ہے جو آپ کو مہیا کیا جائے گا اس کی تفصیل ڈاکٹر خرم بتائیں گے‘‘ ڈاکٹر اکرم نے ہدایت کی۔

جاوید ڈاکٹر خرم کے پاس واپس آیا تو انہوں نے جاوید کی پچھلے ہفتے کی کارکردگی کی تعریف کی اور کچھ نئی چیزیں بھی بتائیں۔

اس دفعہ ان تمام لوگوں سے ملنے میں جاوید کو آدھا وقت لگا۔

آخر میں ڈاکٹر خرم نے اسے پندرہ دنوں بعد دوبارہ آنے کیلئے کہا۔

اگلا ہفتہ جاوید کیلئے قدرے آسان ثابت ہوا۔ جاوید کو اب بھی کئی دفعہ ورزش کی پابندی اور بلڈ شوگر ٹیسٹ کرنے میں مشکل ہوتی، دوسری طرف اہل خانہ اس کی حوصلہ افزائی کرتے رہے۔

خاص طور پر جاوید کو میٹنگ میں جانے سے نہ صرف بہت سی باتوں کا پتا چل رہا تھا بلکہ کچھ لوگوں سے اچھے تعلقات بھی بن گئے تھے۔ اس میں ان کا راہنما طارق ظفر سر فہرست تھا۔ جاوید کو اپنے اندر چستی اور توانائی کا احساس ہو رہا تھا۔ وہ اپنے ان رویوں کو بحالی کی راہ میں حائل ہوتے چیلنج کے طور پر لیتا، آنے والے دنوں میں اس ہدف پر کام کرتا، اس میں تمام افراد اس کی حوصلہ افزائی اور مدد کرتے۔ یہ چیزیں اب اس کے معمول میں شامل ہوتی جا رہی تھیں اور کئی دفعہ جاوید کو خود حیرت ہوتی کہ یہ سب کچھ کرنا کوئی زیادہ مشکل نہیں۔

میٹنگ میں وہ جب اپنی کامیابی کے بارے میں دوسرں سے ذکر کرتا تو لوگ اس کی بات غور سے سنتے۔ ایک دن میٹنگ میں ایک نئے آنے والے مریض نے جاوید سے درخواست کی کہ وہ اس کا راہنما بن جائے۔ یہ ایک بڑی ذمہ داری تھی لیکن جاوید نے اس میٹنگ میں یہی سیکھا کہ ’’علم بانٹتے رہنے سے ہی بڑھتا ہے‘‘ جاوید کو بتایا گیا تھا کہ دوسروں کی بحالی میں مدد دیئے بغیر آپ اپنی بحالی کو بھی مضبوط نہیں بنا سکتے۔

اس دوران اہل خانہ سے جاوید کے تعلقات مضبوط ہو گئے تھے۔ جاوید کو کبھی یوں لگتا جیسے ذیابیطس کی بیماری کے ذریعے اس نے اپنی زندگی کو بہتر اور پرسکون بنانے کا راستہ پایا ہے، اب تو وہ اپنی بیماری کا بھی ممنون تھا، ذیابیطس کا رنج مٹ رہا تھا۔

Next Page : 2 , 3 , 4

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *