Go to Top

تیسرا راز: تنبیہہ

اگلی صبح جاوید اپنی بیوی کے ہمراہ بلقیس بیگم کے گھر پہنچا۔ قریباً ساٹھ سالہ، بہت اسمارٹ اور خوش لباس خاتون نے ان کا خیر مقدم کیا، معمول کی طرح اس نے وہی جملہ سنا’’ آپ ڈاکٹر خرم سے ملے ہیں، بڑی زبردست شخصیت ہے ان کی، کیوں ایسا ہی ہے نا؟‘‘ مگر اب جاوید اس بات کا اتنی اچھی طرح قائل ہو چکا تھا کہ دل سے کہہ سکے’’ہاں! ایسا ہی ہے!‘‘

’’کیا آپ خالد صاحب سے بھی ملے ہیں؟‘‘

’’جی ہاں۔‘‘

’’کیا انہوں نے اپنے ماڈل ڈایابیٹک ہونے کے متعلق بتایا؟‘‘ بلقیس بیگم نے پوچھا۔

’’میں ان کے متعلق یہی کچھ تو سنتا آ رہا ہوں‘‘ جاوید نے ہنستے ہوئے کہا۔

’’آپ اس پر مکمل یقین کر سکتے ہو، وہ تو عام لوگوں سے بھی زیادہ صحت مند ہیں۔ ‘‘

’’کیا آپ کا ڈاکٹر خرم سے رابطہ رہتا ہے‘‘ جاوید نے کہا۔

’’حتمی طور پر بہت ہی کم کم، سوائے اس وقت کے جب میں کوئی غلطی کر بیٹھوں؟‘‘ بلقیس بیگم نے کہا۔

جاوید کو یہ سن کر اچانک دھچکا لگا۔ اس نے کہا ’’آپکا مطلب ہے کہ ڈاکٹر خرم سے آپ کا ٹاکرا تبھی ہوتا ہے جب آپ کوئی غلطی کر بیٹھیں؟‘‘

’’جی ہاں، البتہ بالکل ایسا نہیں مگر قریباً ایسا ہے‘‘ بلقیس بیگم نے کہا۔

’’مگرانہیں کیسے پتا چلتا ہے کہ آپ کوئی غلطی کر بیٹھی ہیں؟‘‘ جاوید نے کہا۔

’’میری HbAloرپورٹ چغلی کھاتی ہے، پھر ان کے اور ذرائع بھی ہیں۔‘‘

’’مگر یہاں تو اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے پکڑنے کا رواج ہے؟‘‘

’’یہ بھی ہے‘‘ بلقیس بیگم نے زور دیتے ہوئے کہا ’’مگر آپ کو میرے بارے میں کچھ جاننا پڑے گا میں ماڈل ڈایابیٹک ہوں۔‘‘

’’کیا سب مریضوں کے ساتھ ایک جیسا سلوک نہیں کیا جاتا؟‘‘

’’قطعی نہیں! مختلف مریضوں کیلئے مختلف حکمت عملی کی ضرورت ہوتی ہے، بعض اوقات تو ایک مریض کے ساتھ بھی وقت کے ساتھ ساتھ حکمت عملی بدلنی پڑتی ہے، آپ یہاں مساوات کی توقع نہ رکھیں۔ اس سے زیادہ غیر مساوی کچھ نہیں کہ غیر مساوی لوگوں کے ساتھ مساوی سلوک کیا جائے۔‘‘

’’کیا ڈاکٹر خرم کبھی آپ کو سراہتے بھی ہیں؟‘‘ جاوید نے پوچھا۔

’’کبھی کبھی، مگر انہیں اکثر ایسا نہیں کرنا پڑتا کیونکہ یہ ’’نیک کام‘‘ میں خود ہی کر گزرتی ہوں‘‘ بلقیس بیگم نے جواب دیا۔

جاوید مسکرایا، بلقیس بیگم کی حس مزاح اسے اچھی لگی۔

’’اگر کبھی تعریف کو دل چاہے تو میں ڈاکٹر خرم کو تعریف کیلئے خود ہی کہہ دیتی ہوں۔‘‘

’’لیکن ایسا کرتے ہوئے آپ کے اعصاب کیسے ساتھ دیتے ہیں؟‘‘ جاوید نے پوچھا۔

’’یہ بہت آسان ہے، یہ بالکل ایک شرط کی طرح ہے، اگر وہ تعریف کرتے ہیں تو میں جیت جاتی ہوں۔‘‘

’’مگر جب وہ ایسا نہیں کرتے تو؟‘‘ جاوید نے قطع کلامی کرتے ہوئے کہا۔

’’تب میں صرف برابر رہتی ہوں‘‘ بلقیس بیگم نے جواب دیا۔

جاوید بولا’’اگر آپ سے کوئی غلطی ہو جائے تو وہ کیا کرتے ہیں؟‘‘

’’اگر میں کوئی سنگین غلطی کرتی ہوں، تب وہ مجھے ’’تنبیہہ‘‘ کرتے ہیں۔‘‘

’’ کیا؟‘‘ نوجوان نے چونکتے ہوئے پوچھا۔

Next Page : 1 , 2

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *