Go to Top

تیسرا راز: تنبیہہ

’’تنبیہہ‘‘ بلقیس بیگم نے دہرایا۔

’’کیا یہ ماڈل ڈایابیٹک بننے کا تیسرا راز ہے؟ جاوید نے حیرت سے پوچھا۔

’’جی!‘‘ بلقیس بیگم نے ہنستے ہوئے وضاحت کی ’’اگر آپ کو اس ادارے سے وابستہ ہوئے مدتوں گزر جائیں اور آپ اپنی ذمہ داریوں کو مہارت سے پورا کرتے ہوں، پھر بھی آپ سے سنگین غلطی ہو جائے تو کوآرڈینیٹر فوری ردعمل دیتے ہیں۔‘‘

’’وہ کیا کرتے ہیں؟‘‘ جاوید نے پوچھا۔

’’جونہی انہیں غلطی کا پتہ چلتا ہے وہ حقائق کی تصدیق کرتے ہیں، پھر وہ ٹیلی فون کرتے ہیں یا بلاتے ہیں، اپنا ہاتھ میرے کندھے پر رکھتے ہیں…..‘‘

’’کیا یہ آپ کیلئے تکلیف دہ نہیں ہوتا؟‘‘ جاوید نے پوچھا۔

’’یقیناً ہوتا ہے، خصوصاً جب ان کے چہرے پر مسکراہٹ نہیں ہوتی تو میں جان جاتی ہوں کہ کیا ہونے والا ہے۔‘‘

’’وہ سیدھا میری آنکھوں میں دیکھتے ہیں‘‘ انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا’’اور مجھے ٹھیک ٹھیک بتاتے ہیں کہ میں نے کیا غلط کیا ہے، پھر وہ مجھے بتاتے ہیں کہ وہ اس بارے میں کیسا محسوس کر رہے ہیں؟ آیاوہ ناراض ہیں، غصے میں ہیں، مایوس ہیں یا جو کچھ بھی۔ ‘‘

’’ وہ اس کیلئے کتنا وقت لیتے ہیں؟‘‘ جاوید نے پوچھا۔

’’قریباً تیس سیکنڈ مگر کبھی یہ چند سیکنڈ بھی صدیوں پر محیط ہوتے ہیں‘‘ بلقیس بیگم نے رازداری سے کہا۔

’’اور پھر کیا ہوتا ہے؟‘‘جاوید نے اپنی کرسی کے کونے پر سرکتے ہوئے پوچھا۔

’’وہ کچھ لمحوں کیلئے خاموشی کے ساتھ اپنے کہے ہوئے الفاظ کو سننے والے کے ذہن میں اترنے دیتے ہیں، بلا شبہ وہ الفاظ گہرائی میں اتر جاتے ہیں۔‘‘

’’پھر؟‘‘ جاوید نے پوچھا۔

’’پھر وہ مجھے بتاتے ہیں کہ وہ مجھے کتنا ذمہ دار سمجھتے ہیں، اور میرے کس قدر معترف ہیں، وہ اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ میں سمجھ لوں کہ ان کی ناراضگی کے پس پردہ بے پناہ احترام ہے، وہ کہتے ہیں کہ اس بد پرہیزی سے قطع نظر میرا عمومی برتاؤ بے داغ ہے، وہ جلد ہی مجھے سے دوبارہ ملنے کے بارے میں اشتیاق کا اظہار کرتے ہیں بشرطیکہ میں اچھی طرح یہ بات جان لوں کہ وہ مجھ سے دوبارہ بدپرہیزی کی توقع نہیں رکھتے۔‘‘

جاوید نے بات کاٹتے ہوئے کہا ’’یہ چیز آپ کو انتہائی محتاط رہنے پر مجبور کرتی ہو گی؟‘‘

’’یقینا‘‘ بلقیس بیگم نے پرزور طریقے سے اثبات میں سر ہلایا’’ سب سے پہلے وہ عموماً مجھے کوتاہی کے فوراً بعد تنبیہہ کرتے ہیں، دوسرے، مجھے میری غلطی اچھی طرح واضح کر کے بتاتے ہیں، یوں لگتا ہے کہ وہ صورتحال پر چھا گئے ہیں، میں جان لیتی ہوں کہ میں بد پرہیزی کر کے بچ نہیں سکتی، تیسرے، وہ مجھ پر میری ذات کے حوالے سے حملہ نہیں کرتے بلکہ صرف میری کارکردگی پر بات کرتے ہیں اور مجھے اپنا دفاع کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی، میں ان پر یا کسی اور شخص پر الزام لگا کر اپنی غلطی کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش نہیں کرتی، میں جانتی ہوں کہ وہ حق سچ کی آواز ہیں اور چوتھی بات یہ کہ وہ مستقل مزاج ہیں۔‘‘

’’کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ چاہے ان کے دیگر معاملات احسن طریقے سے چل رہے ہوں، وہ آپ کو آپ کی غلطی پر تنبیہہ ضرور کرتے ہیں۔‘‘

’’جی ہاں‘‘ انہوں نے جواب دیا۔

’’یہ سلسلہ کتنی دیر چلتا ہے؟‘‘ جاوید نے پوچھا۔

’’عام طور پر ایک منٹ تک‘‘ اس نے کہا ’’اور جب یہ ایک منٹ ختم ہو جاتا ہے تو یہ سلسلہ بھی ختم ہو جاتا ہے۔ یہ تنبیہہ مختصر ہوتی ہے مگر میں گارنٹی سے کہتی ہوں کہ آپ اسے بھول نہیں سکتے….اور پھر عام طور پر دوبارہ ویسی غلطی نہیں کرتے۔‘‘

’’میرا خیال ہے کہ جو کچھ آپ کہنا چاہ رہی ہیں میں وہ سمجھ گیا ہوں‘‘ جاوید نے کہا۔

’’جب ہمارے اوسان بحال ہوتے ہیں تو ہم اپنی غلطی پر ہنسی مذاق بھی کرتے ہیں۔‘‘

’’آپ تعریف اور تنبیہہ کے معاملے میں کیسے ہنس بول لیتے ہیں؟‘‘ جاوید نے پوچھا۔

بلقیس بیگم نے کہا ’’یقیناً، ڈاکٹر خرم نے ہمیں سکھایا ہے کہ اپنی غلطی پر ہنسنے کی کیا اہمیت ہے؟ اس طرح ہمیں پھر سے پرہیز کرنے میں مدد ملتی ہے۔‘‘

’’اور آپ کی غلطی پر آپ کے اہل خانہ کچھ نہیں کہتے؟‘‘

’’کیوں نہیں، وہ بھی ڈاکٹر خرم سے سب سیکھ گئے ہیں۔‘‘

’’آپ کے خیال میں اس طرح تنبیہہ اتنی مؤثر کیوں ہوتی ہے؟‘‘ اس نے پوچھا۔

’’آپ یہ ڈاکٹر خرم ہی سے پوچھنا‘‘ بلقیس بیگم اپنی میز سے اُٹھیں اور جاوید کو لے کر دروازے کی طرف چل پڑیں۔

جاوید نے وقت دینے پر شکریہ ادا کیا تو بلقیس بیگم مسکرائیں اور کہا ’’ آپ جانتے ہو کہ میرا اب کیا ہو گا؟‘‘ وہ دونوں ہنسے۔

برآمدے میں سے گزرتے ہوئے اسے احساس ہوا کہ اس خاتون نے کتنے تھوڑے وقت میں اسے کتنی زیادہ معلومات دی ہیں۔ وہ سوچ رہا تھا کہ ماڈل ڈایابیٹک بننا کس قدر آسان ہے! یہ تینوں راز واقعی فہم و فراست سے بھرے ہوئے ہیں مگر وہ اس بات پر حیرت زدہ تھا کہ ذمہ داری کا تعین، تعریف و حوصلہ افزائی اور تنبیہہ کیونکر مؤثر ہیں ؟

Next Page : 1 , 2

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *