Go to Top

دوسرا راز : حوصلہ افزائی

’’جب اہل خانہ پرہیز کرتے ہوئے پکڑتے ہیں تو کیا ہوتا ہے؟‘‘

’’پھر وہ ہماری حوصلہ افزائی کرتے ہیں‘‘ لئیق نے مسکراتے ہوئے کہا۔

’’ مطلب؟‘‘ جاوید نے جاننا چاہا۔

’’ہوں! جب وہ دیکھتے ہیں کہ ہم نے کہیں میٹھے سے انکار کیا ہے اور پرہیزی غذا کو ترجیح دی ہے تو وہ ہمارے پاس آتے ہیں اور ہمیں چھوتے ہیں، وہ اکثر اپنا ہاتھ ہمارے کندھے پر رکھتے ہیں یا پھر مختصراً دوستانہ انداز میں چھوتے ہیں۔‘‘

’’جب وہ چھوتے ہیں تو کیا آپ کو گھبراہٹ نہیں ہوتی؟‘‘ جاوید نے پوچھا۔

’’نہیں ‘‘ لئیق نے پر زور طریقے سے کہا ’’اس کے برعکس یہ چیز بڑی مدد گار ثابت ہوتی ہے، میں جانتا ہوں کہ وہ میرا بہت خیال رکھتے ہیں اور وہ مجھے پھلتے پھولتے اور صحتمند دیکھنا چاہتے ہیں، مجھے پتا چل جاتا ہے کہ وہ میری کتنی پرواہ کرتے ہیں۔‘‘

’’غالباً میں نے پہلے کبھی نہیں سنا کہ اہل خانہ ایسے بھی کر سکتے ہیں‘‘ جاوید نے بات کاٹتے ہوئے کہا کہ ’’اس طرح تو آپ بہت اچھا محسوس کرتے ہوں گے؟‘‘

’’سچ مچ ایسا ہی ہوتا ہے‘‘ لئیق نے تائید کی ’’اور اس کی کئی وجوہ ہیں۔ سب سے پہلے تو جیسے ہی میں ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل کرتا ہوں مجھے فوراً گھر میں ہی تعریف مل جاتی ہے۔‘‘

’’دوسرا، جب میں ادارے میں جاتا ہوں تو لیب رپورٹ کے فورََا بعد ہی مجھے سراہا جاتا ہے۔ ڈاکٹر مجھے ٹھیک طرح سے بتا دیتے ہیں کہ میں نے کیا کارنامہ کیا ہے؟ مجھے یہ بھی پتہ چل جاتا ہے کہ وہ مجھ سے مخلص ہیں اور انہیں میری کارکردگی کا علم ہے۔‘‘

’’تیسرا، یہ کہ میرے معالج اور چاہنے والے مستقل مزاج ہیں۔ ‘‘

’’مستقل مزاج؟‘‘ جاوید اس کا مطلب جاننا چاہتا تھا۔

’’ہاں‘‘ لئیق نے زور دے کر کہا ’’جب میں تعریف اور حوصلہ افزائی کا مستحق ہوتا ہوں تو وہ ایسا ضرور کرتے ہیں، چاہے ان کیلئے زندگی کے کسی اور شعبے میں حالات ناسازگار ہی کیوں نہ ہوں یعنی مجھ سے ان کا برتاؤ اس موقع پر خاص میری کارکردگی کے حوالے سے ہی ہوتا ہے اور میں اسے حقیقتاً بہت پسند کرتا ہوں۔‘‘

’’تیسرا راز کیا ہے؟‘‘ جاوید نے بیتابی سے پوچھا۔

لئیق مہمان کی اس بے قراری پر ہنسا، اپنی کرسی سے اُٹھااور کہا ’’ آپ یہ بلقیس بیگم سے کیوں نہیں پوچھتے؟ میں جانتا ہوں کہ آپ ان سے بھی گفتگو کا ارادہ رکھتے ہیں۔‘‘

’’اچھا، آپ کے وقت کا بہت بہت شکریہ۔‘‘

’’اچھی بات ہے‘‘ لئیق نے زور دیتے ہوئے کہا، ’’میرا قرض اترگیا…..‘‘

جاوید مسکرایا، وہ یہ بات پہلے بھی سن چکا تھا، وہ عمارت سے نکلا اور ٹہلنے کیلئے نزدیکی پارک میں چلا گیا۔ وہ تازہ سیکھی ہوئی باتوں کو ذہن نشین کر رہا تھا۔ جو کچھ اس نے سنا تھا وہ اس کی سادگی اور افادیت سے بہت متاثر نظرآ رہا تھا۔

چہل قدمی کے دوران نتائج کے بارے میں اس کا تجسس بڑھنے لگا، وہ واپس ادارے میں آیا، ریسیپشنسٹ سے ملا اور ان سے کہا کہ وہ بلقیس بیگم سے ان کی ملاقات کا وقت نئے سرے سے کل صبح کیلئے لے لے۔ پھر جاوید نے رازداری سے پوچھا ’’جیسا کہ ذیابیطس کا مرض دائمی ہے تو پھر مریض تو یہاں مستقل گاہک بن جاتے ہوں گے۔‘‘

’’نہیں، مریم نے کہا ’’یہاں تو نئے مریض کچھ عرصہ تک ہی باقاعدہ آتے ہیں۔‘‘

’’مجھے بتاؤ، کیا مریضوں میں سے بہت سے انہیں جلد چھوڑ جاتے ہیں؟ کیا یہاں نت نئے لوگ آتے رہتے ہیں؟‘‘

’’ہاں، اس پہلو سے سوچیں تو ایسے لوگوں کی تعداد کافی ہوتی ہے۔‘‘

’’آہا!‘‘ جاوید نے سوچا’’ آخر کار وہ کسی منفی پہلو کی تہہ تک پہنچنے ہی والا ہے۔‘‘

’’وہ مریض کہاں چلے جاتے ہیں جو اس ادارے کو چھوڑ جاتے ہیں؟‘‘ جاوید نے پوچھا۔

’’وہ اپنی صحت اورخوشحالی کی ذمہ داریاں خود اُٹھاتے ہیں۔ یہ وہی ’’مطمئن‘‘ لوگ ہیں جن سے آپ ملاقاتیں کر رہیں‘‘ مریم نے جلدی سے جواب دیا۔ ’’مریضوں کے ساتھ چند ماہ عمدہ تال میل کے بعد ہم کہتے ہیں کہ جاؤ اب اپنا خیال رکھو اور یاد رکھو کہ آپ پر قرض ہے جو کہ آپ ذیابیطس کے کسی مریض کی خدمت کر کے ہی اتار سکتے ہو۔‘‘

جاوید، مس مریم کے آفس سے نکلا اور اپنے سر کو جھٹکتے ہوئے سڑک پر چلنے لگا۔

اس رات جاوید ٹھیک طرح سے سو نہ سکا۔ اگلے دن وہ ماڈل ڈایابیٹک بننے کے تیسرے راز سے واقف ہونے والا تھا، یہ بے قراری اسی وجہ سے تھی۔

Next Page : 1 , 2

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *