Go to Top

ذیابیطس سے بحالی کی ا ب پ

ہسپتال سے باہر نکلتے ہوئے خالد سے ملاقات ہو گئی جاوید انہیں بہت تپاک سے ملا۔

” ذیابیطس پر قابو پانے میں کوئی مشکلات تو پیش نہیں آ رہیں؟” خالد نے کہا۔

” میرا خیال ہے سب سے بڑی مشکل ذیابیطس کے طرزِ زندگی کو مہارت سے روز مرہ امور میں سمونا ہے تاکہ یہ سمجھنا آسان ہو جائے کہ کس وقت مجھے کیا کرنا ہے؟ مثال کے طور پر: اکثر میں دوا بڑھاتا تھا حالانکہ اس وقت مجھے زیادہ پرہیز اور ورزش کی طرف زیادہ توجہ دیتا تھا اور اب مجھے خیال آتا ہے کہ اس وقت مجھے تو دوائی کی مقدار کم کرنی چاہیے تھی۔”

” جب تک میں نے اب پ نہیں سیکھی تھی میرے ساتھ بھی یہی مسئلہ تھا ” خالد نے کہا۔ میں جانتا ہوں کہ آپ سکول والی اب پ کی بات تو نہیں کر رہے” جاوید کہنے لگا ”کھل کر بتائیے آپ کہنا کیا چاہتے ہیں؟”

” واقعی میں حروف تہجی کا تذکرہ نہیں کر رہا بلکہ یہ اب پ ذیابیطس سے بحالی میں بنیادی باتو ں کی طرف لوٹنے کا ایک راستہ ہے” خالد نے کہا۔

”لگتا ہے مجھے بھی ا ب پ اچھی طرح سیکھنے کی ضرورت ہے۔”

” آپ ایسا کیوں نہیں کرتے کہ ڈاکٹر خرم سے ملیں” خالد نے کہا ” وہ مریضوں کو ا ب پ سکھانے کے ماہر ہیں۔”

جاوید کمرے میں داخل ہوا تو ڈاکٹر خرم کا غذات مطالعہ کر رہے تھے۔جاوید نے سوچا ”یہ معلومات میرے بارے میں ہوں گی جو یہاں کمپیوٹر کے ذریعے منتقل ہوئی ہوں گی۔”

” جاوید صاحب !اب تک آپ ذیابیطس کے بارے میں کافی کچھ جان چکے ہیں ” ڈاکٹر خرم نے بات شروع کی ” میرا خیال ہے اب عمل ک وقت آ گیا ہے۔ میں علاج کے ہدف حاصل کرنے میں آپ کا معاون ہوں۔”

” یقیناً مجھے زیادہ سے زیادہ سہارے کی ضرورت ہے” جاوید نے کہا۔ تو پھر پہلے ہم آپس میں رابطے کا طریقہ طے کر لیں” ڈاکٹر خرم نے کہا میرا خیال ہے شروع میں کم از کم ہفتے میں ایک دوسرے سے ملا کریں اور کم از کم دو دفعہ ٹیلی فون پر بات کیا کریں” ڈاکٹر خرم نے رائے دی۔

اگر دو دفعہ سے زیادہ فون پر بات کرنے کی ضرورت ہو تو ؟” جاوید نے پوچھا۔

” آپ بلا تکلف فون کریں” ڈاکٹر خرم نے کہا ” ایک منٹ ٹھہریں میں آپ کیلئے چائے منگواتا ہوں” انہوں نے گھنٹی بجاتے ہوئے کہا۔

” بالکل! اس وقت چائے کی اشد ضرورت ہے” جاوید نے کہا۔

تھوڑی دیر میں اسٹنٹ چائے لے آیا۔

” اچھا تو ڈاکٹر خرم ان ملاقاتوں کا مقصد کیا ہو گا؟” جاوید نے چائے پیتے ہوئے کہا۔

” ایک مقصد تو چائے پینا ہو گا!” ڈاکٹر خرم نے بتا یا ”دوسرا میں آپ کو جسم کی نگہداشت اور روز مرہ زندگی کے بارے میں بھی بتاؤں گا۔ ذیابیطس کے مریض کو سفر، ملازمت اور شادی کے معمولات میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ تا ہے۔ ہم ان چیزوں کے بارے میں بھی باتیں کریں گے۔”

” آج آپ مجھے کیا بتائیں گے” جاوید نے سوال کیا۔

” کیوں نہ آج آپ کے پاؤں اور جسم کی نگہداشت کے بارے میں بات کریں؟”

” یہ پاؤں کا ہی تو چکر تھا، تمام بات میرے پاؤں سے شروع ہوئی تھی۔”

اکثر چھوٹی موٹی خراشیں اور زخم ذیابیطس کے مریض کیلئے بڑی خطرناک بیماری کا موجب بن جاتے ہیں۔ جاوید! ذیابیطس میں حفظان صحت کے اُصولوں کی بہت اہمیت ہے۔”

” یعنی پرہیز علاج سے بہتر ہے” جاوید نے کہا۔

” بالکل ٹھیک” ڈاکٹر خرم نے بتایا شروع کیا ”اس لحاظ سے ہمارے پاؤں سب سے اہم ہیں۔ عام حالات میں بھی ہم پاؤں پر زیادہ تو جہ نہیں دیتے، چونکہ ذیابیطس میں اکثر لوگوں کے پاؤں بے حس ہوجاتے ہیں، ان میں خون کی گر دش بھی متاثر ہوتی ہے اس لئے چھوٹے موٹے زخموں ہا خراشوں کا شروع میں پتا نہیں چلتا اور پھر وہ زحم بن جاتے ہیں تو آسانی سے مندمل نہیں ہوتے، کئی دفعہ تو زخم گل سڑ جاتے ہیں اور پھر انگلیاں یا پاؤں کاٹنے پڑتے ہیں۔

” ڈاکٹر خرم! اتنا تو نہ ڈرائیں” جاوید نے سہم کر کہا۔

” ڈرائیں گے نہیں تو آپ احتیاط کیسے کریں گے؟”

” کیا ڈرانا ضروری ہے؟”

” دو ہی تو طریقے ہیں کسی کا عمل پر مجبور کرنے کے :ڈرا کر یا شوق دلا کر۔ اور یہ ڈرانے کا مقام ہے شوق دلانے کے مقامات سے تو آپ گزر آئے ہیں۔”

” آپ پاؤں کی حفاظت کے بارے میں بتا رہے تھے” جاوید نے کہا۔

” پاؤں کے ساتھ ساتھ ہاتھوں کی نگہداشت بھی انہی بنیادوں پر کرنی چاہیے۔”

” ٹھیک” جاوید نے ان چھوٹی چھوٹی تدابیر کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے کہا۔ جلد کی حفاظت کے ساتھ ساتھ ذیابیطس کے مریض کیلئے دانتوں کی حفاظت بھی ضروری ہے سوائے ان دانتوں کے جن کی آپ کو ضرورت نہیں۔ مسوڑھوں کے نرم ہونے سے دانتوں کا گر جانا ذیابیطس کے مریضوں میں بہت عام ہے صحیح طرح برش کرنا چاہیے اور کسی اچھے ڈینٹسٹ سے باقاعدہ معائنہ لازم ہے۔ ”

ڈاکٹر خرم نے بتایا اور اُٹھ کر چلتے ہوئے ریک تک گئے اور پڑھنے کیلئے کچھ مواد باقاعدہ مختلف خانوں سے نکال کر جاوید کو دیا۔

” جاوید صاحب! اس ہفتے آپ کو یہ سب کچھ پڑھنا ہو گا۔ مجھے پتا چلا ہے کہ ماہنامہ ” شوگر” تو آپ پہلے ہی باقاعدگی سے پڑھ رہے ہیں۔” ڈاکٹر خرم نے کہا ”آپ کو ہمیشہ اتنا وقت ذیابیطس کو نہیں دینا پڑے گا۔ ”

انشاء اللہ آپ آئندہ بھر پور زندگی گزاریں گے” انہوں نے جاوید کو رُخصت کرتے ہوئے گرم جوشی سے ہاتھ ملایا۔

” اللہ کا شکر ہے مجھے آپ لوگ مل گئے ورنہ میں نے تو سامان باندھنا شروع کر دیا تھا” جاوید کے چہرے پر تشکر بھری مسکراہٹ پھیل گئی ”اللہ ہمیشہ اپنے بندوں کے ذریعے ہماری مدد کرتا ہے” جاوید نے ایک لمحے کیلئے اپنی یاد داشت پر زور دیا اور کہا ”ذرا ٹھہرئیے! ابھی تو میں نے آپ سے اب پ سیکھنی ہے۔

Next Page : 1 , 2

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *