Go to Top

رازوں سے پردہ اٹھتا ہے

جب وہ ڈاکٹر خرم کے آفس پہنچا تو ان کی سیکرٹری نے کہا ’’آپ سیدھے اندر جا سکتے ہیں، وہ آپ ہی کے منتظر ہیں۔‘‘

’’ہوں! کچھ حاصل بھی ہوا یا یونہی بھاگ دوڑ کرتے رہے؟‘‘ انہوں نے پوچھا۔

’’ بہت کچھ‘‘ جاوید نے جوش سے کہا۔

’’ اچھا! تو مجھے بتاؤ‘‘ ڈاکٹر خرم نے حوصلہ افزائی کے انداز میں کہا ’’اب کیا ارادہ ہے؟‘‘

’’میں جاننا چاہتا ہوں کہ یہ عام فہم باتیں اتنی کارآمد کیوں ہیں ؟‘‘

’’جاوید! سبھی کا یہی حال ہے، جب آپ جان لیتے ہیں کہ کوئی چیز کیسے کام کرتی ہے تو پھر اسے ستعمال کرنے کا رجحان بڑھ جاتا ہے اور تم جانتے ہو کہ جاننا اور استعمال نہ کرنا عملی طور پر نہ جاننا ہے۔ میں جو کچھ جانتا ہوں تمہیں بتانے میں خوشی محسوس کروں گا، بتاؤ کہاں سے بات شروع کروں ؟‘‘

آخر مریض پر ذمہ داری ڈالنے کی کیا تک ہے؟‘‘

’’ ادھر دیکھیے‘‘ ڈاکٹر خرم نے دیوار پر لگی تختی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔

جب ہم اپنی نگہداشت کی ذمہ داری
خود اُٹھاتے ہیں تو نگہداشت وحشت
کی بجائے چاہت بن جاتی ہے

’’یہ کتنی ستم ظریفی ہے‘‘ ڈاکٹر خرم نے کہا ’’بہت سے مریض اپنے وقت اور بجٹ کا 25 سے 35 فیصد تک مستقل طور پر اپنے علاج پر خرچ کرتے ہیں لیکن اس کے بدلے میں انہیں کیا ملتا ہے۔۔۔؟

’’ محتاج، پژمردگی اور ادھوری زندگی‘‘ جاوید نے دل کی بھڑاس نکالی۔

’’صحیح!‘‘ ڈاکٹر خرم نے کہا ’’اگر مریض اپنی بیماری کے بارے میں معلومات حاصل کریں تو ان کی کایا پلٹ سکتی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ بہت سے مریض اپنی کار میں پیدا ہونے والے نقائص کے بارے میں زیادہ جانتے ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ اس طرح وہ مکینک سے زیادہ بہتر خدمت لے سکتے ہیں۔ جب اپنی ذات کا معاملہ آتا ہے تو وہ سب کچھ ڈاکٹر پر چھوڑ دینا چاہتے ہیں۔‘‘

’’کاش! جب مجھے پہلے پہل ذیا بیطس ہوٖئی، کوئی مجھے یہ باتیں بروقت سمجھا دیتا‘‘ جاوید نے کہا ’’لیکن ابھی میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ میں یہ بات مکمل طور پر سمجھ چکا ہوں کیوں ناں بات ذمہ داریوں کا تعین سے شروع کریں؟‘‘

ڈاکٹر خرم نے کہا ’’بہتر!‘‘ اور کمرے میں آہستہ آہستہ ٹہلنے لگے۔

’’ایک مثا ل اس بات کو سمجھنے میں آپ کی مدد کر سکتی ہے۔ میں کئی سال تک مختلف مریضوں کا علاج کرتا رہا ہوں، میں نے بہت سے مریض دیکھے ہیں جنہیں پرہیز سے کوئی لگن نہ تھی، مگر میں نے انہیں زندگی کے اور معاملات میں سست نہیں دیکھا۔‘‘

’’ مثلاً‘‘ جاوید نے کہا۔

’’مثال کے طور پر پچھلے جمعہ کو میں ایک شادی کی دعوت میں شریک تھا، وہاں مجھے چند شرکاء کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ شوگر کے مریض ہیں، وہ دھڑا دھڑ کھابہ گیری میں مشغول تھے، حتیٰ کہ وہ سویٹ ڈش پر بھی ہاتھ صاف کر رہے تھے۔ شادی میں شرکت کیلئے بھی انہوں نے خاصا اہتمام کر رکھا تھا۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ انہیں اس بدپرہیزی کے نتائج معلوم ہوں گے؟‘‘

Next Page : 1 , 2 , 3 , 4 , 5 , 6, 7 , 8 , 9 , 10 , 11 , 12 , 13 , 14

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *