Go to Top

علاج کی دھوکہ منڈی

شام کو افضل کے ساتھ جاوید اچھرہ میں واقع ایک ہومیو پیتھی کلینک میں پہنچ گیا۔

یہاں افضل کے خصوصی تعلقات تھے جاوید نے اپنا تعارف کروایا اور زخم دکھانے کے بعد کہا’’ایک ڈاکٹر صاحب نے یہ شگوفہ چھوڑا ہے کہ مجھے شوگر ہے۔‘‘

’’آپ تشریف رکھیں‘‘ ہومیوڈاکٹر نے بیٹھے کا اشارہ کیا۔ ایک سفید کاغذ کا ٹکرا جاوید کو دیتے ہوئے انہوں نے کہا،’’ زبان سے اسے گیلا کر کے مجھے دے دیں۔‘‘

’’اس سے کیا ہو گا؟‘‘ جاوید نے پوچھا۔

’’اس سے کمپیوٹر آپ کے مرض کی تشخیص کرے گا‘‘ ہومیو ڈاکٹر نے بتایا۔

’’کمپیوٹر؟‘‘ جاوید نے حیرت سے کہا، وہ سوچنے لگا’’ یہ کیسا کمپیوٹر ہے جس کا پروگرام تھوک سے چلتا ہے؟ ہو سکتا ہے میری بلڈ شوگر بڑھ گی ہے لیکن بہرحال میری مت نہیں ماری گئی‘‘ جاوید کو مایوسی ہوئی لیکن افضل صاحب کا دل رکھنے کیلئے وہ چپ رہا۔

ڈاکٹر صاحب نے کچھ دیر ایک لٹو دھاگے سے پکڑ کر جاوید کے بازو سے کچھ اوپر ہوا میں رکھا اور غور سے لٹو کی حرکت کا معائنہ کرتے رہے، پھر ڈاکٹر صاحب نے دوا کی کچھ پڑیاں جاوید کو دیں۔

جاوید نے فیس پوچھی تو ہومیو ڈاکٹر تکلف کرنے لگے اور بتایا کہ افضل صاحب ان کے بہت گہرے دوست ہیں، فیس کا کہہ کر آپ مجھے شرمندہ کر رہے ہیں۔ جاوید کے اصرار پر انہوں نے ’’ہتھیار‘‘ ڈال دئیے اور دوائی کے نام پر منہ پھاڑ کر ایک ہزار روپے مانگ لیے، جاویدرقم دے کر باہر آ گیا، لیکن کمپیوٹر اور لٹو کی منطق کو ماننے سے اس کے ذہن نے قطعی انکار کر دیا۔ جاوید یہ بات بہت اچھی طرح جانتا تھا کہ ماضی کی نسبت آج ہماری صحت کا تعلق اس بات سے بہت زیادہ ہے کہ ہم اپنے لیے کیسا طرز علاج چنتے ہیں!

جاوید کو احساس ہوا کہ ذیابیطس کے بارے میں کس قدر جہالت اور غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ اسے ذیابیطس کے بارے میں اپنے ایک دوست کا سنایا ہوا واقعہ یاد آ گیا۔

اس کے دوست نے بتایا تھا کہ مو ہنی روڈ کے ایک مشہور پہلوان کو ذیابیطس ہو گئی۔ ان کے فیملی ڈاکٹر نے ایک دن انہیں پیڑے والی میٹھی لسی پیتے دیکھا تو مشورہ دیا، ’’پہلوان جی! آپ کو شوگر ہے، میٹھے سے پرہیز کیا کریں۔‘‘

’’اپنا تو جی دل نہیں مانتا، اللہ کی نعمتیں کیسے چھوڑ دیں؟‘‘

’’لیکن پہلوان جی! اس سے آپ کی زندگی کو خطرہ ہے۔‘‘

’’بس جی کھاتے پیتے مر جائیں تو خیر ہے‘‘ پہلوان نے جواب دیا ’’ڈاکٹر صاحب دیکھیں، میں تو شوگر کا بہت سادہ سا علاج جانتا ہوں، جتنی شوگر پیشاب کے ذریعے نکلے اتنی بندہ اور کھالے، اللہ اللہ خیر سلا۔‘‘

چند دنوں بعد جاوید کو ذیابیطس کے علاج کا ایک اور دلچسپ تجربہ ہوا۔ ان کے ایک دوست نے بتایا کہ گلبرگ لاہور میں فرنیچر کی ایک مشہور دوکان ہے جہاں لکڑی کا ایک خاص گلاس ملتا ہے جس میں پانی پینے سے ذیابیطس سے شفاء مل جاتی ہے۔ جاوید کے بہنوئی نے مجبور کیا کہ وہ اس کے ساتھ چلے۔

جب جاوید اور اس کا بہنوئی فرنیچر کی دوکان پر پہنچے تو دوکاندار نے انہیں صوفے پر بیٹھنے کو کہا اور گلاس لے آیا، ’’یہ ہزار روپے کا ہے۔‘‘

یہ ایک بھدا سا لکٹری کا عام گلاس تھا۔ جاوید نے گلاس کا جائزہ لیتے ہوئے پوچھا ’’جناب یہ ذیابیطس سے کیسے شفاء دیتا ہے؟‘‘

’’یہ تو مجھے پتا نہیں، امپورٹڈ ہے، بہت سے لوگ لے جاتے ہیں، انہیں فائدہ ہوتا ہے تو لے جاتے ہیں‘‘ دوکاندار نے قدرے ناگواری سے کہا۔

’’کیا آپ مجھے ان لوگوں کے پتے دے سکتے ہیں جو یہ گلاس لے کر گئے ہوں اور انہیں ذیابیطس سے شفاء ملی ہو‘‘ جاوید نے کہا۔

’’جناب اگر آپ کا دل مانتا ہے تو لے لیں اور اگر نہیں لینا تو میرا وقت ضائع نہ کریں، ہمارا تو فرنیچر کا وسیع کاروبار ہے، یہ کام تو ہم کارِ خیر سمجھ کر کرتے ہیں، دوکاندار ناراض ہو گیا۔

جاوید نے گلاس واپس دیتے ہوئے، ’’شکریہ‘‘ ادا کیااور بہنوئی کی پرواہ کئے بغیر دوکان سے باہر آ گیا۔ پیچھے پیچھے وہ بھی باہر آ گیا اور جاوید سے اپنی ناراضگی کا اظہار کرنے لگا۔ اگرچہ جاوید اس مصیبت سے جان چھڑانے کیلئے ہر ایک کے ساتھ چل پڑتا تھا لیکن اس کی تعلیم اور شعور ساتھ نہیں دے رہے تھے۔ گزرتے ہوئے وقت کے ساتھ اس کی تکلیفیں اور فکر مندی بڑھتی رہی، زخم جوں کا توں تھا۔

Next Page : 1 , 2 , 3 , , 5 , 6 , 7 , 8

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *