Go to Top

فرق کہنے سے نہیں، عمل کرنے سے پڑتا ہے

’’ بالکل صحیح کہا آپ نے‘‘ ڈاکٹر خرم نے کہا ’’اس سے مجھے اس بھلے مانس کی کہانی یاد آتی ہے جوایک پہاڑ سر کرنے کے دوران پھسل کر گر گیا تھا، لڑھکتے ہوئے خوش قسمتی سے وہ ایک شاخ پکڑنے میں کامیاب ہو گیا، جان عزیز کو بچانے کی خاطر اس نے نیچے دیکھا تو اسے تقریباً پندرہ سو فٹ گہری ایک سنگلاخ کھائی نظر آئی جب اس نے اُوپر دیکھا تو اسے دیکھا تو اسے پتا چلا کہ جہاں سے وہ گرا تھا یہ فاصلہ محض بیس فٹ تھا۔‘‘

گھبرا کر اس نے مدد کیلئے چیخنا شروع کر دیا۔ ’’مدد! مدد! کیا کوئی اُوپر ہے؟ مجھے بچاؤ!‘‘ ایک گھمبیر اور گر جدار آواز سنائی دی ’’میں یہاں ہوں، اگر تم مجھ پر بھروسہ کرو تو تمہیں بچا سکتا ہوں۔‘‘

’’ میں جانتا ہوں! میں مانتا ہوں!‘‘ آدمی نے دل گیر آواز میں پکارا۔

’’ اگر تم مجھ پر یقین رکھتے ہو‘‘ آواز دوبارہ آئی ’’تو تم اس شاخ کو چھوڑ دو، میں تمہیں بچا لوں گا۔‘‘

نوجون نے یہ سُن کر دوبارہ دیکھا، نیچے چٹانوں پر نظر پڑی تو فوراًاُوپر دیکھا اور چلا کر کہا ،

’’ کوئی اور ہے؟،،

’’یہ بھی اچھی رہی‘‘ جاوید نے ہنس کر کہا ’’یہی وہ حرکت ہے جو میں نہیں کرنا چاہتا یعنی شاخ کو پکڑے رکھوں اور کسی اور سہارے کی تلاش بھی جاری رکھوں۔‘‘

’’اپنے علاج کی ذمہ داری خود اُٹھائیں گے تو نت نئے علاجوں کی ضرورت ہی نہ رہے گی‘‘ ڈاکٹر خرم نے کہا ’’آپ کو ذیابیطس کے معقول علم کی ضرورت ہے۔۔۔اور اب میں آپ کو ایک آخری بات بتاتا ہوں، جو کچھ آپ نے سیکھا ہے اسے استعمال کرنے اور ماڈل ڈایا بیٹک بننے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ اس پر فوری عمل شروع کر دیں۔ اہم چیز یہ نہیں کہ آپ اسے 100 فیصد ٹھیک ٹھیک کریں بلکہ یہ ہے کہ آپ کسی طرح اسے شروع کر دیں ۔‘‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *