Go to Top

پریت کا نظام

” بالکل یہی بات ہے” ڈاکٹر خرم نے کہا ”کارکردگی کا انحصار اس بات پر ہے کہ اسے کیسے پرکھا جاتا ہے، اسی لئے میں پیروی کے بارے میں اتنا پر جوش ہوں۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ ذیابیطس سے بحالی کی ابتدائی تربیت سے کہیں زیادہ وقت پیروی پر خرچ کرنا چاہیے ورنہ لوگ کچھ ہی عرصے میں اپنے سابقہ رویوں کی طر ف پلٹ جائیں گے۔”

جاوید مسکرایا اور کہا ”زیادہ تر ہسپتالوں کی بے مقصد افراتفری تو کچھ اور ہی پیش کرتی ہے۔”

” اس ”افراتفری کا پھندہ؟”جاوید نے حیران ہو کر کہا۔

” اس سے کیا ہو گا؟” جاوید نے پوچھا۔

” یہ وہاں ہوتا ہے جہاں مریض اپنی دانست میں بہتری کیلئے بھاگ دوڑ کر رہے ہوتے ہیں اور کوئی ذرادیر رُک کر یہ جائزہ نہیں لیتا کہ دراصل ذیابیطس سے بحالی ممکن کیسے ہے؟ میرا مشورہ ہے کہ آپ ”پریت کا نظام” سمجھ لیں تو آپ کو بہت مدد ملے گی۔”

” جو حکمِ حاکم ……” جاوید نے انکساری سے کہا ”لیکن پریت کا نظام ہے کیا؟”

” یہ بہت اہم ہے کیونکہ ”پریت کا نظام” ذیابیطس سے بحالی کو میدان عمل میں نافذ کرنے کیلئے کل پرزوں کی حیثیت رکھتا ہے آپ کو بہت احتیاط اور توجہ کے ساتھ سننا ہو گا کیونکہ اب ہم ان تین بنیادی کنجیوں کو چار اہم قدموں میں بدلیں گے۔”

ڈاکٹر خرم فوراً اپنی میز کے پیچھے چھوٹے سے بلیک بوڑد پر گئے اور لکھا:

”پریت ”کا نظام

پ۔۔۔۔پہچان

ر۔۔۔۔۔ریکارڈ

ی۔۔۔۔۔ہاددہانی

ت۔۔۔۔۔تجزیہ

”پہچان کا عمل بیماری کے ان حصوں کی نشاندہی کرتا ہے جنہیں دیکھا اور ناپا جا سکے” ڈاکٹر خرم نے بات شروع کرتے ہوئے کہا۔

” فرض کیجئے میں آپ کو بتاتا ہوں کہ مجھے اپنی بلڈ شوگر میں اُتار چڑھاؤ کا مسئلہ در پیش ہے” جاوید بولا ”اور میں اپنی بلڈ شوگر کو قابو میں رکھنا چاہتا ہوں تو کیا اس سے بات پوری واضح ہو جاتی ہے؟”

ڈاکٹر خرم نے کہا ”ہم اُتار چڑھاؤ اور قابو میں رکھنا، جیسی چیزوں کے متعلق براہِ راست کچھ نہیں کر سکتے۔”

”کیا بلڈ شوگر میں اُتار چڑھاؤ پر قابو پانا ضروری نہیں ہے؟” جاوید نے سوال کیا۔

” کیوں نہیں، بالکل ضروری ہے لیکن بلڈ شوگر میں اُتار چڑھاؤ اور قابو پانے، کی پہچان بتانی پڑے گی” ڈاکٹر خرم نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ” کیا آپ کا مطلب یہ ہے کہ کبھی آپ کی بلڈ شوگر 70 سے کم اور کبھی 400 سے زیادہ ہو جاتی ہے؟ قابو پانے سے کیا آپ کی مراد اسے 80 اور 130 کے درمیان رکھنے سے ہے؟”

” اچھا تو ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم مریضوں کو گول مول انداز میں باتیں کرنے سے روکیں” جاوید بولا ”اور انہیں صورت حال کو ٹھیک ٹھیک پہچان لینے کی ترغیب دیں۔”

” نا صرف ٹھیک ٹھیک، پہچان، کی ضرورت ہوتی ہے” ڈاکٹر خرم نے جواب دیا ”بلکہ اسے، ریکارڈ کرنا لازم ہے۔”

”تو آپ مسئلے کے بارے میں حقائق محفوظ کرنا چاہیں گے؟ جاوید نے کہا۔

”جی بالکل صحیح” ڈاکٹر خرم نے کہا ”مثلاً علاج کی ابتداء میں ہی مریض کا آنکھوں کا معائنہ لازم ہے چاہے مریض کی بینائی کے حوالے سے کوئی شکایت نہ ہو، اس کا مقصد پردہ بصارت کی موجودہ حالت کو ریکارڈ پر لانا ہے تاکہ مستقبل میں آنکھوں کی پیچیدگیوں سے بچنے کیلئے کچھ پیشگی اقدامات کئے جا سکیں، حقائق کو محفوظ کرنا ہمارے کام کو ویسے بھی آسان بناتا ہے، جب میں نے یہ شعبہ سنبھالا تو مجھے بتایا گیا کہ یہاں ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ مریض بار بار کی یاد دہانی کے باوجود پیشاب چیک کرتے ہیں اور نہ ہی خون وہ سمجھتے ہیں کہ یہ خواہ مخواہ کا جھنجھٹ ہے۔جب میں نے ریکارڈ دیکھا تو یہ ہر مریض کا مسئلہ نہیں تھا ،اصل میں صرف گیارہ مریض اس میں مجرم، پائے گئے۔”

” آپ ان چیزوں کو ریکارڈ کیوں کرتے ہیں؟” جاوید نے پو چھا۔

Next Page : 1 , 2

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *