Go to Top

کوآرڈینیٹر

’’اچھا ، پہلے یہ بتائیے کہ آپ اپنے مریضو ں کا علاج کیسے کرتے ہیں؟‘‘

’’اپنے مریضوں کے ساتھ مل کر‘‘ ڈاکٹر خرم نے جواب دیا’’ہمارے مریض گزرے ہوئے وقت میں بحالی کا جائزہ لیتے ہیں اور میں سنتا ہوں، وہ بتاتے ہیں کہ انہیں کیا مشکلات پیش آئیں، کیا کامیابیاں حاصل ہوئیں اور ابھی مزید کیا کرنا باقی ہے، اس کے بعد ہم آئندہ کیلئے منصوبہ اور طریقہ کار طے کرتے ہیں۔‘‘

’’تو کیا ان ملاقاتوں میں جو ہدایات دی جاتی ہیں ان کی پابندی مریض کرپاتے ہیں؟‘‘

جاوید نے سوال کیا۔

’’جی ہاں، بالکل ایسا ہی ہے۔ ‘‘ ڈاکٹر خرم نے مصر ہوکر کہا’’ اگر یو ں نہ ہوتا تو پھر ان ملاقاتوں کا کیا جواز رہ جاتا ہے؟‘‘

’’اس کا مطلب ہے کہ آپ مریض کی پوری ذمہ داری اُٹھاتے ہیں‘‘ جاوید نے پوچھا۔

’’حقیقت اس کے برعکس ہے‘‘ ڈاکٹر خرم نے پر زور طریقے سے کہا’’ ہم اپنے مریضوں کی ذمہ داریاں خود اُٹھانے پر یقین نہیں رکھتے ، ہر مریض اپنی عمدہ نگہداشت کی صلاحیت رکھتا ہے، کچھ مریض محض کمزور نظر آتے ہیں ، ہم ان کے ظاہر سے دھوکا نہیں کھاتے۔‘‘

’’تو پھر کسی مریض کی بلڈ شوگر کو آپ کیسے کنٹرول کرتے ہیں ؟‘‘ جاوید نے پوچھا۔

’’پہلے میں ایک بات کی وضاحت کرنا چاہتا ہوں۔ ہم صرف کسی مریض کو اپنی بلڈ شوگر کنٹرول کرنے کی اہلیت دیتے ہیں، ہمارے ہاں علاج کا مرکزی خیال یہی ہے۔ ہم شروع ہی سے مریض کو بتادیتے ہیں کہ بحالی اس کی اپنی ذمہ داری ہے۔ ہم اس کیلئے معاملات آسان بناتے ہیں۔‘‘

’’ادھر دیکھیں‘‘ اس نے میز پر پڑی ایک تختی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا یہ مریضوں کو ایک عملی سچائی کی یاد دلاتی رہتی ہے۔‘‘

’’کیا یہ بہت عجیب بات نہیں ہے؟‘‘

’’جی ہاں! یوں ہی ہے، اب میں آپ کے سوال کی طرف آتاہوں‘‘ ڈاکٹر خرم نے کہا ’’کسی بھی مریض کو اپنی بلڈ شوگر ٹھیک رکھنے کیلئے بنیادی طور پر ان چار چیزوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہوتی ہے: غذا، ورزش، جذبات اور ادویات۔‘‘

’’ اور ان کے متعلق راہنمائی کوئی ایک شخص نہیں بلکہ ماہرین کی ایک ٹیم دیتی ہے‘‘ جاوید نے خالد سے حاصل کردہ معلومات کی بناء پر بات مکمل کردی۔

’’آپ تو بہت سمجھ دار ہیں، اُمید ہے میں بھی ااپ سے بہت کچھ سیکھوں گا، ڈاکٹر خرم نے کہا۔

’’میں نہیں سمجھتا کہ آپ مجھے سے کچھ سیکھ سکیں گے‘‘ جاوید نے کہا’’ میں تو صرف اپنی بقاء کی جدوجہد کرنے والا ایک تھکارہا مریض ہوں۔‘‘

’’لگتا ہے تعریف ہضم کرنا آپ کیلئے بھی مشکل ہے، لیکن ہم آپ کو سب کچھ سکھا دیں گے‘‘

ڈاکٹر خرم نے مزہ لیتے ہوئے کہا’’ بہت سے لوگوں کے گلے سے تعریف نہیں ابھرتی اور بہت سے لوگوں کے کانوں میں تعریف نہیں اترتی۔‘‘

’’ میں سمجھتا ہوں ایسااس لئے ہے کہ عملاً ہمیں زیادہ تعریف سننے کا تجربہ نہیں ہوتا، جاوید نے کہا’’ ایسا کام بھی آسان نہیں ہوتا جس کے بارے میں یقین تو پختہ ہو لیکن عادت پختہ نہ ہو۔‘‘

’’یہاں آپ کو تعریف بھی ملتی رہے گی، تعریف کاآسان ساجواب یہ ہے: شکریہ ‘‘ ڈاکٹر خرم نے کہا۔

’’میں آپ کا ممنون ہوں، آپ نے اہم نکتہ سمجھایا ہے‘‘ جاوید نے کہا ’’آپ مجھے طریقہ کار سمجھارہے تھے۔‘‘

’’ہوتا ہوں ہے کہ جب کوئی نیا مریض ہمارے پاس آتا ہے تو سب سے پہلے وہ میرے پاس آتاہے ۔ میں معلوم کرتا ہوں کہ وہ کیا چاہتا ہے؟ پھر میں اس کے بارے کچھ معلومات حاصل کرتا ہوں اور کمپیوٹر میں ڈال دیتا ہوں۔ معلومات کو ہمارے ہاں بہت عزت دی جاتی ہے اور انہیں احتیاط سے رکھا جاتا ہے تاکہ تما م ماہرین اس سے استفادہ کرتے رہیں۔ جو چند منٹ میں مریض پر صرف کرتا ہوں وہی مریض کے علاج کی راہیں متعین کرتی ہے۔‘‘

’’پھر کیا ہوتا ہے؟‘‘

’’پھر ان معلومات کو ایک ترتیب سے ماہرین کے پاس بھیجتا ہوں۔ ابتدائی علاج کے ساتھ ہی مریض کا رابطہ مریضوں کے گروپ سے بھی ہوجاتا ہے‘‘ ڈاکٹر خرم نے تفصیل سے بتایا۔

’’ڈاکٹر صاحب ! میں نے آپ کابہت وقت لیا ہے‘‘ جاوید نے کہا ’’میں کچھ ’’ماڈل ڈایابیٹکس ‘‘ سے بھی ملنا چاہتا ہوں۔‘‘

ڈاکٹر خرم جھکا اور اپنے آفس انٹر کام پر بات کی۔ ان کی سیکرٹری مریم، چند لمحوں میں آگئیں اور جاوید صاحب کو ایک کاغذ کی شیٹ تھمادی۔

’’یہ ان چھ افراد کے نام، ایڈریس اور فون نمبرز ہیں جو اس ادارے سے استفادہ کرچکے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک آپ سے ملاقات کرکے خوش ہوگا، ان سے گفتگو کے بعد آپ ہمارے سسٹم کو بہتر طور پر سمجھنے لگیں گے‘‘ ڈاکٹر خرم نے وضاحت کی۔

’’ٹھیک‘‘ جاوید نے ڈاکٹر خرم کا شکریہ ادا کیا، فہرست دیکھی اور ان میں سے تین سے بات کرنے کا فیصلہ کیا: مسٹر طفیل، مسٹر لئیق اور بلقیس بیگم۔

Next Page : 1 , 2 , 3 4 , 5 , 6 , 7 , 8

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *