Go to Top

وسیم اکرم

Pakistani Cricketers With Diabetes

وسیم اکرم تب سے شہ سرخیوں کا حصہ بنتے آئے ہیں جب وہ 17 برس کی چھوٹی سی عمر میں آتے ہی کرکٹ کے میدان پر چھا گئے۔ گزشتہ ماہ بھی اُن کی ریٹائرمنٹ کی خبر پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بنی اور ہم نے اِسی حوالے سے وسیم اکرم کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے ایک کرکٹ ہیرو کے طور پر اُن کی زندگی کے عروج و زوال کی داستان سنی۔
جب وسیم اکرم جیسا جینئس، سخت محنتی،ریکارڈ ساز، انقلابی اور سب سے بڑ ھ کر ایک ذیابیطس ٹائپ1فرد کرکٹ کو خیر باد کہہ دے تو ’’ایک عہد کا خاتمہ ‘‘جیسے بارہا دہرائے جانے والے فقرے بھی اپنی افادیت برقرار رکھتے ہیں کیونکہ وسیم اکرم کی شخصیت کے بارے میں شاید اِس سے بہتر کوئی الفاظ لانا مشکل ہے۔ اُن کی شاندار پرفارمنس کا ہم پلہ چار دانگِ عالم میں ڈھونڈے سے بھی نہیں ملے گا ۔شاید یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں عمران اور و سیم ہی ایسے کرکٹر ہیں جنہیں بے تکلفی سے اُن کے پہلے نام سے پکارا جاتا ہے۔پہلے عمران کا ڈنکا بجتا تھا اور پھر وسیم نے اُن کی جگہ لینے کی کوشش کی ،یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ در حقیقت یہ روئس رائس جیسا شاہانہ امیج رکھنے والے پاکستانی کرکٹ کے بادشاہ عمران ہی تھے جنہوں نے وسیم کی خصوصی سر پرستی کی۔

وسیم اکرم جیسے زبردست کرکٹر کا کوئی ثانی مستقبل میں دیکھنے کو نہیں ملے گا جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے ماضی میں بھی اُن جیسا کوئی نہیں دیکھا۔
جب وہ 1984ء میں پہلی مرتبہ بین الاقوامی کرکٹ میں نمودار ہوئے تو کرکٹ کے ماہرین کے بقول ’’بال پر اُن کا کنٹرول فطرت کے تمام ضابطوں کو پیچھے چھوڑتا چلا جاتا تھا‘‘۔
اِس بارے میں لوگوں کو بعد میں معلوم ہوا کہ اُنہوں نے اپنی بائیں کلائی کے زور پر بالنگ کی ایک بالکل نئی اور انقلابی تیکنیک متعارف کرائی ہے جسے ’ ریورس سپن ‘ کہا جاتا ہے۔

وہ ایک انسان اور کھلاڑی ہونے سے کہیں پہلے ایک لیجنڈ ہیں، یہی وجہ ہے کہ 1997ء میں جب لاہور میں اُنہیں ذیابیطس ٹائپ1تشخیص کی گئی تو پوری دُنیا ئے کرکٹ سر پکڑ کر رہ گئی اور اب بھی جبکہ 37برس کی عمر میں وہ ریٹائر ہو رہے ہیں تو بہت سی آنکھیں پُر نم ہیں اور بہت سے لوگ افسردہ جن میں خود وسیم اکرم بھی شامل ہیں۔
اُن کا کہنا ہے ’’ ذیابیطس تشخیص کے وقت مجھے سخت مایوسی ہوئی کیونکہ ہر طرح سے فٹ تھا اور پورے خاندان میں کوئی ہسٹری موجود تھی اور نہ ہی دور دور تک اِس کا کوئی شائبہ‘‘۔

اُنہیں کئی مہینوں سے اندازہ تو ہو رہا تھا کہ کمزوری ، وزن میں کمی، راتوں کو بار بار اُٹھ کر پیشاب کرنے جیسی علامتوں کی صورت میں کوئی گڑ بڑ تو ضرور ہے لیکن ذیابیطس کی طرف دھیان تک نہیں گیا۔ وہ اِس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ بعد ازاں ہونے والی تشخیص اُن کے لیے کسی دھچکے سے کم نہ تھی۔

اُنہیں معلوم تھا کہ وہ کسی نہ کسی طور اِس صورتِ حال پر قابو پا لیں گے لیکن بحالی کے عمل کو تیز تر کرنے میں اُن کی اہلیہ ہما کا بہت ہاتھ ہے۔ یونیورسٹی کالج لندن سے بطور سائیکاٹرسٹ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وسیم کی مدد کرنے کے لیے شاید ہما وسیم ہی سب سے موزوں شخصیت تھیں۔
وسیم کا کہنا ہے ’’ وہ بہت زبردست ہیں، اُنہوں نے مجھے بہت جلد اپنی ذیابیطس کو قبول کرلینے میں بہت مدد دی‘‘۔

اِس کا سب سے بڑا ثبوت اِس کے علاوہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ صرف 3ہفتوں کے بعد وسیم کرکٹ کے میدان میں واپس آ چکے تھے۔ اُنہیں جلد ہی معلوم ہو گیاکہ اِس صورت حال سے نمٹنے کے لیے ورزش ایک کلیدی حیثیت رکھتی ہے جسے وہ زندگی بھر ترک کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔

’’ یہ بات کہ مجھے خود کو بہت فٹ رکھنا ہو گا میرے لیے بہت با برکت ثابت ہو ئی، فٹ رہنے سے ذیابیطس بھی کنٹرول میں رہے گی اور میں زندگی بھر اِ پنی فٹنس برقرار رکھوں گا۔ میں گولف بھی شوق سے کھیلتا ہوں جس میں بہت سی ورزش ہو جاتی ہے‘‘۔

تشخیص کے تھوڑا عرصہ بعد ہی اُنہیں اپنی جسم کی ضروریات کے بارے میں درست اندازہ ہو گیا۔ کیوں نہ ہوتا؟ وہ کھلاڑی جسے وزڈن جیسے مستند صحیفہ کرکٹ میں’’ ون ڈے انٹرنیشنل میں آج تک پیدا ہونے والابہترین باؤلر ‘‘قرار دیا گیا ہو اُس کے لیے یہ جاننا کیا مشکل تھا؟

وسیم نے’ سپیڈ، سپن اور سٹاپ ‘کی بے نظیر خوبیوں کی مدد سے و ن ڈے انٹرنیشنل میں 40,000سے زیادہ زبردست قسم کی گیندیں کرائیں جس کی قیمت اُن کے جسم کو ہرنیا، رانوں کے پٹھوں اور کندھوں میں کھچاؤ، مہروں کے درد اور دیگر بہت سی چوٹوں کی صورت ادا کرنی پڑی۔

ایک مرتبہ اُنہوں نے ہلکے پھلکے موڈ میں ایک بات کہی جو بہت مشہور ہو گئی ’’ کرکٹ نے سیروں کے حساب سے گوشت کا خراج لیا ہے۔‘‘
بادی النظر میں از راہِ مذاق کہی گئی یہ بات بہت فکر انگیز تبصرہ ہے ،بالخصوص مبینہ طور پر ذیابیطس کی وجہ سے اُن کی ریٹائرمنٹ کی حالیہ خبر کے تناظر میں( حالانکہ اِس کی کلی وجہ یہ نہیں)۔

یقیناًفروری میں پاکستان کے ورلڈ کپ سے باہر ہو جانے کے بعد سے وہ قدرے بیمار رہے ہیں لیکن اُنہیں تو ویسے بھی ورلڈ کپ کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ کو خیر باد کہہ دینا تھا جس کے بارے میں وہ گزشتہ گرمیوں ہی میں اعلان کر چکے تھے ۔اِن سب باتوں کے باوجودایک زمانے میں لنکا شائر کے ہیرو اب ہیمپشائر کے ساتھ ایک سالہ کاؤنٹی کرکٹ کا معاہدہ کر چکے ہیں اور سنسنی خیر انداز میں 2003ء کے سیزن کا آغاز بھی کر چکے ہیں ۔خبروں کے مطابق مبینہ طور پر صرف 5میچوں کے بعد ہی وسیم کو کھیل چھوڑنے پر مجبور کیا گیا جو اُن کے بقول حقیقت پر مبنی نہیں۔

’’ ہاں یہ سچ ہے کہ طبیعت قدرے نا ساز رہی تھی، مجھے گلے کی انفیکشن رہی تھی جس سے اِنسان ویسے بھی کمزور ہو جاتا ہے لیکن اصل بات یہ تھی کہ پہلے جیسا جوش و خروش کھو چکا تھا اور مجھے اِس کا احساس بھی تھا۔ میراخیال ہے کہ میں کھیل جاری رکھنا چاہتا تھا اور اِسے جاری رکھنے میں کوئی رکاوٹ بھی نہیں تھی لیکن ہیمپشائر کاؤنٹی کے حکام کو آگاہ کر دینا زیادہ موزوں اقدام تھا۔ میں اِس قسم کا فرد نہیں ہوں جو صرف اِس بات پر خوش رہتا ہے کہ چلو پیسہ تو آ رہاہے ۔ تقریباً 20برس سے کھیل رہا ہوں، فطری امرہے کہ اتنے عرصے میں انسان ویسے ہی تھک جاتاہے جس کا ذیابیطس سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ بھی معلوم تھا کہ میں کھیل جاری رکھ سکتا ہوں کیونکہ اچھی فارم میں تھا لیکن زیادہ اہم بات اُس وقت فیصلہ کرنا ہے جب فن اپنے جوبن پر ہو‘‘۔

یہ کوئی ایسا معاملہ نہیں تھا جس میں ذیابیطس کی شدت میں دِن بدن اضافہ ہورہا تھا یا وقت کا ایمپائر اُنگلی اُٹھا کر ایک تھکے ہوئے ہیرو کو آؤٹ قرار دینے جا رہا تھا ۔
وسیم بڑے اعتماد سے کہتے ہیں’’یقینا! میں نے ریٹائر منٹ کے وقت اپنا ایچ بی اے ون سی چیک کروا تو وہ6.8 %نکلا جو کہ بہت اچھا ہے، میں بالکل ٹھیک تھا لیکن آپ جانتے ہیں کہ زندگی میں بہت سے ایسے مواقع بھی آتے ہیں جب آپ کو اِس نوعیت کے فیصلے لینا پڑتے ہیں‘‘۔

سواِس طرح ایک زبردست کیرئیر اپنے اختتام کو پہنچتا ہے اور وسیم ایک ہی ٹیسٹ میں10وکٹیں لینے والے کم عمر ترین کھلاڑی ،مجموعی طور پر 414ٹیسٹ وکٹیں ،3,000ٹیسٹ رنز اور حالیہ فروری میں ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں 500وکٹیں لینے والے سب سے پہلے کھلاڑی کے اعزازات اپنے ساتھ لیے رخصت ہوتے ہیں۔

اگرچہ اُن کا کرکٹ کیرئیر توپھولوں کے گلدستے کی مانند نہیں رہا لیکن ٹیم کے ساتھیوں نے اُنہیں 500گلابوں کا تحفہ پیش کیا۔ ذیابیطس تشخیص کے آس پاس کے زمانے کو اُن کے لیے سخت ترین وقت قرار دیا جا سکتا ہے۔ وہ قبل ازیں بارہا اِس کا ذکر کر چکے ہیں اور اگرچہ اِس انٹرویو میں انہوں نے واضح طورپر اِس کا ذکر نہیں کیا لیکن اشارۃً اِس پر بات ضرور کی اور اپنے گزشتہ فکر انگیز ’’سیروں گوشت کا اخراج‘‘ والے ریمارکس کے برعکس جذباتی آواز میں ’’ شدید ذہنی دباؤ‘‘ کی اصطلاح استعمال کی۔

اگرچہ یہ امر بہت تکلیف دہ ہے لیکن جب وسیم پر کوئی تبصرہ اور بالخصوص اُن کی صحت پر کوئی بات کی جائے تو لامحالہ یہ تذکرہ بھی ضرور آئے گا کہ میچ فکسنگ کی تحقیقات میں جس طرح اُن کولمبے عرصے تک بے رحمی سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا جِس سے اُن کی ذات کے علاوہ کرکٹ کو بھی نقصان پہنچا۔ بعد ازاں اُن کو بے گناہ تو قرار دیا گیا لیکن اِس ذہنی اذیت کا اندازہ لگایئے جو اِن شہ سرخیوں اور الزامات کے ساتھ تصویریں چھپنے کے زیر اثر اُنہیں ملی ہو گی جیسے وہ کھیلوں کی دُنیا میں کسی بد ترین جرم کا ارتکاب کر چکے ہیں۔ ایک موقعہ پراُنہوں نے خود اپنا پُتلا جلتے ہوئے بھی دیکھا۔

الزام تراشی کی اِس مہم میں با عزت طریقے سے سرخرو ہو جانے کے باوجودخود اُن پر، ہما اور چھوٹے بچوں پر جوذہنی دباؤ رہا وہ ناقابلِ برداشت تھا اور یقیناًایسی صورتِ حال میں اِس کا مقابلہ کرنا اور بھی مشکل ہو جاتا ہے جب انٹرنیشنل کرکٹ کی ضروریات کے تحت آپ کو سوٹ کیس اُٹھائے صبح و شام جہاں گردی بھی کرنا ہو۔

اگرچہ اب یہ واقعات ماضی کا حصہ بن چکے ہیں اوراِن پر مزید رونے دھونے کی ضرورت نہیں لیکن وسیم کا ’’شدید ذہنی اذیت‘‘کی طرف اشارہ یقیناًسنجیدگی پر مبنی ہے ۔ شاید یہی تلخ تجربات کسی حد تک اِس بات کی وضاحت بھی کرتے ہیں کہ وہ 37برس کی عمر میں خود کو اتنا تھکا ہوا کیوں محسوس کرتے ہیں؟

اِس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اُنہیں ’’انتہائی سخت جان ‘‘کا خطاب کیوں دیا گیا، شدید چوٹیں اُن کا کچھ نہ بگاڑ سکیں، اُنہوں نے دُشنام طرازی کا جس باوقار طریقے سے سامنا کیا اور ذیابیطس تشخیص کے بعدوالے 6برسوں میں جوکرکٹ کھیلا اُس میں بہت سے زبردست ریکارڈ قائم کئے۔ اِس بات کی اہمیت اِس اعتبار سے بھی دو چند ہو جاتی ہے کہ میچ کے دنوں میں اُنہیں خوراک اور اِنسولین کی کیسی سخت پابندی کرنا پڑتی ہو گی؟

سب سے بڑی با ت یہ ہے کہ بہت سے مداحوں کے خیال میں وسیم اکرم آج تک دُنیا کے بہترین آل راؤنڈر ہیں۔
’’ بیٹنگ یا فیلڈنگ سے پہلے میں اپنے ٹیکے لگانا بھولتا ہوں اور نہ ہی ایک آدھ چاکلیٹ اپنے ساتھ رکھنا۔‘‘ اگر بیٹنگ کر رہا ہوں تو یہ اشیا ( چاکلیٹ یا جیلی بین) ایمپائر کے حوالے کر دیتا ہوں‘‘۔

پھر وہ مسکراتے ہوئے بتاتے ہیں ’’ بعض اوقات اِن میں سے کچھ ایمپائر کی جیب سے ہی غائب ہو جاتی ہیں لیکن یہ زیادہ بڑا مسئلہ نہیں ۔ بڑی با ت یہ ہے ساری دُنیا جانتی ہے کہ وسیم کو ذیابیطس ہے اور یہی بات سب سے اہم ہے۔‘‘

ذیابیطس کے ساتھ اُن کے تجربات نے اُنہیں پاکستان میں ایونٹس فارما کے تعاون سے ایک آگہی مہم شروع کرنے پر اُبھارا، جہاں اُن کے بقول ذیابیطس کے نفسیاتی دباؤ پر قابو پانے کے لیے بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔

’’ میں نے بہت سے لوگوں کے سامنے اِس پر بات کی ہے حتیٰ کہ ایسے افراد کے سامنے بھی جو مجھے ذاتی طور پر نہیں جانتے لیکن بنیادی طور پر یہ پیغام اُن کے لیے زیادہ اہمیت کا حامل ہے کہ اگر یہ جوان ذیابیطس کے باوجود کرکٹ کھیل سکتا ہے تو ہم کیوں اِس کا مقابلہ نہیں کر سکتے؟ اور اسی بات کے پیشِ نظر میں نے مہم کو جاری رکھنے کے معاہدے کی تجدید کی ہے‘‘۔

’’ اب تو میں خود ایک مکمل ڈاکٹر بن چکا ہوں کیونکہ مجھے اِس بارے میں اتناعلم حاصل ہو چکا ہے کہ جو عام حالت میں ممکن نہ تھا۔ مجھے یاد ہے کہ جب ذیابیطس تشخیص ہوئی تو کچھ نہیں جانتا تھا، مجھے وہ صدمہ بھی یاد ہے اور یہ سوچ بھی کہ شاید کبھی بھی خود کو ذیابیطس کے تقاضوں کے مطابق نہ ڈھال پاؤں۔ اب تو یہ عالم ہے کہ کہیں جاتے ہوئے ٹوتھ برش وغیرہ اُٹھانے سے پہلے ذیابیطس نگہداشت کا سامان اپنے ساتھ رکھنے کے بارے میں سوچتا ہوں۔‘‘

وسیم کا کیرئر ایک زبردست سفر ہے جس میں بہت سے غیر ضروری رکاوٹیں بھی آئیں۔ عمران کے بعد اُن کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اُس وقت کپتانی کا ناقابلِ رشک فریضہ بھی سنبھالنا پڑا جب کھلاڑی شہنشاہ (عمران ) کے بعد ایک دوسرے انداز میں چلنے کے عادی ہو چکے تھے ۔یہی وجہ ہے کہ اُنہوں نے وسیم کے خلاف بغاوت کر دی۔
اُنہیں دفاعی انداز میں بیک فٹ پر جانے پر مجبور کئے جانے کے مقابلے پر اپنی فرنٹ فٹ کی شہرت کی بنا پر یاد رکھا جائے گا جہاں وہ ہراساں بیٹسمین کے سامنے تلوار سونتے کھڑے نظر آتے ہیں۔

وسیم نے برسہا برس فرسٹ کلاس کرکٹ کا لطف اٹھایا لیکن اُن میں سے بہترین لمحات کو دُہرانے میں اُنہیں بہت زیادہ وقت نہیں لگا۔
’’ 1992ء کا ورلڈ کپ بہت زبردست تھا‘‘۔ وہ اُن لمحات کو یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں جب پاکستان کی ٹیم عمران کی قیادت میں انگلینڈ کی صفوں کو درہم برہم کر رہی تھی اور آسٹریلین فلڈ لائٹ کی روشنیوں میں اُس ورلڈ کپ کو جیتنے میں وسیم نے بھی نمایاں کردار ادا کیا ۔

کرکٹ وسیم کی گھٹی میں پڑا ہوا ہے اور وہ بتاتے ہیں کہ اُنہیں ویوین رچرڈ جیسے کرشماتی کھلاڑی کے خلاف بالنگ کرنے کا موقعہ بھی ملا ہے جو اُن کے نزدیک ’’ دُنیاکے بہترین ‘‘ بیٹسمین ہیں۔ وہ اپنے بارے میں اِس تاثر کو درست نہیں سمجھتے کہ بہت سے لوگوں کے نزدیک وہ دُنیا کے بہترین آل راؤنڈر ہیں ۔
وہ بڑی سادگی سے جواب دیتے ہیں ’’نہیں ! میرے خیال میں کپِل دیو اِس اعزاز کے مستحق ہیں، میں تو اُن کی گرد کو بھی نہیں پہنچتا۔‘‘

اِس لیجنڈ کی کمال درجے کی سادہ مزاجی کے سبب شائقین اُنہیں زیادہ عرصہ کرکٹ سے دور نہیں رہنے دیں گے۔ اب بھی ذرائع ابلاغ میں بہت سی درخواستیں شائع ہو رہی ہیں جن میں اُن سے پاکستان میں کوچنگ شروع کر نے کی التماس کی جا رہی ہے ۔وہ کہتے ہیں ’’ مجھے ذیابیطس کے بارے میں شعور پیدا کرنے کے کام کی اہمیت کو سمجھتا ہوں لیکن کرکٹ سے میرا رابطہ بھی اٹوٹ ہے‘‘۔
یقیناًاُنہیں یہ رابطہ برقرار رکھنا چاہیئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *